جیف بیزوز، ایلون مُسک سمیت متعدد امریکی کھرب پتی ٹیکس چورنکلے

ایمازون کے مالک جیف بیزوز، ٹیسلا کے مالک ایلون مُسک اور وارن بُفے کا نام دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، لیکن حال ہی میں شایع ہونے والی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف امریکا بلکہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں رہنے والی یہ شخصیات مبینہ طورپرٹیکس چوری میں بھی ملوث رہی ہیں۔ 

اس بات کا انکشاف تحقیقی صحافت کرنے والی امریکا کی خبری ویب سائٹ پرو پبلیکا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے متعدد امریکی مبینہ طور پر ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔ ویب سائٹ کو حاصل دستاویزات کے مطابق امیزون کے مالک جیف بیزوز نے 2007 اور 2011 میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا، جب کہ ٹیسلا کے ایلون مسک نے 2018 میں کوئی ٹیکس نہیں صحافیوں نے  انٹرنل ریونیو سروس ( آئی آر ایس ) کا گزشتہ 15 سال کا ڈیٹا حاصل کیا۔  فاربس کی ارب پتی افراد کی فہرست میں موجود 25 کھرب پتی امریکیوں کی مجموعی دولت میں 2014 سے 2018 کے درمیان 401 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ آئی آر ایس کے اعداد و شمار کے مطابق 5 سالوں میں ان 25کھرب پتی افراد نے صرف 13 اعشاریہ6 ارب ڈالر فیڈرل انکم ٹیکس ادا کیا۔  اس لحاظ سے ٹیکس کی شرح صرف 3 اعشاریہ 4 فیصد بنتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق برکشائر ہیتھ وے انکارپوریشن کے وارن بُفے کی  دولت میں 24 اعشاریہ 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا لیکن انہیں نے صرف 23اعشاریہ 7 ملین ڈالر( 0.10 فیصد) ٹیکس ادا کیا۔ امیزون کے مالک جیف بیزوس کی دولت میں 99 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا لیکن انہوں نے صرف 973 ملین ڈالر(0.98فیصد) ٹیکس ادا کیا۔ اسی طرح ٹیسلا انکارپوریشن کے مالک ایلون مسک کی دولت میں 13 اعشاریہ 9 ارب ڈالر اضافہ ہوا،  لیکن ٹیکس انہوں نے صرف 3 اعشاریہ 27 فیصد ( 455 ملین ڈالر) ادا کیا۔ بلومبرگ کے مالک مائیکل بلومبرگ کی دولت ان 5 سالوں میں ساڑھے 22 ارب ڈالر بڑھی اور انہوں نے 292 ملین ڈالر( 1.30فیصد)  ٹیکس کی مد میں ادا کیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے 25 امیر ترین افراد کی جانب سے ٹیکس ادائیگی میں اوسطا 15 اعشاریہ 8 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ پرو پبلیکا کے سینئر رپورٹر اور مدیر جیسی ایسنگر کا کہنا ہے کہ ہمیں اس باتنے حیران کردیا کہ آپ ارب پتی ہوتے ہوئے بھی زیرو ٹیکس دیں۔ بی بی سی کے مطابق یہ رپورٹ اس وقت منظرعام پر آئی ہےجب امیر افراد کی جانب سے ادا کیے جانے والی ٹیکس کی رقم اور بڑے پیمانے پر ہونے والی عدم مساوات پر بحث میں اضافہ ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس ’ لیک‘ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایف بی آئی اور ٹیکس حکام سے معاملے کی مزید چھان بین کا حکم دے دیا ہے۔دیا۔