دہشت گردی کا خونین عفریت

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ داسو واقعے کی ابتدائی تفتیش میں بارودی مواد کے استعمال کی تصدیق ہوگئی ہے۔دہشت گردی سے انکار نہیں کیا جاسکتا، وزیراعظم ذاتی طور پر اس حوالے سے تمام پیشرفت کی نگرانی کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں حکومت چینی سفارتخانے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، ہم مل کر دہشت گردی کے لعنت سے لڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔ قبل ازیں چین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر ایک بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے قریب بس سانحہ کی ابتدائی تفتیش کسی دہشت گردانہ حملے کا نتیجہ نہیں ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے سانحہ، دہشت گردی کا واقعہ ہونے کی صورت میں قصورواروں کو فوری طور پر گرفتار کرنے اور سخت سزا دینے پر زور دیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ ایک حادثہ تھا اور دہشت گرد حملے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ کے قریب حملے میں نوانجینئرز، دو فرنٹیئر کور اہلکاروں سمیت کم از کم بارہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ حملہ قرار دے چکے ہیں اس سے پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان خصوصی اقدامات سے توجہ نہیں ہٹ سکتی۔کئی گھنٹوں بعد دفتر خارجہ نے حملے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بس تکنیکی خرابیوں کے باعث کھائی میں گر گئی، جس کے نتیجے میں گیس کا اخراج ہوا جس سے دھماکا ہوا۔کوہستان داسو ڈیم پر کام کرنے والے انجینئرز کی گاڑی میں مبینہ دھماکہ اور حادثے کے بعد دیامر انتظامیہ نے اچانک دیامر ڈیم سائیڈ پر قائم چائنیز کیمپس کی سیکیورٹی بڑھا دی کمشنر دیامر کی زیر صدارت  قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کمشنر کو سیکیورٹی پر بریفنگ دی گئی بریفنگ کے بعد بابوسر روڈ'شاہراہ قراقرم اور ڈیم سائیٹ پر پولیس اور جی بی سکائوٹس کی اضافی نفری کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا اور چائنیز کیمپس کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی۔بابوسر روڈ اور دیگر داخلی و خارجی راستوں پر بھی دن بھر دیامر پولیس نے ناکے لگاکر چیکنگ اور تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا۔کوہستان حادثات کے بعد ادھر دیامر انتظامیہ نے بابوسر روڈ پر بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت کی بھی اجازت دے دی ہے۔جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت غیر ملکی انجینئرز، فرنٹیئر کور کے اہلکاروں سمیت مقامی مزدور بس میں سوار تھے۔دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین قریبی دوست ہیں، پاکستان چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ڈی پی او اپرکوہستان نے بتایا تھا کہ حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آئیں تاہم حادثے میں تیرہ افراد کی موت کی تصدیق ہوگئی ہے سات افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا، جب کہ جائے وقوعہ کو دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کی مدد سے سیل کردیا گیا ہے۔ کوسٹر گاڑی میں اکتالیس افراد سوار تھے، المناک واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں،پاکستانی وزارت خارجہ چینی سفارت خانے سے قریبی رابطے میں ہے، پاکستان کی حکومت اور عوام نے متاثرہ چینی اور پاکستانی کارکنوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے، ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لئے بھی دعا کرتے ہیں۔ پاکستان اور چین قریبی دوست اور آہنی بھائی ہیں جبکہ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاو لیجیان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران حادثے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان سے بس حادثے میں چینی شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے چینی شہریوں، کمپنیوں، پروجیکٹس اور اداروں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔چینی سفارتخانے نے ہنگامی بنیادوں پرپاکستانی وزارت خارجہ وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے۔ پاکستانی فوج نے فوری طورپرریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ہیلی کاپٹرکے ذریعہ زخمیوں کو جائے حادثہ سے نکالا، چین حادثے کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔چینی سفارتخانہ کے مطابق چینی سفارتخانے نے پاکستانی متعلقہ حکام سے معاملہ کی فوری تحقیقات اور چینی پراجیکٹس کی سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا۔ چینی سفارتخانہ حادثے کی شدید مذمت کرتا ہے اورپاکستان اس حادثے کی تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔داسو میں رونما ہونے والے واقعے وزیراعلی محمود خان کی ہدایت پر صوبائی حکومت کا اعلی سطحی وفد کوہستان پہنچ گیا تھا، وفد میں کامران بنگش، چیف سیکرٹری اور آئی جی پی خیبر پختونخوا شامل ہیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا تھا کہ معاملے کی جانچ کے بعد میڈیا کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔حالیہ المناک حادثے میں دہشت گردی کے خطرات و خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے مکمل تحقیقات کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی قبل ازیں بھی ملک میں چینی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین کے قریب ایک خود کش حملے میں سائندک پراجیکٹ پرکام کرنے والے دو چینی انجینیئروں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔چینی انجینیئرز ایک خصوصی بس میں سینڈک پراجیکٹ سے دالبندین آ رہے تھے اور یہاں سے وہ جہاز کے ذریعے کراچی جانا چاہتے تھے۔جیک اہلکار کا کہنا تھا کہ جب ان کی گاڑی دالبندین شہر کے قریب پہنچی تو اس کے قریب ایک زوردار دھماکہ ہوا۔یہ دھماکہ ایک پک اپ میں ہوا جسے ایک خودکش حملہ آور نے اس بس سے ٹکرانے کی کوشش کی جس میں چینی انجینیئرز سفر کر رہے تھے۔اہلکار کے مطابق دھماکہ بس سے کچھ فاصلے پر ہوا جس کے باعث بس دھماکے کی مکمل زد میں نہیں آیا تاہم دھماکے کے باعث باعث میں سوار پانچ افراد معمولی زخمی ہو گئے۔زخمیوں میں دو چینی انجینیئروں کے علاوہ دو سکیورٹی اہلکار اور بس کا ڈرائیور شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔دالبندین شہر کے قریب کسی خود کش حملے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ دالبندین ایران اور افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کا ہیڈ کوارٹر ہے۔چاغی میں تانبے اور سونے کے دو بڑے منصوبے ہیں جن میں سے سائندک پراجیکٹ پر چینی انجینیئرز اور دیگر عملہ طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔سائیندک کے علاوہ چینی انجینیئرز اور دیگر عملہ بلوچستان میں گوادر پورٹ کے علاوہ کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں دودڑھ کے علاقے میں بھی ایک معدنی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔اس سے قبل چینی انجینیئروں کو گوادر اور لسبیلہ کے علاقے حب میں بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ماضی میں گوادر اور حب میں چینی انجنیئروں اور کارکنوں پر حملوں کی ذمہ داریاں کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی رہی ہے۔دیامر میں ایک درجن کے قریب سکولوں پر حملے کر کے انھیں تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔پھرکوئٹہ سے اغوا کیے گئے دو چینی باشندوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہیں۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں رہنے والی چینی شہری ہمارے قابل احترام مہمان اور بھائی ہیں اور ہم ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔بلوچستان کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ کوئٹہ سے اغوا کیے گئے دو چینی باشندوں کی لاشیں ملنے تک ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ان افراد کی ہلاکت کی جو ویڈیو جاری کی گئی تھی اسے دیکھنے بعد بظاہر ایسا لگتا تھا چینی باشندوں کو مار دیا گیا لیکن ان کی ہلاکت کی سو فیصد تصدیق اس وقت کی جاسکتی ہے جب ان کی لاشیں ملیں۔وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے چند ایسے بھی تھے جن کے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ رابطوں کا بھی انکشاف ہوا تھا۔ دو چینی باشندوں کی ہلاکت کی ویڈیو جاری کی گئی تھی انہیں کوئٹہ کے علاقے جناح ٹائون سے اغوا کیا گیا تھا۔یہ دونوں کوئٹہ میں زبان سکھانے والے ایک مرکز سے وابستہ تھے اور اغوا کے وقت ایک اور چینی خاتون کے ہمراہ خریداری کے لیے بازار میں موجود تھے۔اغوا کی کوشش کے دوران ایک شہری کی مزاحمت کے باعث ایک چینی خاتون اغوا ہونے سے بچ گئی تھی تاہم اغوا کار ایک چینی مرد اور خاتون کو لے جانے میں کامیاب رہے تھے۔ان افراد کے اغوا کے بعد کوئٹہ میں رہائش پذیر چھ سے زائد چینی باشندوں کو کراچی بھی منتقل کیا گیا ۔یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ چینی انجینیئرز کو ملک دشمنوں نے ہی نشانہ بنایا ہے کیونکہ حادثات کی تاریخ میں کبھی بھی بتائی گئی وجہ رونما نہیں ہوئی۔