تمباکو نوشی


تمباکو کو تاریخی طور پر1492 میں کرسٹوفر کولمبس کے گروہ میں سے ایک یورپی شخص نے دریافت کیا تھا ابتداءمیں تمباکو نوشی صرف اعلیٰ درجے کے لوگ تہواروں پر کیا کرتے تھے لیکن کولمبس تمباکو کو واپس یورپ لے گیا جہاں تمباکو متعارف ہوا اور اس کا استعمال عام ہوا۔عالمی جنگوں کے دوران تمباکو نوشی میں ڈرامائی طور قابلِ ذکر اضافہ ہوا تمباکو فوجیوں ان کے حوصلے بڑھانے کے لئے مفت میں فراہم کیا جاتا تھا لیکن بیسویں صدی میں تمباکو کے صحت پر منفی اثرات کی وجہ سے اس کی شہرت میں نمایاں کمی آئی۔ تمباکو نوشی کے صحت پر منفی اثرات پر بہت زیادہ ریسرچ کی گئی اور کتابیں لکھی گئیں جن افراد نے تمباکو نوشی کے منفی اثرات پر کتابیں لکھیں ان میں سموئیل تھامس اور بی جے رش قابل ذکر ہیں۔دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف (نو ٹباکو ڈے) منایا جاتا ہے لیکن موثر طور پر تشہیر نہ ہونے کے باعث اس دن کو عملی طور پر پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کی وجہ سے عوام بالعموم اس کے نقصانات سے مکمل آگاہ نہیں ہیں۔سگریٹ نوشی ایک قابلِ امتناں اموات کی سب سے اہم وجہ ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں ہر سال 80 لاکھ لوگ صرف تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے وجہ سے مرجاتے ہیں۔ ان میں سے 70 لاکھ اموات ان افراد کی ہوتی ہے جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے البتہ ان کے گرد و پیش تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی وجہ وہ متاثر ہوتے ہیں مزید برآں جب تک حالات تبدےل نہ ہوں آنے والے 25 سال کے اندر سالانہ اموات کی تعداد دوگنی ہو جائے گی اور کروڑوں افراد میں قبل از وقت تمباکو سے متعلق بیماریاں پیدا ہوجائیں گی جو دائمی معذروی کا باعث بنتی ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 3.8 کروڑ لوگ تمباکو سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں پاکستان میں تمباکو نوشی کا رجحان مردوں میں زیادہ ہے 36 فےصد اور خواتین میں 9فےصد ہے پاکستان میں بالخصوص یونیورسٹی طلبا میں تمباکو نوشی کا پھیلا¶ 15 فےصد ہے اور 1200 بچے روانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں ۔پاکستان میں سالانہ تمباکو نوشی سے منسلک رجسٹرڈ کاروبار تقریباً 500ارب سے تجاوز کر چکا ہے ۔تمباکو کی کوئی بھی قسم محفوظ نہیں ہوتی ہے لوگوں کی کثیر تعداد اس نظریے کی قائل ہے الیکڑانک سگریٹ یا شیشہ، عام سگریٹ کے مقابل محفوظ ہے جبکہ کے حقیقت اس کوسوں دور ہے، سائنس اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور اس غلط نظریہ کو مسترد کر دیا ہے۔ ہیلتھ ایکسپرٹس نے اس معاملہ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کے تمام اقسام کی تمباکو نوشی سے وہی خطرات لاحق ہیں جو ایک عام سگریٹ سے ہیں اور 30 اقسام کے اےسے کیمیکلز تمباکو میں موجود ہے جن سے کینسر پرورش پاتا ہے۔کچھ لوگ ذہنی دبا¶ کم کرنے کے لئے سگریٹ پیتے ہیں یہ ایک برہنہ سچ ہے کے تمباکو ذہنی دبا¶ اور افسردگی کو کم ختم نہیں کرتا ہے بلکہ زہریلے کیمیکلز کو ذخیرہ کرتا ہے اور اگر سگریٹ یا تمباکو نوشی میں مبتلا افراد جسم سے آنے والے انتباہات کے باجود اس عمل کا تدارک نہ کریں تو یہ سگریٹ بلاآخر سگریٹ نوش کو ہی نوشتہ کتبہ کردیتی ہے کچھ لوگ ہم عصروں کے سماجی دبا¶ اور اثر رسوخ کی وجہ سے اور کچھ لوگ دستوں کے ساتھ سنگت کرنے کے لئے اس دھوئیں کو اپنی سانسوں میں جھونک رہے ہیں۔