Image

پاکستان کسی کی جاگیر جو عوام حکمرانوں کے سامنے جھک جائیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سرکاری املاک اور دستاویزات پر سیاستدانوں اور پبلک آفس ہولڈرز کی تصاویر چسپاں کرنے پر پابندی عائد کر دی۔سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی کچی آبادی سے متعلق فیصلہ جاری کر دیا، فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ سرکاری وسائل پر ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پاکستان کسی کی جاگیر نہیں جہاں عوام حکمرانوں کے سامنے جھک جائیں، جمہوری ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے چوکنا رہنا ہوگا، سرکاری املاک پر ذاتی تشہیر کے لیے تصاویر چسپاں کرنا اخلاقی اقدار کو مجروح کرتا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام چیف سیکریٹریز اور وفاقی انتظامیہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے۔سپریم کورٹ میں ریکوڈک صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ منصوبے میں سرمایہ کار بیرک گولڈ کمپنی کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ ریکوڈک منصوبے سے مال جیسے ہی پورٹ پر پہنچے گا 85 فیصد ادائیگی ہوجائے گی، مال کی بقیہ پندرہ فیصد ادائیگی منزل پر پہنچ کر مارکیٹ ریٹ اور کوالٹی کے مطابق ہوگی۔مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر ریکوڈک منصوبے سے کاپر اور سونے کے علاوہ کوئی معدنیات نکلی تو طریقہ کار معاہدے میں درج ہے، اگر ریکوڈک منصوبے سے کوئی نایاب معدنیات نکلی تو حکومت مارکیٹ ریٹ پر خرید لے گی، اگر ریکوڈک منصوبے سے کوئی اسٹریٹیجک معدنیات برآمد ہوئیں تو حکومت مفت لے سکے گی، اگر زمین حاصل کی گئی تو ادائیگی کمپنی کرے گی جبکہ حکومت سہولت فراہم کرے گی۔وکیل بیرک گولڈ کمپنی نے کہا کہ مرکزی شاہراہوں کی تعمیر اور مرمت حکومت جبکہ نوکنڈی سے پراجیکٹ تک سڑک کی تعمیر کمپنی کے ذمے ہوگی، شاہراہیں صرف پراجیکٹ نہیں بلکہ عام عوام بھی استعمال کرسکے گی، بارڈر، صوبے اور ضلع میں سیکورٹی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہوگی جبکہ پراجیکٹ کے اندر سیکورٹی کمپنی کے ذمے ہوگی، ریکوڈک منصوبے سے مال کرش کرکے پانی کی لائن کے ذریعے پورٹ پر پہنچے گا، ریکوڈک منصوبے کی کنسٹرکشن کا ایک فیصد جبکہ سالانہ آمدن کا 0.4 فیصد سماجی شراکت داری پر خرچ ہوگا۔وکیل نے کہا کہ منصوبے کی تعمیر پر 7500 جبکہ آپریشنز پر 4000 نوکریاں ملیں گی، کمپنی ریکوڈک منصوبے کو مکمل شفاف اور قانون کے مطابق کرنا چاہتی ہے، اگر حکومت کوئی رعایت ختم کرتی ہے تو وہ خفیہ نہیں بلکہ پبلک نوٹس کے ذریعے کھلے عام فیصلہ کرے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں پچاس فیصد شیئرز پاکستان کے ہیں تنازعے سے پاکستان کو بھی اثر پڑے گا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ حکومت پاکستان جو کرے وہ بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھ کر کرے ورنہ کمپنی پھر عالمی ثالثی فورم پر چلی جائے گی، پاکستان کے عدالتی نظام اور عالمی نظام انصاف میں بہت فرق ہے، پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان کے نظام انصاف پر اعتماد کرنا چاہیے، پاکستان کے نظام انصاف میں بہتری کے لیے بہت اقدامات کیے گئے نتائج کچھ وقت کے بعد نظر آئیں گے۔وکیل بیرک گولڈ کمپنی مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کرلیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی۔