سوست پر کاروبار بند، تاجروں کا خنجراب ٹاپ مارچ، سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ


 گلگت(نمائندہ خصوصی) ایف بی آر کے کالے قانون کے خلاف عید کے بعد چھوٹے ،بڑے تاجروں نے جنجراب ٹاپ کی طرف مارچ کا اعلان کردیا ۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما و معروف کاروباری تاجر جاوید حسین ، عمران جعفری ، سید مطہر حسین، دوستدار شہزاد ، احسان و دیگر چھوٹے بڑے تاجروں نے ڈیلی ”کے ٹو “کو بتایا کہ اس وقت کوئی ٹریڈ نہیں ہورہی ہے تاجروں کو تنگ کیا جارہا ہے 6 ماہ سے بارڈر پر کسی قسم کی امپورٹ ایکسپورٹ کا کام نہیں ہورہا ہے تمام صوبوں میں بارڈرز پر کام جاری ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں سوست بارڈر میں 6 ماہ قبل آئے ہوئے کنٹینرز پڑے ہوئے ہوتے ہیں، عوام نے لاکھوں روپے خرچ کرکے بارڈر پاس بنوائے ہیں سب بیکار جارہے ہیں، مزدور سوست میں خالی پیٹ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن کوئی بھی مزدوری کو نہیں ہورہی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ حکومت سمیت اسمبلی کے تمام ممبران کو آن بورڈ لیا گیا ہے اور اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے اب صرف لانگ مارچ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے پورٹ بند پڑا ہوا ہے اور کام نہیں ہورہا ہے، آخر تاجر کہاں جائیں گے تمام تاجر دیوالیہ ہوگئے ہیں۔ سوست بیریل کو بصری لے جاتے ہیں جہاں بھی لیجاتے ہیں اس سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے ہماری اب جنگ ایف بی آر کے ساتھ ہے، جو تاجروں کے ساتھ ظلم کررہا ہے 6 ماہ جنوری سے اب تک پورٹ بند ہے ۔ جنجراب ٹاپ پر دھرنے کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے اور اب یہ نعرہ لگایا جائے گا کہ جب تک قومی اسمبلی میں ہماری نمائندگی نہیں ہوگی اس وقت تک کوئی ٹیکس نہیں دیا جائے گا ”جب تک نمائندگی نہیں اس وقت تک ٹیکس نہیں “یہ نعرہ لیکر تمام چھوٹے بڑے تاجر جنجراب ٹاپ کی طرف عید کے بعد مارچ کرینگے اور یہ احتجاج کوئی عام احتجاج نہیں ہوگا بلکہ تاجروں کے حقوق کا احتجاج ہوگا اس احتجاج میں ہم نے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا ہے، ہم مزید دیوالیہ نہیں ہوسکتے ہیں اور ایف بی آر نے مزید تنگ کیا اور تجارت کے لئے ریلیف نہیں دیا پورٹ نہیں کھولا تو جو بھی حالات پیدا ہونگے اس کی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہوگی۔گلگت بلتستان بارڈر ٹریڈ ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت شیخ محمد اسماعیل منعقد ہوا۔اجلاس میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہدایت علی۔کوآرڈینیٹر یاور علی زوار۔حاجی ارشاد علی نائب صدر،محمد وارث،عرفان علی،مقبول ولی،محمد علی دیگر عہدیداران شریک ہوئے اجلاس میں بیگیج میں کام کرنے والے بارڈر پاس ہولڈرز کے مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اور ان مسائل کے حل کیلئے مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔ شرکاءنے باری باری تمام مسائل اور ان کے حل کیلئے اپنی آرا پیش کی۔اجلاس کے شرکاءنے متفقہ طور پر کسٹم حکام سے مطالبہ کیا کہ آئے روز نئے قوانین گلگت بلتستان کے بارڈر پر اطلاق کی غیر قانونی کوششوں سے باز رہیں کیونکہ گلگت بلتستان پاکستان کے ٹیکس نیٹ میں نہیں جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں ٹیکس نیٹ میں آنے والے شہروں کے بارڈرز پر مقامی چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں ہونے کے باوجود اتنی سختی نہیں کی جاتی نہ ہی بیگیج میں کام کرنے والے افراد سے کوئی ٹیکس لیا جاتا ہے جبکہ جی بی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضع ہدایات کے باوجود کسٹم حکام ہر قسم کے ٹیکسوں کا بوجھ لادنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک کی اعلٰی عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں یہ صورتحال جاری رہی تو بیگیج ایسوسی ایشن 1999 کے فیصلے کی توہین ہونے کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جانے کے حوالے سے مشاورت کریں گے اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر سپریم کورٹ آف پاکستان جائیں گے۔