سترسالہ محرومیاں، 7ماہ میں ازالہ ممکن نہیں، سینئر وزیر

سینئر وزیر راجہ ذکریاخان مقپون نے کہاہے کہ شتونگ نالہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس اہم منصوبے پر جلد کام شروع ہوگا ہم شتونگ نالہ سدپارہ ڈیم میں شامل کرانے کیلئے دن رات ایک کرکے کوششیں کررہے ہیں پانی اور بجلی ہمیں بھی چاہیئے ہم بھی سکردو میں رہتے ہیں ہم شتونگ نالہ کی اہمیت وافادیت سے اچھی طرح واقف ہیں کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شتونگ نالہ بہت بڑا منصوبہ ہے یہ کوئی مذاق نہیں اس پر کام شروع ہونے میں وقت لگتا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے منصوبہ چھ سے سات سال میں مکمل ہوگا شتونگ نالہ ڈیم میں شامل ہونے کے بعد سکردو میں آبپاشی کیلئے وافر مقدار میں پانی دستیاب ہوگا توانائی کا بحران بھی ختم ہوگا ہم ایوان میں عوام کی خدمت کیلئے بیٹھے ہیں مسائل کے حل کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کیاجارہاہے ہماری حکومت عوام کی فلاح وبہبود کیلئے بڑے پیمانے پرکام کررہی ہے یہاں انصاف کا نظام لایا جارہاہے ماضی میں یہاں ایک میگاواٹ بجلی کا اضافہ نہیں کیا گیا جن لوگوں نے ماضی میں سستی کی اور توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے حکمت عملی تیار کرنے کیلئے نہیں سوچا وہ آج ہمیں بھاشن دے رہے ہیں جس پر دکھ ہوتاہے ہمارا علاقہ بہت ہی چھوٹا علاقہ ہے یہاں کس نے کیا تیر مارا اور کون کیا ہے سب کو معلوم ہے ہم تنقید برائے تنقید کی سیاست کرکے وقت برباد کرنا نہیں چاہتے ہم اقتدار میں لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے نہیں آئے عوام کی بلاتفریق خدمت کرکے دنیا وآخرت میں سرخروہونا چاہتے ہیں بعض لوگ اپنی ناکامی چھپانے کیلئے اہم مذہبی شخصیات کو غلط بریفنگ دے رہے ہیں لوگوں سے ہماری اپیل ہیکہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں میڈیا کا دور ہے تھوڑی سی غلط فہمی بڑے مسائل جنم  لے سکتی ہے انہوں نے کہاکہ وزیراعلی خالد خورشید ایک بہترین منتظم کے طورپر آگے بڑھ رہے ہیں ان کی قیادت میں ہماری حکومت گلگت بلتستان میں تعمیر وترقی کا نیا سفر شروع کرچکی ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں وقت دیا جائے مسائل حل نہ ہوئے تو بیشک ہم قصوروار ہونگے سات ماہ میں اگر کوئی ہم سے ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تو یہ ممکن نہیں ہے ماضی کی حکومتیں عوام کو دھوکہ دیتی رہیں ہم کم ازکم ایسا ہرگز نہیں کریں گے