قومی اسمبلی میں قانون سازی؛ حکومت کا اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ جاری

حکومت کی جانب سے قانون سازی کے لئے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ایک روز کے وقفے کے بعد آج پھر ہوگا، اجلاس شام 4 بجے اسپیکر ایجنڈا حکومتی بزنس سے بھرپور ہے اور آج کے اجلاس میں اہم قانون سازی کی جائے گی، حکومت نے قانون سازی مکمل کرنے کے لئے اپنے ارکان کو ایوان میں حاضر ہونے کی تاکید کردی ہے، کیوں کہ عین وقت پر طویل ایجنڈا جاری ہونے ہونے پر اپوزیشن کی طرف سے بھی احتجاج کا قوی امکان ہے، اس لئے حکومت کی جانب سے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایجنڈے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مردم شماری کے حوالے سے حکومتی فیصلے پر توجہ دلاؤ نوٹس بھی شامل ہے، موٹروے پر پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس بھی ایجنڈے پر موجود ہے، پورٹ قاسم اتھارٹی، گوادر پورٹ، پاکستان شپنگ کارپوریشن اور انتخابات ترمیمی بل بھی ایجنڈے میں شامل ہے، ہیلتھ پروفیشنلز کونسل بل، پاکستان نرسنگ کونسل ترمیمی بل اور میچوئل لیگل اسسٹنس ترمیمی بل بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کا بھی امکان ہے، جب کہ آج پارلیمنٹ میں بجٹ پر متفقہ حکمت عملی کے لیےدونوں رہنماؤں کی ملاقات بھی متوقع ہے۔

 قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوگا، اجلاس کا 8 صفحات پر مشتمل 80 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