ہماری سنی نہیں جاتی، عوام کو لے کر دھرنا دوں گا، اپوزیشن لیڈر

گلگت ، اپوزیشن لیڈر کاظم میثم نے اسمبلی اجلاس میں ایک بار پھر 5 جولائی کو گلگت بلتستان اسمبلی کی توقیر اور تکریم کی پامالی پر بات کرتے ہوئے سپیکر سے سوال کیا کہ میں دو ماہ سے 5 جولائی کے حوالے سے تین قرار دادیں جمع کروا چکا ہوں لیکن وہ قرار دادیں ٹیبل نہیں ہوتی ہیں۔ آخر کون ہے جو قراردادوں کو اسمبلی میں آنے سے روک رہا ہے۔ 5 جولائی کو اس ایوان میں جو کچھ ہوا وہ گلگت بلتستان پر بم گرانے کے مترادف تھا۔وہ کون ہے جو نہیں چاہتا ہے کہ اس مقدس ایوان کا تقدس بحال ہو۔ فرد واحد نے اس اسمبلی پر تالے لگوائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 5 جولائی کو مجھے گرفتار کرنے کی دھمکی د گئی، میں نے کہا اگر قتل بھی کرنا ہے تو کریں لیکن اسمبلی سے باہر نہیں جاونگا اور میں نہیں گیا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی ممبران کی یہ اوقات رہ گئی ہے کہ یہاں سے منظور عوامی نوعیت کی سکیموں کو ایک کلرک اڑا دیتا ہے۔ بشو آر سی سی پل جو میری سکیم تھی ایک بابو نے اڑا دی۔ تین سال تک اس کو ڈھونڈتے رہے۔ تین پرائمری سکولوں کو اے ڈی پی سے غائب کروایا آخر یہ کس کی ایماءپر کیا جارہا ہے۔ میں حکومت کو کمزور نہیں کرنا چاہتا میں چاہتا ہوں آپ کی عزت ہو انہوں نے مزید کہا کہ ایک سکیم کے لئے سابق وزیر اعلیٰ سے تین بار سفارش کروائی لیکن نہیں سنی گئی۔انہوں نے مزید کہا سوچا ہے اب عوام کو لیکر شاہراہِ بلتستان پر دھرنا دونگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک اسسٹنٹ کمشنر کے پاس 46 پولیس اہلکار سیکورٹی گارڈز ہیں جبکہ ایک اور اسسٹنٹ کمشنر کے پاس 26 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ اور اسمبلی ممبر کے ساتھ ایک گن مین ہے۔یہ نظام ایسے نہیں چل سکتا ہے۔