ایک بہت بڑی وجہ جو تمباکو نوشی کو عام کررہی ہے وہ خاندان کے افراد کا مشترکہ طور پر پر سگریٹ نوشی کرنا ہے بالخصوص بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنے سے بچے ایک طرف اس کے مضر اثرات کے شکار ہو جاتے ہیں اور اگر ان بچوں کو بازار سے سگریٹ منگوائی جائے تو وہ بچے بھی اس کو برائی نہیں سمجھتے اور کم عمری میں اس لعنت کا شکار ہو جاتے ہیں مزید برآں تنہائی سگریٹ نوشی کا محرک ہے۔ تنہائی میں انسان زیادہ سے زیادہ سگریٹ پیتا ہے کیونکہ اسکو کوئی روکنے والا نہیں ہوتا، سگریٹ نوشی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے کیونکہ یہ انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کردیتی ہے نیکوٹین انسانی جسم کو کمزور کردیتا ہے اور اس سے سانس میں بدبو اور دانتوں کا نقصان ہوتا ہے معمولی سی بیماری جو عام افراد کو نقصان نہیں دیتی سگریٹ نوشوں پر بہت سنگین گزرتی ہے ۔کیسنر کونسل کے مطابق اگر ترقی پذیر ممالک میں اگر اسی طرح موجودہ ضعیف قواعد و ضوابط جاری رہے تو تمباکو سالانہ 10 ملین افراد کی جان لے لے گا۔سگریٹ نوشی پرانی کھانسی کے ساتھ ساتھ پھےپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے اور جب کھانسی بگڑتی ہے تو کھانسی کے ساتھ خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا بہت کم علم ہے کہ سگریٹ نوشوں کے ساتھ بیٹھنے والوں کی صحت بھی اسی طرح کے مسائل سے متاثر ہوتی ہے ۔لمبے عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے سے کرنے سے وزن میں کمی، جسم میں کمزوری، خشک اور گیلی کھانسی، سینے، کمر یا کندھوں میں درد اور سانس اور دل کی تکلیف ہوجاتی ہے متعلقہ اداروں کا سگریٹ تمباکو یا اس سے متعلقہ مصنوعات پر ناقابل برداشت ٹیکس عائد نہ کرنے کی وجہ سے یہ ہر خاص و عام کی دسترس میں موجود ہے سگریٹ تمباکو نوشی ختم یا کم کرنے کے لئے تمباکو کے ظاہری اور پوشیدہ اشتہارات ہر قسم کے میڈیا میں کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تمباکو کے استعمال اور روک تھام کی نگرانی، تمباکو کے استعمال سے لوگوں کی حفاظت، تمباکو کے استعمال کو ترک کرنے میں مدد کی پیش کش، تمباکو کے خطرات سے متعلق انتباہ، تمباکو کے اشتہارات پر پابندی لگانا اور آگاہی فراہم کرنا حکومت کی اور معاشرے کے باشعور افراد کی ذمہ داری ۔ ان اقدامات پر عمل کرنے سے بالآخر تمباکو سے پاک معاشروں کا سبب بن سکتا ہے۔حکومتوں کو چاہئے کہ وہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے لئے مراکز قائم کریں، یہ انہیں اپنی گذشتہ زندگی کو فراموش کرنے اور ایک عظیم تر مستقبل بنانے کے لئے مواقع دے۔ تمباکو پر بھاری ٹیکس عائد کیا جانا چاہئے، سامان میں چھپے ہوئے تمباکو کا پتہ لگانے کے لئے سرحدوں پر ٹریکنگ اور ٹریسنگ ڈیوائسس کی فراہمی کی جانی چاہئے اور جو بھی قصوروار پایا گیا اسے سزا دی جانی چاہئے۔ سگریٹ کی آمدنی اور قیمتوں پر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی آمدنی کو ختم کیا جاسکے جن کے پاس آخر میں اس فعل کو ترک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ سگریٹ نوشی، تمباکو نوشی سے پاک محفلوں میں شرکت کرنا اور صحت افزاءمشاغل میں مصروف رہنا تمباکو نوشی سے چٹھکارے کے لئے ضروری ہے۔جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اسکی حفاظت کریں اور معاشرے کا ایک قابلِ احترام اور قابلِ ذکر فرد بنیں۔


