کرونا اورترقی پذیر ممالک کی معیشتیں


وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے ترقی پذیر ملکوں کو رعایتیں اور گرانٹس دینا ہوں گی۔ ترقی پذیر ملکوں کو بحران سے نکالنے کیلئے کم از کم چار اعشاریہ تھری ٹریلین ڈالر درکار ہیں۔ویکسین کی تیاری اورتقسیم کا عمل بھی تیز کرنا ہو گا۔یہ درست ہے کہ کرونا نے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو بدترین نقصان پہنچایا ہے ایسے میں عالمی اداروں اور مضبوط معیشتیں رکھنے والے ممالک کا فرض ہے کہ وہ ان ممالک کی مدد کریں تاکہ وہ اس مشکل سے نجات حاصل کر سکیں۔دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث اقتصادی کارکردگی میں شدید تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔ترقی پذیر ممالک یقینی طور پر اس کساد بازاری سے سخت متاثر ہوں گے جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 1930کی دہائی کی گریٹ ڈپریشن کہلانے والی کساد بازاری سے اب تک کا سب سے بڑا اقتصادی بحران قرار دیا ہے۔دنیا کا تقریبا ہر ملک اس سے متاثر ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کو خدشہ ہے کہ امیر و غریب 170ممالک رواں سال فی کس اقتصادی سرگرمی میں تنزلی کا سامنا کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اوسط معیارِ زندگی میں گراوٹ آئے گی۔ترقی پذیر ممالک کو یہ وبا مختلف طریقوں سے متاثر کر رہی ہے۔کئی ممالک صنعتوں کے زیرِ استعمال مال برآمد کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں کئی فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے اس مال کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے چنانچہ ان کی قیمتیں گری ہیں اور کچھ معاملوں میں تو یہ تنزلی انتہائی زیادہ ہے۔تیل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کی طلب میں زبردست کمی ہوئی ہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے لیے ایندھن کی طلب کم ہوئی ہے۔ اس ایندھن کانوے فیصد سے زائد خام تیل سے بنایا جاتا ہے۔یہ صورتحال تیل کے دو سب سے بڑے برآمد کنندگان روس اور سعودی عرب کے درمیان جاری قیمتوں کی جنگ کی وجہ سے مزید خراب ہوئی۔ ایسی غیر معمولی صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے جس میں تیل کی قیمتیں صفر سے گِر چکی تھیں۔ تانبہ اب تک اٹھارہ فیصد سستا ہوچکا ہے جبکہ زنک کی قیمت اب بیس فیصد تک گر چکی ہے۔قیمتوں میں اس گراوٹ سے کاروبار اور ان حکومتوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے جو یہ اشیا برآمد کرتے ہیں۔ترقی پذیر ممالک کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پیسہ نکالے جانے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اندر خطرہ مول لینے کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سرمایہ کاری کو فروخت کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک نسبتا خطرناک ہے۔ اس میں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بونڈز اور شیئرز شامل ہیں۔ اس کے بجائے وہ امریکہ، یورپ اور جاپان جیسے نسبتا محفوظ تصور کیے جانے والے ممالک میں اپنا پیسہ لگا رہے ہیں۔اس کا نتیجہ دولت کے متضاد سمت میں بے مثال بہائوکی صورت میں نکلا ہے۔اس کی ایک اور علامت دیوالیے پن کے خلاف انشورنس کی بلند قیمت ہے۔ اس کے بعد کئی ممالک کی کرنسی کی قدر میں زبردست کمی بھی اپنی جگہ ہے۔ یہ بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کار اپنی دولت نکالنا چاہ رہے ہیں۔اس سے ایک اور مسئلہ بھی جنم لیتا ہے اور وہ ہے غیر ملکی قرضے۔ کسی ملک کی کرنسی کی قدر میں کمی سے اس کے لیے دیگر کرنسی میں لیے گئے قرضوں کی واپسی یا ان پر سود کی ادائیگی مہنگی ہوجاتی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں طبی بحران اور اس کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے دبائو کی شکار ہیں تو قرضوں کی ادائیگی پہلے سے کم وسائل پر ایک سنگین بوجھ بن سکتی ہے۔چنانچہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک تیز تر مہم جاری ہے۔آئی ایم ایف اور دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں نے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے چند اقدامات اٹھائے ہیں جن میں اگلے چند ماہ میں قرضوں کے سود اور ان کی واپس ادائیگی میں کچھ آسانی کی جائے گی۔آئی ایم ایف نے پچیس ممالک اکثریتی طور پر افریقی ممالک پر واجب الادا رقوم کو اگلے چھ ماہ کے لیے رکن ممالک کی جانب سے عطیہ کیے گئے ایک ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے پورا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ۔