سرکاری ملازمین اور سیاست

ڈپٹی سپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کو یہ اختیار کس نے دیا ہے  وہ دفاتر پر تالے لگاکر سڑکوں پر نکل آئیں اور ریاست کے خلاف تقریریں کریں ایسے ملازمین کو ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ بحیثیت سرکاری ملازم اپنی حدود میں رہیں جس کسی کو سیاست کرنے کا شوق ہے وہ نوکری چھوڑ کر سیاست میں آجائے ان ملازمین کو سمجھنا چاہیئے کہ حکومت اور ریاست کے خلاف بغاوت کی سزا کیا ہوسکتی ہے۔ اگر آئندہ ملازمین نے ایسا کیا تو ان کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ سڑکوں پر نکل کر سیاست کرنے والے اساتذہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ سرکار ایک بچے کی تعلیم پر ماہانہ بائیس ہزار اخراجات کررہی ہے اتنے اخراجات سے کسی بھی پرائیویٹ سکول میں اعلی اور معیاری تعلیم فراہم کی جاسکتی ہے ۔سرکاری سکولوں کے نتائج پر نظر ڈالیں ان کے نتائج زیرو فیصد ہیں ایسے اساتذہ کو سوچنا چاہیئے کہ وہ تنخواہ حرام کی لے رہے ہیں یا حلال کی؟ ہم جی بی بالخصوص غذر کی حد تک سرکاری ملازمین کو انتباہ کرنا چاہتے ہیں کہ جس ادارے کے سربراہ نے اس طرح سڑکوں پر آکر سیاست کرنے والے اپنے ماتحت ملازم کے خلاف کارروائی نہ کی تو پھر ہم ایسے سرکاری حکام کے خلاف ایکشن لیں گے۔سرکاری ملازمین کے سیاست میں حصہ لینے اور اپنے مطالبات کے لیے باہر نکلنے یا احتجاج کرنے میں فرق ہے۔ہم یہ عرض کر چکے ہیں حکومت ایسے وعدے کرتی ہی کیوں ہے جنہیں پورا نہیں کیا جاتا یا پورا کرنے میں تاخیر سے کام لیا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین کو سیاست نہیں کرنا چاہیے'سرکاری ملازمین پر ڈیوٹی کے اوقات میں سیاست نہ کرنے پر پابندی ہونی چاہیے کیونکہ وہ کار سرکار انجام دے رہے ہیں لیکن ڈیوٹی کے اوقات کے بعد ان پر سیاست میں حصہ لینے کی پابندی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے وہ غلام نہیں ہیں۔ کیا کبھی یہ کہا گیا ہے یا پوچھا گیا ہے کہ جن لوگوں کو عوام اپنے ووٹ دے کر اپنا ملازم تعینات کرتی ہے یہ ملازم ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے اپنے مسائل ان کے دیے گئے پیسوں سے کیوں حل کرتے ہیں۔وہ عوام کے ملازم ہو کر عوام سے زیادہ مراعات کس قانون' قاعدے اور آئین کے تحت لیتے ہیں'وہ اپنی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی پر کیوں جوابدہ نہیں ہوتے حالانکہ عوام انہیں اپنے حون پسینے کی بھاری کمائی دیتی ہے لیکن وہ عوام 'علاقے اور ملک کا نقصان کر کے چلتے بنتے ہیں'وہ اپنی حفاظت کے لیے تو گارڈ رکھ لیتے ہیں لیکن عوام کی حفاظت کی انہیں کوئی فکر نہیں ہوتی' ان کی کارکردگی صفر ہوتی ہے مگر کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ جس وزارت کے وہ ذمہ دار ہیں وہ پانچ سال گزرنے پر بھی کیوں نقصان میں جا رہی ہے اور تم نے کس بات کی تنخواہیں اور مراعات وصول کی ہیں۔ بہرحال سرکاری ملازمین کو سیاست نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے اسی طرح سیاست دانوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پورا کرنا چاہیں اور ناکامی کی صورت میں ساری مراعات واپس کر دینا چاہیں۔الیکشن کمیشن نے انتخابات 2018 کے دوران سرکاری ملازمین اوربلدیاتی نمائندوں پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ مراسلہ میں کہا گیا تھا کہ آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کے دوران کوئی بھی سرکاری ملازم کسی سیاسی تقریب یا سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ اگر کوئی سرکاری ملازم کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔اس سلسلہ میں عوام سے کہا گیا  کہ اگر کوئی سرکاری ملازم کسی سیاسی جماعت کی انتخابی مہم میں مدد یا معاونت کرتا پایا جائے تو فوری طور پر علاقہ کے ریٹرننگ آفیسر یا الیکشن کمیشن کو مطلع کریں ۔خیبر پختونخوا میں تو  فیس بک پر سیاسی پوسٹ کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی کہا گیا اور ملازمین کی سیاسی سرگرمیوں اور سرکاری عمارات پر سیاسی پارٹی کا جھنڈا اور بینر لگانے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ملازمیں کو خبردار کیا گیا کہ اگر کسی سرکا ری ملازم نے سیا سی سر گرمیوں میں حصہ لیا یا سیاسی پوسٹ فیس بک پراپ لوڈ کی تو اس کے خلاف قانونی کاررو ائی عمل میں لائی جائے گئی۔ سرکاری عمارتوں پر اگر کسی سیا سی پارٹی نے جھنڈا لہرایا، بینر یا پوسٹر لگائے تو اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو گی۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ سیاسی یا گروہی وابستگی سے بلند ہوکر عوام کے خادمین کی حیثیت سے اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں۔ اس طرح عوام کی نظروں میں ان کا مقام بلند ہوگا لیکن آج کے ملازمین ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں کہ وہ خادم ہیں یا افسران۔ کراچی میں سول و فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا میرا پختہ یقین ہے کہ ہماری کامیابی اور فلاح اسلام میں حضرت محمدۖ جو عظیم قانون دان تھے کے مرتب کردہ سنہری اصولوں کو اپنانے میں پنہاں ہے۔ آئیے کہ ہم اسلام کے سنہری اصولوں پر مبنی جمہوریت کی بنیاد رکھیں25مارچ1948 کو حکومت کے افسران سے چٹاگانگ کو ان کی حیثیت یاد دلاتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا آپ کو ایک ملازم کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دینے ہیں، آپ کا سیاست اور سیاسی جماعتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ یہ آپ کا کام نہیں ہے یہ سیاستدانوں کا ذمہ ہے کہ وہ کس طرح موجودہ اور مستقبل کے آئین میں رہتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کی جنگ لڑتے ہیں۔ جس سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل ہو گی وہی حکومت بنائے گی۔ آپ کی کسی سیاسی جماعت سے کوئی وابستگی نہیں ہونی چاہئے۔ آپ صرف قومی ملازم ہیں۔ حکومت کی خدمت ایک خادم کی حیثیت سے کرنی چاہئے۔ آپ کا تعلق حکمران طبقے سے نہیں بلکہ ملازمین کے طبقے سے ہے حکومت ملازمین کو عوام کی خدمت کے لئے بھرتی کرتی ہے لیکن یہ سرکاری ملازم حکمران بن جاتے ہیں۔ قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ناجائز مراعات حاصل کرنے، ناجائز طور پر عہدوں اور مرتبوں کے حصول کیلئے ذاتی خودی اور قومی حمیت کو قربان کر دیتے ہیں تو وہ قوموں کا ایک ایسا ناسور ہوتے ہیں جس کا اثرزائل ہونے کیلئے کئی دہائیاں چاہئیں۔ بظاہر وہ اپنے آپ کو عظیم لوگوں کی صف میں شمار کرتے ہیں مگر درحقیقت وہ اپنے منافقانہ رویوں کے باعث پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہوتے ہیں۔ قائداعظم نے اپنی جان اور محنت سے حاصل کی ہوئی دولت اپنی قوم پر قربان کر دی۔ انہوں نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو بتا دیا تھا کہ پاکستان قائم ہوگا اور ضرور قائم ہو گا کیونکہ یہی اللہ کی مرضی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور قانون سے ماورا پھیلتی ہوئی کرپشن نے عوام الناس، سول سوسائٹی اور قومی دانشور حلقوں میں بھی سوالات کی بھرمار کر دی ہے کہ قومی بددیانتی کے مارے ہوئے ہمارے کچھ سیاست دان اور سول سرونٹ کیا کر رہے ہیں، ریاستی نظام کس مرض کی دوا ہے ؟ اِس دنیا میں اپنے ضمیر سے بڑھ کر اور کوئی انسان کا محتسب نہیں ہے۔ آپ نے اپنا فرض انتہائی خلوص نیت، دیانتداری، وفاداری اور تندہی سے انجام دینا ہے، کسی اقدام سے قبل یہ سوچیں کہ آیا یہ آپ کے ذاتی یا علاقائی مفاد کیلئے ہے یا ملک کی فلاح و بہبود کیلئے؟ اگر ہر فرد اِس طرح اپنا جائزہ لے اور کسی خوف اور لالچ کے بغیر اپنے آپ اور دوسروں کیلئے دیانت داری کو لازم قرار دے تو ہمارا مستقبل روشن ہوگا اور اگر سرکاری ملازمین اور عوام انہی اصولوں پر کاربند رہے تو حکومت، قوم اور ملک کا معیار بلند ہو گا اور پاکستان دنیا بھر کے عظیم ملکوں کی صف میں شامل ہو جائیگا۔ سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے قائد کے اِن درخشاں اصولوں پر عمل کیا ہے اور کیا پاکستان دنیا کے عظیم ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے؟ ایسا بالکل نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں قائد کے جمہوری اصولوں کو ذاتی مفادات کے ایک مافیائی نظام کے تابع کر کے آئین، قانون اور ریاستی نظام یعنی مروجہ سٹیٹ کرافٹس کی گردن مڑور کے قومی خزانے کو ذاتی مفادات کے حصول کیلئے منظم طریقے سے لوٹ مار کی نظر کیا جا رہا ہے اور قومی دولت باہر کے ملکوں میں منتقل ہو رہی ہے۔ مخصوص سول سرونٹس کو ان کے گریڈاور متعلقہ سہولتوں سے بالاتر ہو کر عملی طور پر سول سرونٹ ایکٹ اور سول سرونٹ کنڈکٹ رولز سے ماورا کر کے اہم اداروں اور وزارتوں میں اہم پوزیشنوں پر تعینات کر کے ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔کرپشن کا کینسر خاص طور پر سرکاری اداروں میں جڑوں تک سرایت کر چکا ہے۔ ان سرکاری اداروں میں وہ تمام ادارے شامل ہیں جوعوام کے ٹیکس سے بنے سرکاری خزانے سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