تمباکو نوشی


تمباکو کو تاریخی طور پر1492 میں کرسٹوفر کولمبس کے گروہ میں سے ایک یورپی شخص نے دریافت کیا تھا ابتداءمیں تمباکو نوشی صرف اعلیٰ درجے کے لوگ تہواروں پر کیا کرتے تھے لیکن کولمبس تمباکو کو واپس یورپ لے گیا جہاں تمباکو متعارف ہوا اور اس کا استعمال عام ہوا۔عالمی جنگوں کے دوران تمباکو نوشی میں ڈرامائی طور قابلِ ذکر اضافہ ہوا تمباکو فوجیوں ان کے حوصلے بڑھانے کے لئے مفت میں فراہم کیا جاتا تھا لیکن بیسویں صدی میں تمباکو کے صحت پر منفی اثرات کی وجہ سے اس کی شہرت میں نمایاں کمی آئی۔ تمباکو نوشی کے صحت پر منفی اثرات پر بہت زیادہ ریسرچ کی گئی اور کتابیں لکھی گئیں جن افراد نے تمباکو نوشی کے منفی اثرات پر کتابیں لکھیں ان میں سموئیل تھامس اور بی جے رش قابل ذکر ہیں۔دنیا بھر میں 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف (نو ٹباکو ڈے) منایا جاتا ہے لیکن موثر طور پر تشہیر نہ ہونے کے باعث اس دن کو عملی طور پر پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جس کی وجہ سے عوام بالعموم اس کے نقصانات سے مکمل آگاہ نہیں ہیں۔سگریٹ نوشی ایک قابلِ امتناں اموات کی سب سے اہم وجہ ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں ہر سال 80 لاکھ لوگ صرف تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے وجہ سے مرجاتے ہیں۔ ان میں سے 70 لاکھ اموات ان افراد کی ہوتی ہے جو خود تمباکو نوشی نہیں کرتے البتہ ان کے گرد و پیش تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی وجہ وہ متاثر ہوتے ہیں مزید برآں جب تک حالات تبدےل نہ ہوں آنے والے 25 سال کے اندر سالانہ اموات کی تعداد دوگنی ہو جائے گی اور کروڑوں افراد میں قبل از وقت تمباکو سے متعلق بیماریاں پیدا ہوجائیں گی جو دائمی معذروی کا باعث بنتی ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 3.8 کروڑ لوگ تمباکو سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں پاکستان میں تمباکو نوشی کا رجحان مردوں میں زیادہ ہے 36 فےصد اور خواتین میں 9فےصد ہے پاکستان میں بالخصوص یونیورسٹی طلبا میں تمباکو نوشی کا پھیلا¶ 15 فےصد ہے اور 1200 بچے روانہ تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں ۔پاکستان میں سالانہ تمباکو نوشی سے منسلک رجسٹرڈ کاروبار تقریباً 500ارب سے تجاوز کر چکا ہے ۔تمباکو کی کوئی بھی قسم محفوظ نہیں ہوتی ہے لوگوں کی کثیر تعداد اس نظریے کی قائل ہے الیکڑانک سگریٹ یا شیشہ، عام سگریٹ کے مقابل محفوظ ہے جبکہ کے حقیقت اس کوسوں دور ہے، سائنس اور پبلک ہیلتھ ایکسپرٹس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور اس غلط نظریہ کو مسترد کر دیا ہے۔ ہیلتھ ایکسپرٹس نے اس معاملہ پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کے تمام اقسام کی تمباکو نوشی سے وہی خطرات لاحق ہیں جو ایک عام سگریٹ سے ہیں اور 30 اقسام کے اےسے کیمیکلز تمباکو میں موجود ہے جن سے کینسر پرورش پاتا ہے۔کچھ لوگ ذہنی دبا¶ کم کرنے کے لئے سگریٹ پیتے ہیں یہ ایک برہنہ سچ ہے کے تمباکو ذہنی دبا¶ اور افسردگی کو کم ختم نہیں کرتا ہے بلکہ زہریلے کیمیکلز کو ذخیرہ کرتا ہے اور اگر سگریٹ یا تمباکو نوشی میں مبتلا افراد جسم سے آنے والے انتباہات کے باجود اس عمل کا تدارک نہ کریں تو یہ سگریٹ بلاآخر سگریٹ نوش کو ہی نوشتہ کتبہ کردیتی ہے کچھ لوگ ہم عصروں کے سماجی دبا¶ اور اثر رسوخ کی وجہ سے اور کچھ لوگ دستوں کے ساتھ سنگت کرنے کے لئے اس دھوئیں کو اپنی سانسوں میں جھونک رہے ہیں۔