لوگوں پر رحم کریں

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور میں بریفنگ دیتے ہوئے حکام کا کہنا ہے رواں سال حج پر آٹھ سے دس لاکھ روپے خرچہ آئے گا۔اسے ظلم عظیم ہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت نے عوام کے لے حج جیسے مذہبی فریصے کی ادائیگی کو بھی مشکل نہیں ناممکن بنا دیا ۔ ڈھائی تین لاکھ کے اخراجات کو آٹھ دس لاکھ تک پہنچا دیا اور وزیر مذہبی امور بڑے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے لوگوں سے یہ استطاعت چھیننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستانیوں کے لیے فریضہ حج کی ادائیگی دن بہ دن مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور کورونا کے اس دور میں جب بیشتر افراد معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، حج کی خواہش رکھنے والوں کو آٹھ سے دس لاکھ روپے سے زیادہ کا خرچ بتایا گیا ہے جو کہ باعث فکر ہے۔ مختلف ریاستوں میں حج کی سرگرمیوں سے منسلک تنظیموں کے سربراہان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ آخر حج کو مہنگا کیوں کیا جا رہا ہے، اور حج وزارت کی ذمہ داری سہولتیں مہیا کرنے کی ہے تو پھر وہ اسے ٹھیک طرح سے نبھانے کی جگہ بدنظمی کیوں پیدا کر رہی ہے۔ اس طرح کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے جیسے کہ وہ کوئی منافع کمانے والی کمپنی ہو، اور اس نے سفر حج کو سیاحت سمجھ لیا ہو۔اس مہنگائی سے لاکھوں لوگوں کو حج سے محروم کر دیا گیا ہے۔جس طرح سے مسلسل حج مہنگا کیا جا رہا ہے، اور جس طریقہ سے من مانی ہو رہی ہے اس سے ملک کا غریب طبقہ حج کی سعادت سے محروم رہ جائے گا۔2021میں احتیاط کے ساتھ دورہ حج کی بات ہو رہی ہے، لیکن ہنوز سعودی حکومت سے کوئی حتمی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ گزشتہ سال ہی وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا تھا کہ ممکن ہوا تو تمام عازمین حج کو کورونا ویکسین لگا کر سعودی عرب بھیجا جائے گا جس کے باعث آئندہ برس ہونے والا حج کورونا ایس اوپیز کے باعث مہنگا ہوسکتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے آئندہ حج مہنگا ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ حج کورونا کی نذر ہوگیا تاہم آئندہ حج کے لیے سعودی حکام سے زیادہ سے زیادہ سہولتیں حاصل کریں گے۔ اگر لازمی ہوا تو تمام عازمین حج کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔ ایس او پیز کی وجہ سے حج مہنگا ہوسکتا ہے تاہم حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ عازمین کو گزشتہ حج کی طرح مشکلات نہ ہوں۔حج اخراجات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا تھاکہ کرایوں کا تعلق ایئرلائن سے ہے،ایس او پی کے ساتھ کرائے بہت بڑھ گئے لیکن کوشش کریں گے کہ کم سے کم کرائے مقرر کرائے جائیں۔حج انتظامات اور کرایوں میں سبسڈی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نور الحق قادری نے بتایا کہ شرعی اور مالیاتی نکتہ نظر سے حج سبسڈی پر سوالات اٹھائے گئے تھے جن کی وجہ سے سبسڈی کم کردی گئی ہے۔وفاقی وزیر نورالحق قادری نے مزید کہا تھا کہ حج 2021 کے بارے میں سعودی حکام کی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے ابھی تک کوئی پیشکش نہیں کی گئی ہے تاہم جیسے ہی کوئی پیشکش ہوئی تو پھر حج پالیسی کا لائحہ عمل طے کریں گے۔حج کرنا جو ایک فرض عبادت اور ایک مذہبی خواہش ہے اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے، حکومت نے حج بہت مہنگا کر دیا ہے۔ حکومت نے حج کو غریب اور متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔لوگ حج کے لیے کئی سال پیسے جمع کرتے ہیں لیکن وہ حج نہیں کر پاتے۔سوال یہ ہے کہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا کیسے حج کر سکتا ہے؟ حج کو سستا کرنا حکومت کی پالیسی میں ہونا چاہیے، اگر سعودی عرب نے وہاں سہولیات کے پیسے بڑھائے ہیں تو حکومت اس پر سبسڈی دے، یہ دیگر تمام چیزوں پر سبسڈی دے سکتی ہے تو حج پر کیوں نہیں؟حکومت کی حج پالیسی کا دوسرا بڑا مسئلہ سرکاری حج اور نجی حج ٹور آپریٹرز کا کوٹہ ہے۔نجی حج آپریٹرز بہت مہنگے ہیں وہ لوٹ مار کرتے ہیں۔حکومت کو اس کوٹے کو کم کرنا چاہیے،چالیس فیصد نجی آپریٹرز کو دینا غریب آدمی کے ساتھ زیادتی ہے، یہ کوٹہ صرف بیس فیصد ہو۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ متوسط کے صاحب استطاعت افراد حج کا فریضہ ادا کر سکیں۔صاحب استطاعت ایک بہت جامع اصطلاح ہے اور اس کی تعریف کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ اس کی مالی حالت کیسی ہے؟ فریضہ حج کے دوران اس کے خاندان کی کفالت اور مالی نظم و نسق کا انتظام کیا ہے، کیا وہ حج کے سفری اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہے اور اس سے اس کے زیر کفالت افراد کو کوئی پریشانی تو لاحق نہیں ہو گی اور وہ باعزت طریقے سے رہنے کے قابل ہیں، ایسے شخص پر حج فرض ہے۔جب ملک میں مہنگائی بڑھ جائے اور ضروریات زندگی کی قیمت بڑھ جائے تو معاشرہ میں صاحب استطاعت افراد کا معیار اور درجہ بندی بھی بڑھ جاتی ہے۔قرآن میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کی حکمت بھی یہ ہی ہے کہ مختلف ادوار میں جو بھی صورتحال ہو اسی پر ایک شخص یہ طے کرے کہ آیا وہ اس حیثیت میں ہے کہ حج کے فریضہ کی ادائیگی کی جو شرائط ہیں کیا وہ ان پر پورا اترتا ہے۔اس وقت ملک میں جو مہنگائی کی صورتحال ہے تو اس نے صاحب استطاعت کی تعریف زیادہ مشکل اور بلند کر دی ہے۔گزشتہ سال حکومت نے جب حج پالیسی اور پلان برائے 2020کی منظوری دی تو اسکے تحت گزشتہ برس کی نسبت حج اخراجات میں تقریبا 7.35 فیصد اضافہ کیا گیا جس کے بعد حج چار لاکھ نوے ہزار کا ہو گیا۔ اب ایسی کونسی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ پانچ لاکھ کا اضافہ کر دیا جائے۔حج اخراجات میں اضافے پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس میں اضافے کی بنیادی وجہ سعودی ائیر لائن کے کرائے میں اضافہ، کرنسی کی قیمت میں کمی ہے۔ حکومت نے خود سے ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں کیا لیکن سعودی عرب نے چند فیسوں کو لازمی قرار دیا ہے جن میں تین سوریال ویزا فیس اور ایک سو دس ریال ہیلتھ انسورنش فیس شامل ہے۔منی میں ٹرین کی فیس 250ریال سے بڑھ کر 500ریال ہو گئی ہے۔ مکہ مکرمہ میں بلڈنگز کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں ۔ وزارت قومی صحت سروسز کو حاجیوں کے لئے چینی ویکسین کی باقاعدہ فراہمی کے لئے لکھ دیا ہے ۔ متعلقہ وزارت سے کہا گیا ہے کہ وہ عازمین کے لئے ویکسین کی فراہمی کو ترجیح دیں ۔اگر سعودی حکومت اجازت دیتی ہے تو عازمین کو روانگی سے قبل ویکسین دی جائے گی ۔ تاہم یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سعودی حکومت چینی ویکسین کی اجازت دیتی ہے یا نہیں ۔یوںرواں سال پاکستانیوں کیلئے تاریخ کا مہنگا ترین حج ہونے کا امکان، پاکستانی عازمین حج کیلئے حج اخراجات آٹھ لاکھ روپے سے تجاوز کر جائیں گے۔حج کی آمد میں اب چند ماہ کا ہی وقت باقی ہے۔ گزشتہ سال کرونا وبا کی وجہ سے معمول کے مطابق حج کا انعقاد نہیں ہو سکا تھا، تاہم اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں سال دنیا بھر کے عازمین کو حج کیلئے سعودی عرب داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی، تاہم اس حوالے سے تاحال حتمی اعلان نہیں ہوا۔سعودی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کورونا وبا کے دنوں میں دوسرا حج آ چکا ہے ا ور اس بار بھی حج کے دنوں میں سخت قواعد و ضوابط لاگو کر دیے گئے ہیں۔لوگوں کی تعداد پہلے سے کم ہو گی اور اس بار ماسک کااستعمال اور ویکسی نیشن کے لیے بھی سختی کی جا رہی ہے۔اس حوالے سے سعودی حکومت نے نئے ایس او پیز جاری کر دیے ہیں جن پر عملدرآمد سختی سے کرائے جانے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ حج 2021 کے لیے سعودی عرب کی جانب سے قواعد و ضوابط کے تحت عازمین کے لیے منظور شدہ کرونا ویکسین کی شرط لگا دی گئی ہے۔سعودی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ عازمین حج کو کرونا ویکسین ذوالحجہ سے قبل لگوانی لازمی ہوگی، عازمین ذوالحجہ سے قبل کرونا ویکسی نیشن کرائیں۔سعودی وزارت صحت کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے عازمین کا دوبارہ کرونا ٹیسٹ ہوگا، اور عالمی ادارہ صحت کی منظور شدہ ویکسین لگانے کا مصدقہ ثبوت دینا ہوگا، جس میں یہ وضاحت کی گئی ہو کہ مملکت آمد سے دوہفتے پہلے ویکسین لگائی گئی ہے۔حج سیزن میں کام کرنے والے منظور شدہ ویکسین کی خوراک حاصل کر چکے ہوں، اور حج سیزن میں ورکرز مستقل طور پر ماسک لگانے کے پابند ہوں گے۔ زیادہ سے زیادہ بہترگھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ کرانا لازمی ہوگا، جب کہ مملکت سعودی عرب میں پہنچنے والے عازمین حج کو بہترگھنٹے کے لیے قرنطینہ کیا جائے گا۔اڑتالیس گھنٹے بعد مقررہ و منظور شدہ فیلڈ سروس ٹیمیں عازمین کا دوبارہ ٹیسٹ کریں گی، ذوالحجہ سے قبل مکہ، مدینہ میں ساٹھ فی صد تک مقررہ عمر کے افراد کی ویکسی نیشن ہوگی۔