نواز شریف سے راستے اور سیاست اب جدا ہیں، مفتاح اسماعیل

 نئی سیاسی جماعت عوام پاکستان کے سیکرٹری جنرل مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ نواز شریف سے راستے اور سیاست اب جدا ہے، نواز شریف میری پسندیدہ شخصیت ہیں لیکن اب ہمارے راستے اور سیاست اب جدا ہے، میاں صاحب نے کبھی بلایا توان کے ساتھ چائے پینے ضرور جاﺅں گا ، بجٹ میں حکومتی بے حسی نظر آئی ،حکومت کہیں قربانی دینے یا کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ، ساری قربانی عوام کے حصے میں آرہی ہیں۔ایک انٹرویو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نواز شریف میری پسندیدہ شخصیت ہیں لیکن اب ساتھ نہیں چل سکتا۔ بجٹ کے حوالے سے عوام پاکستان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ بجٹ میں حکومتی بے حسی نظر آئی ، ایک طرف عوام کوکہتے ہیں ملک مشکل حالات میں ہےکمر کس لیں، دوسری جانب حکومتی اخراجات بے دریغ طریقے سے بڑھ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت کہیں قربانی دینے یا کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں ، ساری قربانی عوام کے حصے میں آرہی ہیں ، بجٹ کے بعد تقریبا ڈیڑھ کڑورلوگ مزید خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے، بجٹ ملک میں مزید مہنگائی اور غربت کا عندیہ دے رہا ہے۔بانی پی ٹی آئی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شوق تھا مخالفین کو جیل میں ڈالیں ، شاہد خاقان ، احسن اقبال اور رانا ثنااللہ اورمجھے جیل میں ڈالا گیا، رانا ثنا پرمنشیات کاجھوٹاکیس بنوایا لیکن اب یہ سیاست بندہونی چاہیے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایسابھی نہ ہو فلاںنے کیا تھاتواب ہم بھی ویسا ہی کریں گے ، مخالفین کو جیل میں ڈالنے کی روش کوسیاست سے ختم کرناہوگا۔انھوں نے بتایا کہ ملک صرف اشرافیہ کیلئے چلتا ہے عوام کیلئے نہیں، میں 2بار صرف 5،5ماہ کے لیے وزیر خزانہ بنا ، دکانداروں پر ٹیکس لگانے سمیت دیگروجوہات پر مجھے ہٹا دیا گیا، میں نے پارٹی کے اندر رہ کر آواز اٹھائی تھی ، وزارت کے دوران پارٹی پالیسی پرتنقید کی کہا ملک صحیح نہیں چلا رہے۔مفتاح اسماعیل نے اپنی پارٹی کے حوالے سے کہا کہ ہماری پارٹی کا منشور ہوگا کہ عوام کو اپنے فیصلے کرنے کی آزادی ہو، عوام کے فیصلے کوئی تھانے دار ، پٹواری ، ایم این اے ، ایم پی اے یا تحصیل دار نہ کرےان کا کہنا تھا کہ ملک میں عوام کو سوچ اور ووٹ ڈالنے کی مکمل آزادی ہو ، ہم اپنا پیغام عوام میں لے کر جائیں گے اور کوشش ہوگی عوامی مقبولیت ملے، باقی عوام کا فیصلہ قبول کریں یا مسترد۔عوام پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ نہ ہم تبدیلی والے ہیں ، نہ آر ٹی ایس والے اور نہ ہی فارم 47 والے ہیں، ہم عوام والے ہیں ، ہماری پارٹی میں زیادہ تر نوجوان اور ایسے نان الیکٹیبلز ہیں، جن کا ماضی میں سیاست سے نہ تعلق رہا نہ انکا دامن داغ دار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسے لوگوں کو ترجیح دے رہے ہیں جن کو طرز حکمرانی اور سیاست کی سمجھ ہو ، ہم مستقبل میں کوئی بڑے سرپرائز نہیں دیں گے۔انھوں نے بتایا کہ کسی بیوروکریٹ یا سیاست دان کو پارٹی جوائن کرنے کی دعوت نہیں دی، تاہم پڑھے لکھے نوجوانوں اور ایسے لوگ آگے لے کر آئیں گے جو عوام کا درد اور مسائل سمجھتے ہوں