ایس او پیز اور گلگت بلتستان

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و این سی او کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کل پہلی بار ایک دن میں ویکسین لگانے کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں اسد عمر نے کہا کہ کل ایک لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگائی گئی مجموعی طور پر ویکسین لگوانے والوں کی مجموعی تعداد ستائس لاکھ چھیاسٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی کل پہلا دن تھا کہ چالیس سال اور اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ،ملکی تاریخ میں ایک دن کے اندر لگائی جانے والی ویکسین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے فوج کی تعیناتی سمیت مضبوط نفاذ کے اقدامات سے ایس او پیز میں بہتری آئی ہے۔ ایس او پیز پر عمل پیرا ہونے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، قومی سطح پر ایس او پیز کی تعمیل 25اپریل کوچونتیس فیصد تھی،تین مئی کو اڑسٹھ فیصد ہوگئی۔اسد عمر نے کہا کہ عید تک ایس او پیز کی تعمیل کی سطح کو برقرار اور استوار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسد عمر کے مطابق ایس او پیز پر تین مئی تک عملدرآمد سب سے زیادہ اٹھاسی فیصد وفاق میں ہوا ، سب سے کم ایس او پیز پر عمل درآمد سندھ میں پنتالیس فیصد رہا۔اسد عمر نے کہا کہ پنجاب میں ایس او پیز پرانہتر،کے پی میں چھیاسٹھ ، بلوچستان میں تریسٹھ فیصد عملدرآمد کیا گیا، دوسرے نمبر پر آزاد کشمیر میں ایس او پیز پر بیاسی فیصد عملدرآمد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کورونا ایس او پر باسٹھ فیصد عملدرآمد کیا گیا ۔پاکستان میں جب سے کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں تب سے ایس او پیز کی گردان روزانہ میڈیا اور روز مرہ زندگی میں سنی جا رہی ہے۔ یہ ایس او پیز سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کا مخفف ہے اور عام الفاظ میں اس کا مطلب ایک معیار کے مطابق کام کرنے کا ضابطہ کار ہے۔ان ایس او پیز کا مطلب بنیادی طور پر ایسے اقدامات یا ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہے جس پر عمل کر کے اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔ یہ ایس او پیز قومی ادارہ صحت نے دیگر محکموں اور اداروں کی مدد سے تیار کیے ہیں اور انہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے طور پر جاری کیا ہے۔ قومی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق اب تک دو درجن کے قریب ایسے ایس او پیز جاری کیے جا چکے ہیں۔ان ایس او پیز یا رہنما اصولوں میں کورونا وائرس کے بارے میں نئے اور حیران کن انکشافات سامنے آنے کے بعد ترامیم کی جا رہی ہیں۔ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر مختلف شہروں میںکارروائیاں جاری ہیں۔حکام کا کہنا ہے کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں، خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔این سی او سی کے اجلاس کے دوران ملک بھر میں بڑھتے کورونا کیسز اور اموات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور کہا گیا کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی اسی طرح جاری رہی تو مختلف شعبے بند بھی کیے جاسکتے ہیں۔اجلاس میں تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی۔این سی او سی کا کہنا تھا کہ ہائی رسک سیکٹرز ٹرانسپورٹ، مارکیٹس ،شادی ہالز، ریسٹورنٹس اور عوامی اجتماعات پر خصوصی توجہ دی جائے اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے۔ ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلے کویقینی بنایا جائے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ کورونا وائرس سے متعلق ایس او پیز کو نظر انداز کرنے سے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے روزانہ کورونا سے اموات کی شرح بارہ فیصد تھی اور کچھ ہفتے پہلے کی نسبت 140فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کورونا وائرس کے ایس او پیز کو نظر انداز کرنے سے نتائج سامنے آ رہے ہیں، اگر ہم نے اپنا طرز عمل نہ بدلا تو ہم زندگیوں اور ذریعہ معاش سے محروم ہوجائیں گے۔کروناکی تیسری لہر اپنے عروج پر ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں۔یہ لہر پاکستان میں اپنی ہولناکیاں پھیلا رہی ہے۔ اس وقت بھی ہمیں پہلی لہر والی احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی۔ کروناایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کروناکیسزبڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اب تو صورتحال اس حد تک خطرناک ہوچکی ہے کہ ہسپتالوں کے آئی سی یوز بھر چکے ہیں اور مریضوں کی بڑی تعداد وینٹی لیٹرز پر جا رہی ہے، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ زیادہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وینٹی لیٹرز کی بھی کمی ہوگئی ہے جبکہ آکسیجن کی طلب بڑھنے سے بھی مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ میڈیا کے ساتھ ساتھ علما کرام سے بھی مدد  لینا ہو گی،کیونکہ ایسے معاملے میں مذہبی پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ علما کرام بھی لوگوں کی ذہنیت بدلنے اور مثبت کردار ادا کرنے میں اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام کی جانب سے آگاہی پھیلانے سے بھی عوام اسے سنجیدہ لیں گے۔حکومت کو بھی چاہیے کہ میڈیا سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کی بیٹھک بلائے اور انہیں اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اپیل کرے۔ ہماری سکیورٹی فورسز کو طلب کیا گیا ہے تاکہ کروناایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ کرونا وبا ایک خطرناک وائرس ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اگر کسی گھر کا ایک فرد بھی اس وائرس کا شکار ہوگیا تو پھر ایک کے بعد ایک شخص اس میں مبتلا ہو گا۔کورونا وبا کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لینا ہوگا کیونکہ اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ یہ وبا بھی ایسے ہی ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے، تیسرے سے چوتھے اور سینکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں افراد تک پھیل چکی ہے۔حکومت مختلف آپشن پر غور کرے اور اس پر عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے سخت اقدامات کرے۔اس وقت بھی ہمیں پہلے والا جذبہ چاہیے تاکہ اس تیسری لہر کو شکست دی جا سکے۔کئی ممالک میں کروناوائرس سے بچا کے لئے اس ملک کے باشندوں کو فری ویکسین لگا دی گئی ہے۔ویکسین زیادہ سے زیادہ منگوا کر بلاتفریق شہریوں کو لگانی چاہیے۔ ہمیں فری کی ویکسین کا انتظار نہیں کرنا، اس پر فوری اقدامات کرتے ہوئے ویکسین کی خریداری کے لئے بجٹ مختص کرنا ہوگا۔اس وقت ہماری جانیں قیمتیں ہیں نہ کہ پیسے۔ صحت کی اچھی سہولیات دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت عوام سے بھاری ٹیکسز وصول کرتی ہے، آئے روز کبھی آٹا، کبھی چینی، کبھی پٹرول، گیس اور پانی مہنگا کر دیا جاتا ہے۔ خدارا کچھ ایسی پالیسی اپنائیں کہ کروناسے بچا کے لئے ویکسین منگوائیں اور قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائیں۔ کورونا ویکسین ایک دن کے بچے سے لے کر بزرگوں تک کو لگنی چاہیے، بزرگوں کے ساتھ ساتھ ہماری نئی نسل بھی قیمتی ہے،ہمارا آنے والا مستقبل بھی بیش بہا قیمتی ہے جنہوں نے ڈاکٹری کی، انجینئرنگ کی اور اعلی تعلیم حاصل کیں۔موجودہ صورتحال میں بچے، بڑے اور بزرگ کروناوائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں۔بڑے شہروں میں کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارے ہسپتال بھر گئے ہیں، وہاں گنجائش ختم ہوگئی ہے، جو کہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔حکومت نے پہلے بھی کروناکے مریضوں کے لئے خصوصی ہسپتال بنائے تھے، اب بھی ایسے ہی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایس او پیز پر من و عن عمل درآمد کرنا ہوگا۔کرونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں حکومت کا فوج سے مدد لینا ایک احسن اقدام ہے کیونکہ فوج ہر مشکل گھڑی میں ہمیشہ اپنی قوم کے کام آئی ہے اور عوام بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ اگر ہم سختی سے عمل درآمد نہیں کریں گے اور بیماری تیزی سے پھیل جائے گی اور ہمارا پوری دنیا سے رابطہ کٹ جائے گا ہمیں پہلے کی طرح سختی سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہے اور اپنے پیاروں کو اس مہلک وبا سے بچانا ہے۔جی بی کے حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے کہ یہاں کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کی شرح خاصی بہتر ہے اگر اسے مزید بہتر بنایا گیا تو گلگت بلتستان کرونا فری ہو سکتا ہے اس کے لیے عوام کو اپنی ذمہ داریاں پورا کرنا ہوں گی انہیں جان لینا چاہیے کہ ان کی زندگی ان کے پیاروں کے لیے بہت قیمتی ہے اسے کرونا کی بھینٹ چڑھانے سے گریز کیا جائے۔