مسلم ممالک کا اقوام متحدہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ کشیدگی کے دوران ممکنہ جرائم کی ذمہ داری عائد کرنے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ

 نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم ممالک نے اقوام متحدہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان 11 روزہ کشیدگی کے دوران ممکنہ جرائم کی ذمہ داری عائد کرنے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے. غیر ملکی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستان کی جانب سے اسلامی تعاون کونسل (او آئی سی) کے بطور کوآرڈینیٹر اور ریاست فلسطین کی درخواست پر حالیہ کشیدگی پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا خصوصی اجلاس آج جمعرات کو منعقد ہوگا ان ممالک نے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں 13 اپریل سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد بین الاقوامی کمیشن تشکیل دینے کے لیے قرارداد کا مسودہ جمع کروایا.قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن قومیت، نسلی یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر منظم امتیاز اور جبر سمیت عدم استحکام اور کشیدگی کی تمام وجوہات کا جائزہ لے آزاد ٹیم کشیدگی کے دوران فرانزک مواد سمیت جرائم کے ثبوت اکٹھے کرے گی اور ان کا جائزہ لے گی تاکہ قانونی کارروائی میں اس کو تسلیم کرنے کے امکان کو زیادہ سے زیادہ کیا جاسکے. جون 2022 میں دوبارہ رپورٹ کرکے ٹیم کوشش کرنے اور اس جارحیت کے خاتمے کے ذمہ داران کا تعین کرے گی اور قانونی احتساب کو یقینی بنائے گی جنیوا میں اقوام متحدہ کے لیے اسرائیل کی سفیر میرو ایلون شاہر نے گزشتہ ہفتے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ اجلاس میں اسرائیل کو ہدف بنانا اس بات کی گواہی ہے کہ ادارہ اسرائیل مخالف ایجنڈا رکھتا ہے.انہوں نے کہا تھا کہ اجلاس کے اسپانسرز، دہشت گرد تنظیم حماس کی کارروائیوں کو جائز قرار دے رہے ہیں واضح رہے کہ 2006 میں قیام کے بعد سے اقوام متحدہ کی 47 رکنی انسانی حقوق کونسل ایسے 8 خصوصی اجلاس منعقد کر چکی ہے جن میں اسرائیل کی مذمت کی گئی اور اس کے مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے متعدد تحقیقات ہوئیں۔