شہباز آف لوڈ، بیرون ملک نہ جاسکے، عدالتی فیصلہ چیلنج کرینگے،حکومت

مسلم لیگ ن کے صدراور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف دوحہ کے راستے برطانیہ جانے کے لئے پرواز نہ کر سکے۔ ائیر پورٹ سے بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد ایف آئی حکام نے آف لوڈ کر دیاجبکہ حکومت نے شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو علی الصبح دوحہ کے راستے برطانیہ جانے کے لئے لاہور ایئرپورٹ پہنچے ،بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد ایف آئی اے نے شہباز شریف کو آف لوڈ کردیا ،اس موقع پر  شہباز شریف نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ون ٹائم بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔ عطاللہ تارڈ نے حکام کو عدالتی فیصلہ دکھایا اور پڑھ کر بھی سنایا، مگر مریم اورنگزیب اور عطااللہ تارڈ ایف آئی اے حکام کو قائل نہ کرسکے،ایف آئی اے حکام کاکہنا تھا کہ ہمارے سسٹم میں آپ کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے۔ ایف آئی حکام کے روکے جانے کے بعد شہباز شریف کو آف لوڈ کرنے کا فارم آرڈر بھی جاری کر دیا گیا۔جس کے بعد شہباز شریف واپس ماڈل ٹائون اپنی رہائش گاہ چلے گئے جبکہ قطر ائیر لائن کی پرواز کیو آر 621 اپنے مقررہ وقت چار بجکر پچاس منٹ پر لاہور سے دوحہ کے لئے پرواز کرگئی،ایف آئی اے حکام کی جانب سے شہبازشریف کو روکے جانے پر لیگی رہنما عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ زلفی بخاری کا نام ڈیڑھ گھنٹے میں ای سی ایل سے نکل سکتا ہے، شہبازشریف کا نام ای سی ایل میں نہیں تھا، نیب نیازی گٹھ جوڑ کا پل شہزاد اکبر ہیں، یہ سلیکٹڈ حکمران کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں،ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ  شہباز شریف کو روک کر شہزاد اکبر نے عمران خان کے حکم پر عمل کیا، بلیک لسٹ کی قانونی حیثیت نہیں، شہزاد اکبر اور فواد چوہدری کے بیانات آرہے تھے کہ عدالتی حکم نہیں مانتے، اس لیے شہزاد اکبر نے عمران صاحب کے حکم پرعملدرآمد کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح شہبازشریف اورسیاسی مخالفین ہیں، چھوٹے لوگ بڑے عہدے پر آجائیں تو ایسا ہی ہوتا ہے لیکن گھبرا نے کی ضرورت نہیں، عوام نے ان کو مسترد کردیا ہے، اب ان کو مسلم لیگ ن کے متحد ہونے کا خوف ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کیا شہباز شریف کو روکنے سے عوام کی مشکلات ختم ہوجائیں گی، وہ آج نہیں تو دو دن بعد چلے جائیں گے، ایسی چھوٹی حرکتیں کرکے حکومت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا کہ   بلیک لسٹ میں نام ڈالنا یا نکالنا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کا اختیار ہے،  وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ   شہباز شریف کے وکلاء  کی طرف سے عدالتی فیصلے کی بلیک لسٹ سے نام نکلوانے کی ابھی تک کوئی درخواست ڈی جی ایف آئی اے کو نہیں دی گئی، صرف زبانی باتوں پر ریکارڈ میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ حکومت نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کریگی۔