پلاسٹک فری گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پلاسٹک فری زون بنائیں گے۔پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال ہمارے ہاںایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی عوام ہر سال پچپن بلین کا پلاسٹک استعمال کرتی ہے۔عالمی سطح پر ایک سو بیس ممالک نے روز مرہ کے استعمال کی چند پلاسٹک سے بنی اشیا کے استعمال پر پابندی لگائی ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ پاکستان میں اس حوالے سے قومی سطح پر کوئی پالیسی نہیں اور ملکی سطح پر لوگوں کو پلاسٹک کے نقصانات کے حوالے سے آگہی کی کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں بسنے والے لوگ پلاسٹک کے ماحولیاتی نقصانات سے آگاہ ہی نہیں ہیں۔ماحول پر تحقیق کرنے والے ایک جرمن ادارے کے مطابق چین کے ینگسی دریا کے بعد دریائے سندھ دنیا کا دوسرا بڑا پلاسٹک سے آلودہ دریا ہے۔ماحولیاتی محققین کے مطابق پلاسٹک مکمل طور پر گل سٹر کر ختم نہیں ہوتا بلکہ صرف کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔کراچی میں بحرہ عرب کے ساحل سمندر پر بھی کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق پلاسٹک کے لفافوں سے ہر سال تقریبا دس لاکھ پرندے، ہزاروں کے حساب سے طرح طرح کی بحری حیات اور لاتعداد مچھلیاں مرتی ہیں۔ہمارے ملک میں پلاسٹک کا استعمال ہر سال پندرہ فیصد بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کے طریقے محدود ہیں اور کچرے سے نمٹنے میں بہت بد انتظامی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ دارالحکومت اسلام آباد میں بھی کچرا اکثر گلیوں میں جلایا جاتا ہے۔پلاسٹک کوجانور کھاتے ہیں۔ انسان کھاتے ہیں پھر یہ جگر کی خرابی، شوگر اور ہیضہ جیسے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ہر شخص کے معدے میں اوسطا پانچ گرام کا پلاسٹک ایک ہفتے میں داخل ہوتا ہے، جو تقریبا کریڈٹ کارڈ کے وزن کے برابر ہے۔نصف صدی قبل، دنیا میں پلاسٹک کی تھیلی کا استعمال اکا دکا ہوتا تھا، تاہم آج ہمیں ہر طرف یہی پلاسٹک کی تھیلیاں ہی نظر آتی ہیں۔  ایک پلاسٹک بیگ اوسطا پچیس منٹ تک استعمال میں رہتا ہے، جب کہ پھینک دینے کے بعد اس کا وجود ختم ہونے میں سوسے پانچ سوسال درکار ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر منٹ میں تقریبا دس لاکھ پلاسٹک بیگ استعمال ہوتے ہیں اور سمندر میں جانے والا اسی فیصد کچرا پلاسٹک پر مشتمل ہوتا ہے۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک سمندروں میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک کی تھیلیاں ہونگی۔ پلاسٹک فری جولائی اور انٹرنیشنل پلاسٹک بیگ فری ڈے، سمندری حیات، فطرت، جانوروں اور انسانوںکے حال اور مستقبل کو پلاسٹک کی تھیلی کے استعمال کے ان خطرناک اثرات سے خبردار کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ اس پورے مہینے کے دوران ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگ کا استعمال ترک کرکے پائیدار زندگی گزارنے کا چیلنج قبول کرکے دنیا کو پلاسٹک کی آلودگی سے محفوظ رکھنے کا ایک اچھوتا طریقہ ہے۔ہم پلاسٹک کی دنیا میں رہتے ہیں۔ ہمارے دن کے ہر حصے میں ہر جگہ پلاسٹک نہ صرف ہمارے ارد گرد موجود ہوتا ہے بلکہ ہمارے ساتھ بھی رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس سارے پلاسٹک کا استعمال بہت مختصر ہوتا ہے لیکن استعمال ختم ہونے کے بعد بھی تقریبا ہمیشہ کے لیے اس کا وجود برقرار رہتا ہے، یہ پلاسٹک ہمارے ماحول اور سمندر میں جمع ہوتا جاتا ہے۔ آپ یقینا یہ جان کر پریشان ہوجائیں گے کہ آپ نے زندگی بھر جتنے ٹوتھ برش خریدے ہیں یا آپ پانی کی جتنی ڈسپوزایبل بوتلیں خرید کر پھینک چکے ہیں، وہ اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ہرچند کہ کچھ پلاسٹک ری سائیکل ہونے کے قابل ہوتا ہے اور کچھ پلاسٹک ری سائیکل کیا بھی جاتا ہے لیکن یہ ایک خوفناک حقیقت ہے کہ زیادہ تر پلاسٹک استعمال کے بعد کچرا پھینکنے کے مقام یا سمندر میں جاپہنچتا ہے، جہاں اسے تباہ ہونے کے لیے کئی سو برس درکار ہوتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر مزید حیرانی ہوگی کہ پلاسٹک کی جن تھیلیوں پر بائیوڈیگریڈایبل حیاتی طور پر تحلیل ہونے کے قابل درج ہوتا ہے، وہ بھی ماحولیات کے لیے بہتر نہیں ہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ سمندر میں اتنا پلاسٹک جمع ہوچکا ہے کہ سمندر میں پلاسٹک کے جزیرے بننا شروع ہوچکے ہیں۔ بحرالکاہل کا گریٹ پیسیفک گاربیج  تین لاکھ چھیاسی ہزارمربع میل تک پھیل چکا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔پلاسٹک کے سمندری زندگی پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ پلاسٹک مچھلیوں اور پرندوں کے پیٹ میں جاپہنچتا ہے اور اس سے نہ صرف آبی حیات کو خطرہ ہے بلکہ جب انسان ایسی مچھلی کھاتا ہے تو پلاسٹک کے ذرات کسی نہ کسی صورت انسان کے پیٹ میں بھی داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ صورتِ حال سنگین ضرور ہے لیکن ابھی بھی وقت نہیں گزرا۔ اگر ہم دنیا کو پلاسٹک فری بنانے کا چیلنج قبول کرلیں تو یہ مسئلہ ابھی بھی قابلِ حل ہے۔پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے روزمرہ امور میں پلاسٹک کے استعمال کو ترک کریں اور اگر فوری طور پر ایسا ممکن نہیں تو اس کے استعمال پر نظرثانی کرتے ہوئے بتدریج کمی لے آئیں۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانے اور اسے ترک کرنے کا آغاز پلاسٹک فری چیلنج قبول کرکے کیا جاسکتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال ترک کردیں۔خریداری کے لیے باہر جاتے وقت اپنے ساتھ گھر سے کپڑے یا کاغذ کا تھیلا لے جائیں۔ اس طرح آپ نہ صرف اپنے پیسے بچاپائیں گے بلکہ یہ ماحول کی بھی عظیم خدمت ہوگی۔اگر آپ ہنرمند ہیں تو آپ کپڑے یا کاغذ کا تھیلا خود بھی ڈیزائن کرسکتے ہیں، جسے آپ شان سے اپنے ساتھ باہر لے جاسکتے ہیں۔آپ ایسے غیرسرکاری اداروں کے لیے رضاکارانہ طور پر کام کرسکتے ہیں، جو ساحلِ سمندر یا کوڑے کرکٹ کے مقامات کو پلاسٹک سے صاف رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ یا تو انہیں اپنا وقت دے سکتے ہیں یا ان کی مالی معاونت کرسکتے ہیں۔اپنے گھر اور دفتر میں آنے والے پلاسٹک کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک زیرِ استعمال رکھنے کی کوشش کریں۔اپنے خاندان اور دوستوں کو پلاسٹک کے مضر اثرات سے آگاہ کریں۔اگر آپ ایک کمپنی چلاتے ہیں تو اپنے کلائنٹس اور صارفین میں تحفتا کپڑے کے تھیلے بنواکر تقسیم کریں۔پلاسٹک تھیلیوں میں غذائی اشیاء کا استعمال صحت کے لیے نہایت مضر ہے کیونکہ اس میں موجود حیاتیات، لمحِیات اور غذائیت ختم ہو سکتی ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق پلاسٹک کے تھیلے سیکڑوں سال تک مٹی اور پانی میں زہریلے کیمیائی مادوں کا اخراج کرکے شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ دی گارجین کے مطابق پلاسٹک کی تھیلیوں میں غذائی اشیا کا استعمال صحت کے لیے نہایت مضر ہے کیونکہ اس میں موجود حیاتیات، لمحیات اور غذائیت ختم ہو سکتی ہے۔پلاسٹک کی تھیلیوں کا زائد استعمال سے سماج میں پلاسٹک کی آلودگی میں مزید اضافہ ہوگا۔دنیا بھر میں سب سے زیادہ امریکہ میں چورانوے فیصد پلاسٹک فائبرز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد لندن اور بھارت کا نمبر آتا ہے۔ بھارت میں ہر برس ایک کروڑ بیس لاکھ ٹن پلاسٹک کا استعمال ہوتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اس صمن میں ایسے بیگ بنائے جانے چاہیں جن میں پلاسٹک کا استعمال نہ ہو اور وہ دیرپا و مضبوط ہوں علاوہ ازیں یہ جلد گل سڑ جانے والے ہوں۔ یہ درست ہے اس انڈسٹری سے لاکھوں لوگوں کا روز گار وابستہ ہے لیکن یہ انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں اس لیے انہیں متبادل روز گار کی فراہمی کا اہتمام کرکے پلاسٹک فری سوسائٹی کو یقینی بنانا بہت ضروی ہے۔