آپریشن عزم استحکام ضرور ہوگا، فیصل واؤڈا

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ آپریشن عزم استحکام ضرور ہوگا اور ڈنکے کی چوٹ پر نہ صرف بجٹ پاس ہوگا بلکہ نجکاری بھی ہوگی۔

سینیٹ اجلاس میں بجٹ سیشن کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واؤڈا نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام ضرور ہوگا اور ہم سب کو اس آپریشن پر لبیک کہنا ہوگا۔

فیصل واؤڈا کا کہنا تھا کہ آپریشن ملک میں استحکام لائے گا، قومی اسمبلی میں اتنے غلط الفاظ استعمال کیے گئے، بے حیا لوگوں نے قومی اسمبلی میں اس بے ہودہ بات پر ڈیسک بجائے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ ڈنکے کی چوٹ پر ضرور پاس ہوگا جبکہ نجکاری بھی ہوگی، جب سب کو 18 فیصد ٹیکس سلیب دینا ہے تو کے پی کیلیے بھی یہو ہوگا

فیصل واؤڈا نے کہا کہ نجکاری کے معاملے پر وزیر خزانہ کی حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اضافی وزارتیں ختم کی جائیں۔ انہوں نے بجٹ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے حصے کا ٹیکس بوجھ لیں، اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس پورے ملک پر لاگو ہو۔

سینیٹر کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ کو نجکاری یا بجٹ کے معاملے پر دباؤ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے، پوری پارلیمنٹ وزیر خزانہ کے ساتھ ہے۔

قبل ازیں ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے کہا کہ معیشت کی بری حالت نصف صدی کا قصہ ہے، مفتاح اسماعیل نے تنخواہ دار ٹیکس طبقے کو ٹیکس چھوٹ دی تھی کیونکہ جب ٹیکس پر چھوٹ دیں گے اتنے لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جن طبقات پر ٹیکس نہیں ان پر لگنا چاہیے، زراعت کو بہت مراعات دی گئیں ہیں، غریب کسان کو ٹیکس استثنی دیں، جس کی آمدن زیادہ ہے اسے ٹیکس نیٹ میں لائیں، زراعت سے ٹیکس آمدن نہیں ہو رہیں۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ بلاواسطہ ٹیکس سب سے بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس آمدن بڑھائی جائے، تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں؟۔

انہوں نے کہا کہ جن طبقات پر ٹیکس نہیں ان پر لگنا چاہیے، زراعت کو بہت مراعات دی گئیں ہیں، غریب کسان کو ٹیکس استثنی دیں، جس کی آمدن زیادہ ہے اسے ٹیکس نیٹ میں لائیں، زراعت سے ٹیکس آمدن نہیں ہو رہیں۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ بلاواسطہ ٹیکس سب سے بڑا ظلم ہے۔ انہوں نے تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس آمدن بڑھائی جائے، تنخواہ دار طبقے کی کوئی یونین نہیں وہ کس سے احتجاج کریں؟۔