جی بیس ممالک نے ستترممالک سے متوقع قرضوں کی ادائیگیوں کو منسوخ کرنے کے بجائے موخر کرنے پر اتفاق کیا جنہیں مئی میں موصول ہونا تھا۔ اب یہ سال کے آخر تک ادا کیے جا سکیں گے۔اس مطلب یہ ہے کہ ادائیگیاں کرنے کے بجائے رقم کو آنے والے مہینوں میں بحران سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر انہیں آنے والے مہینوں میں پھر بھی رقم واپس ضرور کرنی ہوگی۔چنانچہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں میں نرمی کی مہم چلانے والے افراد کا خیال ہے کہ جی ٹوئنٹی اور دیگران کو مزید کام کرنا چاہیے۔ جی ٹوئنٹی نے صرف ان قرض خواہوں پر زور دیا ہے کہ وہ بھی غریب ترین ملکوں کو دیے گئے قرضوں کی ادائیگیاں ایسے ہی موخر کریں۔امیر ممالک قانون میں ایسی تبدیلیاں کریں جن کی رو سے نجی قرض خواہ ادائیگی نہ کر پانے والے ممالک کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کر سکیں۔ یہ خاص طور پر نیویارک اور برطانیہ سے مناسبت رکھتا ہے جن کے قوانین زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کو دیے گئے قرضوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ترقی پذیر ممالک کے گنجان آباد علاقوں میں طبی مسائل سے نمٹنا بھی کئی مخصوص مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔ ان جگہوں پر سماجی دوری اختیار کرنا خاص طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔اسی طرح غیر رسمی معیشت کہلانے والے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے گھر بیٹھ جانا مشکل ہو سکتا ہے۔ترقی پذیر ممالک کو ممکنہ طور پر اس پیسے کی کمی کا بھی سامنا ہے جو تارکینِ وطن اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں۔ ترسیلاتِ زر اکثر امیر ممالک سے غریب ممالک کو بھیجی جاتی ہیں اور یہ کسی خاندان کے معیارِ زندگی کے لیے اہم سہارا ہوسکتی ہیں۔عالمی بینک کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ وبا کی وجہ سے ان میں بیس فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ بینک کے مطابق خاص طور پر تارکینِ وطن اپنی ملازمتیں اور آمدنی گنوانے کے خطرے کی زد میں ہیں۔بینکوں کے مطابق ترسیلاتِ زر کی وجہ سے لوگ اچھا کھا سکتے ہیں، تعلیم پر زیادہ خرچ کر سکتے ہیں، اور اس سے بچوں سے مزدوری میں کمی آ سکتی ہے۔کورونا وائرس کی وبا نے جب دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی متاثر کیا تو اس پروگرام کے تحت آئی ایم ایف سے مزید ادائیگی کو موخر کر دیا تھا۔ تاہم اس پروگرام کے معطل ہونے کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کو کورونا وائرس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے 1.4 ارب ڈالر کی رقم فراہم کی تھی جو اس پروگرام کا حصہ نہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے متاثرہ پاکستانی معیشت جو تقریبا ستر برسوں کے بعد پہلی بار گزشتہ مالی سال میں منفی شرح نمو میں داخل ہوئی۔پاکستان کا یہ شروع سے مسئلہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی حکومت اپنی مدت کے اختتام پر ہوتی ہے تو حکومتی اخراجات میں اضافے کی شکل میں ایک بڑا بجٹ خسارہ چھوڑ کر جاتی ہے۔ اس کے ساتھ بیرونی ادائیگیوں کا توازن بھی بگڑا ہی ہوتا ہے۔ ہر نئی آنے والی حکومت کو جب یہ خسارہ ورثے میں ملتا ہے تو اس کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ موجودہ حکومت کو بھی یہی مسئلہ درپیش تھا لیکن پہلے سال وہ اس کشمکش کا شکار رہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے یا نہیں۔ جب کئی ماہ بعد موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی تو حالات بہت زیادہ خراب ہو چکے تھے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط بھی قبول کرنا پڑیں۔ یہ بہت عشروں سے چلا آ رہا ہے اور ہر ملک کے لیے فنانسنگ کا ایک کوٹہ ہوتا ہے اور اس لحاظ سے ان کی مدد کی جاتی ہے اور بعض اوقات کوٹے سے زیادہ رقم بھی دی جاتی ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں جب ادائیگیوں میں توازن میں بگاڑ اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے تو ان کے پاس آئی ایم ایف کا آپشن ہی بچتا ہے کہ وہ ان سے قلیل مدتی اور درمیانی مدت کے لیے مدد حاصل کریں جو بغیر شرائط کے نہیں دی جاتی۔اگر آئی ایم ایف کسی ملک پر اعتماد کا اظہار کر دے تو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اس کے لیے مالی امداد اور قرضے فراہم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ تاریخ اچھی نہیں رہی اور پندرہ سے زائد پروگراموں میں سے فقط دو ہی مکمل کیے جا سکے۔