لاک ڈائون پر عملدرآمد کیلئے حکومت ادائیگی کرے، ہوٹلز مالکان،تاجرتنظیمیں

گلگت بلتستان ہوٹلز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے عوامی ایکشن کمیٹی اور تاجر تنظیموں کے رہنماوں کے ہمراہ گلگت سینٹرل پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل انڈسٹری گلگت بلتستان کی واحد انڈسٹری ہے جوکہ گلگت بلتستان میں ہزاروں بیروزگار اور غربت گھرانوں کے لئے کفالت کا ذریعہ ہے گزشتہ دو سالوں سے کرونا وبا سے یہ صنعت شدید متاثر ہوئی حکومتی سطح پر یقین دہانی کے باوجود ہوٹل انڈسٹری کے نقصان کے ازالے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا اور اس سال علاقے میں سیاحت کا سیزن شروع ہوتے ہی ایک دفعہ پھر کرونا کو جواز بناکر لاک ڈاؤن کا فیصلہ مقامی تاجروں، ہوٹل مالکان ، ٹرانسپورٹ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کا معاشی قتل ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں کرونا صورت حال ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت بہتر ہے لہذا گلگت بلتستان میں مکمل لاک ڈاؤن کا کوئی جواز نہیں بنتا اگر پھر بھی کسی قسم کے خدشات ہیںتو حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے دیگرعلاقوں سے  آنے والوں کی چیکنگ کو یقینی بنائے۔ تمام سٹیک ہولڈرز نے گلگت بلتستان بھر میں کرونا ایس و پیز پر عمل درآمد کے ساتھ کاروباری مراکز اور ہوٹلز کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ لہذا حکومت اور انتظامیہ نے زبردستی بند کرانے کی کوشش کی تو تمام تر حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اگر موجودہ حالات میں ہوٹل انڈسٹری اور دیگر کاروباری مراکز کو بند کرنا ناگزیر ہے تو جتنے دن لاک ڈائون ہوگا اتنے دنوں کا 50 فیصد چارجز حکومت ادا کرے اور سابق بقایہ جات بھی ادا کیے جائیںصوبائی حکومت موجودہ صورتحال میں صوبائی سطح پر اقدامات کو یقینی بنائے وفاقی فیصلے جی بی سے مما ثلت نہیں رکھتے آج حکومت ہمیں ریلیف دے تو ہم بھی مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دینگے۔