روزانہ دس ہزار افراد کو ویکسین لگانے کا ہدف

  وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا چوتھی لہر کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے صورت حال خراب ہونے کی صورت میں پابندیاں لگانے کا عندیہ دے دیا اور کہا کہ  پاکستان میں کرونا کیسز میں کمی آئی تھی مگر اب ایک بار پھر سے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ ایس او پیز پر عمل نہ کرنا ہے، اگر عوام نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو لاک ڈائون جیسے سخت فیصلے کرنے پڑیں گے ،کرونا وبا کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں،اس وقت ڈیلٹا وائرس(بھارتی ویرینٹ )پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے بہت بڑاخطرہ بنا ہوا ہے،  بنگلادیش، انڈونیشیا میں کورونا کی نئی قسم پھیلنے کے بعد حالات بہت خوفناک صورت اختیار کرگئے ، اگر ہم نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو صورت حال یہاں بھی خراب ہوسکتی ہے اور ہم پھر دوبارہ لاک ڈائون کی طرف جاسکتے ہیں، ہمیں اپنے ملک کو کورونا کی چوتھی لہر سے بچانا ہے ، عید آرہی ہے، لہذا سب ماسک پہنیں اور قربانی کا اہتمام شہر سے باہر کریں،  پاکستان میں فی الحال ویکسین تیار نہیں کی جارہی، ہمیں جیسے ہی ویکسین ملتی ہے شہریوں کو فراہم کردی جاتی ہے، عوام آگے بڑھ کر خود ویکسین لگوائیں۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان نے ملک میں کورونا وباء کی صورتحال کے بارے میں   ٹی وی اور ریڈیو پر براہ راست   اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، کورونا وائرس اپنی نسبت مسلسل تبدیل کرتا رہا ہے جبکہ دنیا میں اس وقت مختلف قسم کے کورونا وائرس پھیلے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لئے بڑا مسئلہ بھارت میں پھیلنے والا کورونا وائرس ہے، بھارتی قسم کے وائرس سے انڈونیشیاء اور بنگلہ دیش میں بری صورتحال ہے جبکہ ابھی تک پاکستان بڑے نقصان سے بچا ہوا ہے لیکن کورونا وباء کی چوتھی لہر کا خدشہ ہے، جس کیلئے ہمیں بہت زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جریدے دی اکانومسٹ نے پاکستان کو کورونا سے مقابلہ کرنے والے تین بہترین ملکوں میں شامل کیا ہے، پاکستان واحد مسلم ملک ہے جہاں مسلسل دو سال رمضان المبارک میں کورونا کے باوجود مساجد کھلی رہیں اور پاکستانی عوام نے ثابت کیا کہ وہ اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب ایک دفعہ پھر پاکستان میں کورونا کیسز نیچے جاتے جاتے پھر زیادہ ہو رہے ہیں اور چوتھی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، چوتھے فیز سے بچنے کے لئے ہمیں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے اور حکومت پورے ملک میں لاک ڈائون کے بجائے سمارٹ لاک ڈائون کے طریقہ کار پر جا سکتی ہے، عوام سے ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ ماسک کا استعمال لازمی کریں اور اگر پہلے کی طرح ہم نے احتیاط کی تو کورونا وباء کی چوتھی لہر سے بھی بچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بند جگہوں پر کورونا کے پھیلائو کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اس لئے فیس ماسک لازمی استعمال کرنا ہے، ماسک پہن کر صرف ہم اپنے آپ کو بلکہ ملک کو بھی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر ماسک سمیت احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا، حکومت نہیں چاہتی ہے کہ مکمل لاک ڈائون لگایا جائے، اس سے ملکی معیشت اور خصوصاً غریب طبقہ بہت زیادہ متاثر ہو سکتا ہے،ہم نہیں چاہتے ہیں کہ لاک ڈائون کے باعث لوگوں کا روزگار متاثر ہو،لیکن اگر چوتھی لہر میں وائرس زیادہ پھیلا تو مجبوراً لاک ڈائون کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیرون ممالک سے بڑی تعداد میں کورونا ویکسین خریدی ہے اور ہمارے پاس مناسب مقدار میں ویکسین موجود ہے جبکہ عوام سے اپیل ہے کہ جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی وہ فوری طور پر کورونا سے بچائو کی ویکسین لگوائیں اور وباء کے پھیلائو کے روکنے کے عمل میں حکومت کا ساتھ دیں، ویکسین لگوانے سے ہم خود اپنی اور دوسرے شہریوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ملک بھر کرونا وائرس سے مزید  24 افراد جاں بحق ہو نے  کے بعد اموات کی تعداد 22 ہزار 493 ہوگئی، پاکستان میں کرونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 9 لاکھ 67 ہزار 633 ہوگئی ۔ جمعرات کو  نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 683 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ایک ہزار 980 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 49 لاکھ 11 ہزار 743 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 ہزار 531 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 9 لاکھ 10 ہزار 609 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں، پنجاب میں 10 ہزار 798، سندھ میں 5 ہزار 552، خیبر پختونخوا میں 4 ہزار 346، اسلام آباد میں 781، بلوچستان میں 315، گلگت بلتستان میں 111 اور آزاد کشمیر میں 590 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