خیبرپختونخوا میں بلیک فنگس پھیلنے کا خطرہ منڈلانے لگا

خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ای این ٹی ڈاکٹر نے غیر معیاری آکسیجن سلنڈرز کے استعمال سے بلیک فنگس پھیلنے کے خدشے پر بورڈ آف گورنرز کو خط لکھ دیا۔خط میں کہا گیا کہ گزشتہ دو ماہ میں 12 مریضوں کی سائی نس سرجری کی گئی جن میں سے 2مریض کرونا سے صحت یاب ہونے کے دوران بلیک فنگس کا شکار ہوئے، صفائی نہ ہونے سے بلیک فنگس سلنڈرز کی تہہ میں پایا گیا۔ ای این ٹی ڈاکٹر نے زور دیا کہ سلنڈرز میں آکسیجن بھرنے کے دوران احتیاط برتی جائے، کرونا کی صورتحال میں بلیک فنگس کے مریض سامنے آرہے ہیں، اگر سلنڈرز کی صفائی بہتر طور پر نہ کی جائے تو بلیک فنگس کے سپورز (زردانے)ان کی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ مریضوں کے لئے آکسیجن کا جو انتظام کیا جائے تو گیس پانی کے چیمبر سے گزارنے کے لئے بھی پانی کی صفائی ضروری ہے، کیونکہ اگر پانی کی صفائی نہ ہوتو سپورز بننے کا خدشہ ہوتا ہے، بروقت علاج نہ ہونے پر بلیک فنگس کے جسم میں پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے، زرعی و نمی کے حامل علاقوں میں رہنے والے افراد کو بلیک فنگس کا شکار ہوئے کا زیادہ احتمال ہوتا ہے۔ ادھر سیکرٹری صحت امتیاز حسین شاہ نے کہا ہے کہ تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ کو مریضوں کے زیراستعمال سلنڈرز کی صفائی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، صوبے میں بھارتی وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، پانچ نمونے ٹیسٹ کے لئے اسلام آباد بھیجے گئے ہیں جن کے نتائج ابھی موصول نہیں ہوئے ہیں۔