پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پہ پابندی

 وزیر سیاحت گلگت بلتستان راجہ ناصر علی خان نے عالمی یوم انسداد تمباکو کے موقع پرکہا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام پبلک مقامات پر بہت جلد تمباکو نوشی پر پابندی عائد ہوگی۔تمباکو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے' پندرہ سال سے کم عمر افراد تمباکو استعمال نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان سیاحت کے حوالے سے اہم خطہ ہے اور موجودہ حکومت سیاحتی مقامات کو سیاحوں کے لئے تمباکو فری کرنے کیلے اقدامات کررہی ہے تاکہ سیاحوں کو سکون ملے۔ گلگت بلتستان میں تمباکو کنٹرول کرنے کیلئے باقاعدہ قانون پاس ہوگیا ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل در آمد کرانے کے لئے انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں گے انہوں نے کہا کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرے کا ضامن ہے اور صحت مند معاشرہ کامقصد تمباکو نوشی سمیت دیگر منشیات سے دور رہنا ہے اور  اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے ۔گلگت بلتستان کو تمباکو سے پاک کرنے میں سیڈو کا کردار ناقابل فراموش ہے  اس ادارے نے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع سے اس ناسور کا خاتمہ کرنے کے لئے جو اقدامات کیے وہ قابل تعریف ہیں ۔ گلگت بلتستان کو منشیات اور تمباکو سے مکمل نجات دلانے میں سیڈو کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے اور خطے کو اس ناسور سے پاک کریں گے۔پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی کی روک تھام کے اقدامات لائق تحسین ہیں'ہم جانتے ہیں کہ پبلک مقامات ٹرانسپورٹ اڈوں، ہسپتالوں، اور سرکاری اداروں میں سگریٹ نوشی پر قابو نہیں پایا جا سکا، سرکاری اداروں کے اندر اور باہر پبلک مقامات پر بھی سگریٹ نوشی جاری ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی، تمباکو نوشی کے عادی افراد ہسپتالوں، پبلک مقامات، بسوں، ویگنوں میں قانون کا مذاق اڑاتے نظرآتے ہیں۔ شہر و گردونواح میں موجود سرکاری و نجی ہسپتالوں، کالجز، یونیورسٹیز، پبلک مقامات، ٹرانسپورٹ اڈوں، ریلوے اسٹیشن سمیت دفاتر میں سرعام سگریٹ نوشی کا سلسلہ عروج پکڑتا جا رہا ہے جس کیوجہ سے سگریٹ نہ پینے والوں کو شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عوامی مقامات پر اور گاڑیوں میں سگریٹ پینے اور نہ پینے والوں کے درمیان اکثر اوقات لڑائی جھگڑے، گالم گلوچ بھی ہوتی ہے ۔ سگریٹ کا استعمال نہ کرنے والے شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ داران سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ سرکاری اداروں سمیت پبلک مقامات اور بازاروں میں سگریٹ نوشی پر عائد پابندی پر عملدرآمد کروایا جائے تاکہ شہری زہریلے دھوئیں سے پھیلنے والی مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔پاکستان میں بھی تمباکو نوشی سے نمٹنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کی روک تھام کے لیے قوانین اور قواعد کے مطابق عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کو ممنوع قرار دیاگیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی تمباکو نوشی کی ممانعت ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں اپنی عادات اور رویوں میں بھی تبدیلی لانا ہو گی۔ صرف قانون سازی اور خلاف ورزی پر معمولی سزائیں، اس سے نجات نہیں دلا سکتیں۔ سالانہ لاکھوں لوگ تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں اور تمباکو نوشی پر دنیا میں سالانہ اربوںڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔امریکن کینسر سو سائٹی کی تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی کی عادت انسان کو اکیس امراض کا شکار کر سکتی ہے۔ جن میں بارہ مختلف اقسا م کے کینسر بھی شامل ہیں۔  محققین کے مطابق سگریٹ کا دھواں بڑھتی ہوئی عمر اور غیر معمولی شور سے بھی کہیں زیادہ انسانوں کی قوت سماعت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی دنیا بھر میں ایسی بیماریوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جنہیں روکا جا سکتا ہے۔ تمباکو سے ہونے والی بیماریوں سے دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور پانچ ہزار پاکستانی روزانہ تمباکو نوشی ہی کے باعث اسپتال میں داخل ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے دھوئیں میں اب ہمارا مستقبل بھی دائو پر لگ چکا ہے؟ تمباکو نوشی کے عفریت نے ہمارے بچوں کو بھی گھیرلیا ہے۔ اسکول اور کالجوں میں آسانی سے دستیاب اس زہر کو قوم کے نونہال بڑی رغبت سے اپنے پھیپھڑوں میں اتار رہے ہیں لیکن والدین کو کانوں کان خبر نہیں ہے۔ پاکستان میں اٹھارہ سال اور اس سے بڑی عمر کے نوجوانوں کی انیس فیصد تعداد سگریٹ پینے کی لت میں مبتلا ہے۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ سگریٹ پینے والے بچوں میں چھے سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں جو اپنے گھر میں والد، کسی رشتے دار یا نوکروں کو دیکھ کر اس عادت میں مبتلا ہو رہے ہیں۔سگریٹ نوشی کے اگرچہ بڑوں پر بھی ذہنی اور جسمانی طور پر بدترین اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن بچے تو مکمل طور پر اپنی ذہنی اور جسمانی صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔اگر سگریٹ دوسال تک پیتے رہیں تو برین ممبرین متاثر ہوجاتی ہے، یادداشت خراب ہونے لگتی ہے، دماغ کی نشوونما رک جاتی ہے، آئی کیو لیول گرجاتا ہے، وہ جذباتی طور پر غیر متوازن ہوجاتے ہیں، چڑچڑا پن اور غصہ بڑھ جاتا ہے، پڑھائی میں پیچھے ہوجاتے ہیں اور جسم اور دماغ نکوٹین کا عادی ہوتا چلاجاتا ہے۔ماہرین پاکستان میں بڑھتی ہوئی سگریٹ نوشی کی ایک بڑھتی ہوئی وجہ اس کی قیمت کو بتاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کی قیمت جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سخت قوانین نافذ ہونے کے بعد اب سگریٹ بنانے والی کمپنیوں نے اپنی توجہ ترقی پذیر ممالک کی طرف مرکوز کرلی ہے جہاں سگریٹ نوشی کے خلاف قوانین نسبتا کمزور اور ان کا نفاذ زیادہ موثر نہیں ہے۔ایشیا پیسیفک ممالک میں تمباکو نوشی کی صنعت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ملائیشیا، انڈونیشیا، ویتنام اور پاکستان اس کی خاص مارکیٹ ہیں۔ایک جانب حکومت جنگلات کا رقبہ بڑھانے کی سرتوڑ کوشش کررہی ہے، بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں پر کثیر سرمایہ خرچ کررہی ہے تاکہ سبز رقبے میں اضافہ کیا جاسکے اور دوسری جانب سگریٹ سازی کی صنعت اس کوشش کو ناکام بنانے میں مصروف ہے۔معاملہ یہ ہے کہ سگریٹ کی صنعت براہِ راست جنگلات کے وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ جنگلات کے یہ وسائل مثلا درختوں کی لکڑی اور چھال وغیرہ ماچس کی تیاری اور سگریٹ، تمباکو کی پتیوں وغیرہ کو لپیٹنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ سپارک کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق تین کروڑ سے زائد درختوں کی چھال سگریٹ کی پیکنگ میں استعمال ہوتی ہے۔ درختوں سے براہِ راست ماچس کی تیلیاں بنتی ہیں اور مت بھولیے کہ جنگلات کی آگ بھی عموما سگریٹ ہی کی مرہون منت ہے۔لکڑی کی پچیس لاکھ ٹن مقدار خام تمباکو کی روسٹنگ کے لیے جلائی جاتی ہے جو براہِ راست جنگلات کی کٹائی اور فضائی آلودگی کو جنم دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پندرہ لاکھ ملین کیوبک میٹر لکڑی سگریٹ کی تیاری سے قبل خام تمباکو کی پتیوں کو سکھانے اور اس کی تیاری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معدنی ایندھن کے بعد فضائی آلودگی خصوصا گرین ہائوس گیسوں کی آلودگی کی دوسری بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ پانچ فیصد گرین ہائوس گیسوں کی آلودگی کی ذمے دار تمباکو کی صنعت سے ہونے والی جنگلات کی کٹائی ہے۔صرف پاکستان میں دوکروڑ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور تقریباسارھے چار ہزارسگریٹ سالانہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ نوے ارب ماچس کی تیلیاں استعمال کرتے ہیں۔سگریٹ پینے کے بعد پھینک دیے جانے والے سگریٹ کے بٹ عام کچرا نہیں بلکہ یہ زہریلے فضلے میں شمار کیے جاتے ہیں جو زمین اور آبی وسائل کی آلودگی کا سبب بنتے ہیں اور بہت سے پرندے اور جاندار انہیں کھا کر موت کے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ تمباکو کی صنعت بیس لاکھ ٹن ٹھوس فضلہ پیدا کرتی ہے اورتین لاکھ ٹن ایسا کچرا جسے دوبارہ استعمال نہ کیا جاسکے اور دولاکھ ٹن کیمیائی فضلہ پیدا کرتی ہے۔ سگریٹ پینے کے دوران پیدا ہونے والی کاربن مونو آکسائیڈ سانس لینے کے عمل کو مشکل بناتی ہے۔ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سگریٹ نوش افراد کے خون کے نمونوں میں یہ مضر گیس وافر مقدار میں پائی گئی ہے۔ نکوٹین تمباکو کی تقریبا تمام اقسام مثلا سگریٹ، پائپ اور سگار میں شامل ہوتی ہے جو براہِ راست دماغ کو متاثر کرتی ہے۔اس لیے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی بہت ضروری ہے۔