ایک بہت بڑی وجہ جو تمباکو نوشی کو عام کررہی ہے وہ خاندان کے افراد کا مشترکہ طور پر پر سگریٹ نوشی کرنا ہے بالخصوص بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنے سے بچے ایک طرف اس کے مضر اثرات کے شکار ہو جاتے ہیں اور اگر ان بچوں کو بازار سے سگریٹ منگوائی جائے تو وہ بچے بھی اس کو برائی نہیں سمجھتے اور کم عمری میں اس لعنت کا شکار ہو جاتے ہیں مزید برآں تنہائی سگریٹ نوشی کا محرک ہے۔ تنہائی میں انسان زیادہ سے زیادہ سگریٹ پیتا ہے کیونکہ اسکو کوئی روکنے والا نہیں ہوتا، سگریٹ نوشی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے کیونکہ یہ انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کردیتی ہے نیکوٹین انسانی جسم کو کمزور کردیتا ہے اور اس سے سانس میں بدبو اور دانتوں کا نقصان ہوتا ہے معمولی سی بیماری جو عام افراد کو نقصان نہیں دیتی سگریٹ نوشوں پر بہت سنگین گزرتی ہے ۔کیسنر کونسل کے مطابق اگر ترقی پذیر ممالک میں اگر اسی طرح موجودہ ضعیف قواعد و ضوابط جاری رہے تو تمباکو سالانہ 10 ملین افراد کی جان لے لے گا۔سگریٹ نوشی پرانی کھانسی کے ساتھ ساتھ پھےپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے اور جب کھانسی بگڑتی ہے تو کھانسی کے ساتھ خون آنا شروع ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو اس بات کا بہت کم علم ہے کہ سگریٹ نوشوں کے ساتھ بیٹھنے والوں کی صحت بھی اسی طرح کے مسائل سے متاثر ہوتی ہے ۔لمبے عرصے تک سگریٹ نوشی کرنے سے کرنے سے وزن میں کمی، جسم میں کمزوری، خشک اور گیلی کھانسی، سینے، کمر یا کندھوں میں درد اور سانس اور دل کی تکلیف ہوجاتی ہے متعلقہ اداروں کا سگریٹ تمباکو یا اس سے متعلقہ مصنوعات پر ناقابل برداشت ٹیکس عائد نہ کرنے کی وجہ سے یہ ہر خاص و عام کی دسترس میں موجود ہے سگریٹ تمباکو نوشی ختم یا کم کرنے کے لئے تمباکو کے ظاہری اور پوشیدہ اشتہارات ہر قسم کے میڈیا میں کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تمباکو کے استعمال اور روک تھام کی نگرانی، تمباکو کے استعمال سے لوگوں کی حفاظت، تمباکو کے استعمال کو ترک کرنے میں مدد کی پیش کش، تمباکو کے خطرات سے متعلق انتباہ، تمباکو کے اشتہارات پر پابندی لگانا اور آگاہی فراہم کرنا حکومت کی اور معاشرے کے باشعور افراد کی ذمہ داری ۔ ان اقدامات پر عمل کرنے سے بالآخر تمباکو سے پاک معاشروں کا سبب بن سکتا ہے۔حکومتوں کو چاہئے کہ وہ تمباکو نوشی کرنے والوں کے لئے مراکز قائم کریں، یہ انہیں اپنی گذشتہ زندگی کو فراموش کرنے اور ایک عظیم تر مستقبل بنانے کے لئے مواقع دے۔ تمباکو پر بھاری ٹیکس عائد کیا جانا چاہئے، سامان میں چھپے ہوئے تمباکو کا پتہ لگانے کے لئے سرحدوں پر ٹریکنگ اور ٹریسنگ ڈیوائسس کی فراہمی کی جانی چاہئے اور جو بھی قصوروار پایا گیا اسے سزا دی جانی چاہئے۔ سگریٹ کی آمدنی اور قیمتوں پر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی آمدنی کو ختم کیا جاسکے جن کے پاس آخر میں اس فعل کو ترک کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ سگریٹ نوشی، تمباکو نوشی سے پاک محفلوں میں شرکت کرنا اور صحت افزاءمشاغل میں مصروف رہنا تمباکو نوشی سے چٹھکارے کے لئے ضروری ہے۔جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اسکی حفاظت کریں اور معاشرے کا ایک قابلِ احترام اور قابلِ ذکر فرد بنیں۔