چلاس میں آلو شٹو کلچر لیبارٹری، سکرین ہائوس قائم

پاکستان ایگریکلچر ریسریچ کونسل نے چلاس میں پہلی مرتبہ آلو ٹشو کلچر لیبارٹری اور سکرین ہاوس قائم کردیا۔آلو ٹشو کلچر لیبارٹری کے قیام سے آلو کی پیداواری صلاحیت بڑھنے کیساتھ ساتھ بیماریوں سے پاک آلو کے بیج کی پیدوار بڑھے گی۔ کسان کم وقت میں زیادہ سے زیادہ آلو کی پیدوار حاصل کر سکیں گے۔چلاس میں وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے فوڈ سیکورٹی جمشید اقبال چیمہ نے محکمہ زراعت کے ماہرین اور پی آے آر سی حکام کے ہمراہ آلو ٹشو کلچر لیباریٹریری اینڈ سکرین ہاوس کا افتتاح کیا اس موقع پر پی آے آر سی کے ذمہ داروں نے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ کو آلو،آخروٹ اور دیگر پھلوں اور سبزیوں کی کم وقت میں زیادہ پیدواردینے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ پی آے آر سی  آلو کا بیج صحتمند / بیماری سے پاک ہے ،ٹشو کلچر لیبارٹری دیامر کے اندر  بیج آلو کاشت کاروں کی عام طور پر دستیاب اقسام کے لئے بیج اسٹاک تیار کرے گی۔اس موقع پر جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ آلو کے کاشت کاروں اور محققین کو صحت مند پودے لگانے والے اسٹاک مہیا ۔ٹشو کلچر میں تجارتی آلو کی مختلف اقسام کا ایک جامع ذخیرہ برقرار رکھاجائے۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ کراچی سے لیکر چین کے بارڈر تک پورے ملک کو گرینی فائی کرنا ہماری حکومت کا بنیادی مشن ہے۔ہمارے ملک میں ساڑھے  22 کروڑ ایکڑ زمین ہے جس میں 5 کروڑ ایکڑ زمین آباد ہے جہاں جہاں پانی میسر ہوگا ان علاقوں کو زرخیز بنائیں گے۔گلگت بلتستان ایک یونیک علاقہ ہے ہم اس علاقے کے پہاڑوں کو بھی گرینی فائی کریں گے،گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنے پاوں پر کھڑے کرنے کیلئے زراعت،لائیو سٹاک فشریز،ویجیٹیبل کی پیدواری صلاحیت کو بڑھانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ یہاں کے لوگ خود کفیل ہوسکیں۔