Image

علامہ کا خواب اور کمیشن مافیا

حکیم الامت شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 146واں یوم پیدائش آج کے دن منایا جاتا ہے علامہ محمداقبال 9نومبر1876 کو اقبال منزل سیالکوٹ میں پیدا ہوئے وہ عربی اور فارسی کے مایہ ناز شاعر تھے جنہوں نے قیام پاکستان میں اپنا اہم کردار ادا کیا اور مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکی انہوں نے جو پاکستانکا خواب دیکھا تھا اسکی تعمیر میں ہم ناکام ہو چکے ہیں جن اداروں نے پاکستان کو مضبوط ،پائیدار اور ناقابل تسخیر بنانا تھا وہ سب کے سب اپنی اپنی دیہاڑیوں میں مصروف ہو گئے اقتدار کے پجاریوں نے اپنی بات من وعن منوانے کے لیے جونیئرافسران کو اعلی عہدوں پربٹھا کر رہی سہی کسر بھی پوری کردی نہ تو یہ علامہ اقبال کا خواب تھا اور نہ ہی قائد اعظم کا مشن ہمارے تعمیر و ترقی کے اداروں نے کرپشن کے ریٹ مقرر کررکھے ہیں۔ نالی کی تعمیر سے لیکر موٹروے تک میں کرپشن کی انگنت کہانیاں ہیں ۔لوکل گورنمنٹ سے لیکر پی ڈبلیو ڈی تک سبھی اس کرپشن کے حمام میں ننگے ہیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ و تعمیرات کے اجلاس کی کہانی سب پول کھول کر واضح کردیتی ہے کہ یہاں پر لٹیروں کی کوئی کمی نہیں ۔کمیشن مافیانے پوری طرح پنجے گاڑے ہوئے ہیں یہاں صرف سیاستدان ہی کرپٹ نہیں بلکہ سرکاری ملازمین بھی ان سے پیچھے نہیں ہیں سینٹ کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سینیٹر ہلال الرحمن نے انکشاف کیا کہ پی ڈبلیو ڈی ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے پی ڈبلیو ڈی نے بہت بڑی چوری کی انکے افسران نے وزٹ کے بغیر مہمند میں پراجیکٹس کا پی سی ون بنایا انکے پاس کسی سکیم کا این او سی نہیں، 28 مارچ 2018 میں 48 کروڑ کا ایک ٹینڈرپی ڈبلیوڈی نے کھولا اور ایک دن بعد ورک آرڈر جاری کردیا پراجیکٹ میں وہ پائپ ڈالا جو پاکستان میں موجود ہی نہیں ہے اور اپنی اس چوری کو قانونی شکل دینے کے لیے انکے افسر میرے گھر آئے اور مجھے رشوت دینے کی کوشش کرتے رہے پی ڈبلیو ڈی میں مافیا بیٹھا ہوا ہے یہ دو تین کنٹریکٹرز کو ہی سکیمیں دیتے ہیں۔ کرپشن میں ملوث افسران کودوبارہ بحال کر دیاجاتا ہے یہ تو تھی سینٹر کی رپورٹ جو ریکارڈ پر آچکی ہے اسکے علاوہ صوبائی سطح پر کام کرنے والے جتنے بھی ادارے ہیں جہاں کاموں کے لیے ٹینڈر ہوتے ہیں سب کا یہی حال ہے ہمارے دیہاتوں میں تو نالیاں ،سیوریج ،سولنگ اور سڑکیں بنتی ہی نہیں اور بل پاس ہوجاتے ہیں اور جہاں یہ چیزیں بن بھی جائیں تو چند دنوں بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں ایم این ایز کو جو ترقیاتی فنڈ جاری ہوتے ہیں وہ بھی اپنے من پسند ٹھیکیداروں کے ذریعے معقول رقم لیکر کام کرواتے ہیں جب کسی ٹھیکیدار کو کوئی کام الاٹ ہو جاتا ہے تو پھر کمیشن کی ابتدا بھی شروع ہو جاتی ہے ورک پرمٹ سے لیکر سیکیورٹی واپس لینے تک کمیشن ہی کمیشن ہوتا ہے سی این ڈبلیو ،ایریگیشن ،لوکل گورنمنٹ اور پی ڈبلیو ڈی سمیت سبھی ترقیاتی اداروں میں کمیشن کے بغیر کام ملتا ہے اور نہ ہی پایہ تکمیل تک پہنچ پاتا ہے محکمہ انہار کے ٹھیکیدار تو کروڑوں کا بجٹ پانی کی نظر کردیتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں بلکہ سبھی اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرکے خاموشی کا طوق گلے میں پہنے چین کی بانسری بجا رہے ہیں وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہم اپنے مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہوئے ہیں۔ ہماری انہی حرکتوں کی وجہ سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہاں قانون کی نہیں بلکہ اشرافیہ کی حکمرانی ہے یہاں کوئی رول آف لا نہیں آدھی سے زیادہ ہماری زندگی ڈکٹیٹرشپ میں گزری آئین کی عمل داری اسی وقت ہو سکتی ہے جب مائنڈ سیٹ تبدیل ہو ۔سیاسی لیڈرشپ آئین کی عمل داری کو مضبوط کر سکتی ہے اسی طرح کی ایک اور رپورٹ جو سانحہ مری کے حوالہ سے ہے اسے بھی پڑھ لیں کہ ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے ریسکیو1122، پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پنجاب ہائی وے اتھارٹی کو سانحہ مری کا براہ راست ذمہ دار قرار دیاہے جسٹس چودھری عبدالعزیز کے فیصلے کے مطابق سانحہ میں 23 سیاح جاں بحق ہوئے جس میں ایک ہی فیملی کے 8 افراد بشمول بچے بھی شامل تھے۔عدالت نے مری میں غیر قانونی تعمیرات، کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر درختوں کی کٹائی پر پابندی عائد کردی اور ریسکیو1122، پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پنجاب ہائی وے اتھارٹی کو سانحہ مری کا براہ راست ذمہ دار قرار دے دیا کہ جن افسران کو محکمہ موسمیات کی جانب سے شدید برف باری کی پیش گوئی کی اطلاع تھی وہ سب افسران بھی ذمہ دار ہیں عدالت نے حکم دیا کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ہائی وے ڈیپارٹمنٹ معاملات چیک کرائیں اور سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات پر مقدمات درج کرکے ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لیں کیا یہی وہ پاکستان ہے جسکا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا جسکی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے کیا ہمارے احتساب کے ادارے بے حس ہو چکے ہیں یا پھر کمیشن مافیا کا حصہ بن کر پاکستان کو کھوکھلا کرنے میں مصروف ہیں اوپر میں نے جونیئر افسران کی تعیناتی پر لکھا تھا کہ حکومت ایسے کمزور افراد کو اوپر لاکر اداروں کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مرضی کے کام بھی کرواتی ہے ۔اس وقت مرکز اور صوبوں کے بہت سے اداروں میں ایسے ہی افراد کو تعینات کررکھا ہے کچھ دلیر اور محب وطن افراد ان غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف سینہ سپر بھی ہوجاتے ہیں جیسے آجکل پنجاب میں جیلوں کے نئے آئی جی کی تعیناتی پرہورہا ہے سابق آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے اس محکمہ کا قبلہ درست کرنے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھائے وہی ایک بار پھر اس محکمہ کی سمت درست کرنے کے ایک بار پھر میدان میں نکلے ہوئے ہیں انکی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب ملک مبشر کی میرٹ کے برعکس تعیناتی کیخلاف درخواست پر پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر رکھا ہے۔ ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران سابق آئی جی جیل میاں فاروق نذیر کے وکیل اصغر گل نے دلائل دیئے کہ آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر کو میرٹ کے برعکس تعینات کیا گیا جبکہ سابق آئی جی میاں فاروق نذیر اکیسویں گریٹ کا افسر اور اہلیت کے معیار پر پورا اترتا ہے جبکہ موجودہ آئی جی جیل خانہ جات بیسویں گریٹ کے جونیئر افسر ہیں اور انہوں نے تعیناتی کیلئے لازم نیشنل مینجمنٹ کا کورس بھی مکمل نہیں کیاہوا۔یہ تعیناتی سیاسی بنیادوں پرکی گئی عدالت تعیناتی کالعدم قرار دے یہ ایک محکمے کا نہیں بلکہ سبھی محکموں کا حال ہے ہم علامہ اقبال کے پاکستان سے کوسوں دور ہیں کاش انکا خواب سچ بن جائے اور ہم ایک خوشحال پاکستان میں قدم رکھ سکیں ۔