سکردو ہسپتال کے سرجیکل کمپلیکس کا ٹینڈر خلاف ضابطہ، دوبارہ ٹینڈر کی سفارش

محکمہ تعمیرات عامہ گلگت بلتستان کی جانب سے تشکیل کردو گریوینس کمیٹی نے ریجنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو کے سرجیکل کمپلکس کے ٹینڈر کو خلاف ضابطہ قرار دیکر منسوخ کر کے از سر نو دوبارہ مروجہ قانون کے تحت ٹینڈر طلب کرنے کی سفارشات پیش کردی ہیں سرجیکل کمپلکس کا منصوبہ بلتستان کے چاروں اضلاع کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس کا ٹینڈر متعلقہ ٹھیکداروں کی جانب سے اپریل 2021ئ  کے تیسرے ہفتے میں محکمہ تعمیرات سکردو کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوچکاتھا جسے جانچ پڑتال کا عمل دو ماہ بعد مکمل کر کے جب نتائج سے ٹھیکداروں کو آگاہی حاصل ہوئیں تو جہاں ایک طرف ٹھیکداروں کی یونین نے، دوسری طرف متاثر شدہ ٹھیکدار غلام عباس اینڈ برادرز نے اس عمل کو جانبدارانہ، غیر منصفانہ اور خلاف ضابطہ قرار دے کر اپنے شکایات محکمہ تعمیرات عامہ گلگت بلتستان کے سکریٹری اور گریوینس کمیٹی کے سامنے پیش کئے وہاں ٹینڈر میں حصہ لئے ہوئے ایک اور ٹھیکدار غلام عباس گلتری نے ایک منفرد اور سنگین الزام کے ساتھ یہ شکایت پیش کی کہ محکمے کی کمیٹی نیان کے ٹینڈر کے فائنینشل بڈکو تبدیل کر کے ان کی جانب سے ان کے کاغذات پر ان کا جعلی دستخط ثبت کیاہے محکمے کے ریکارڈ میں اس قسم کی جعل سازی بلتستان کی تاریخ میں بد دیانتی کی اولین مثال تھی اب گریوینس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹینڈر کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی اپنا عمل حکومت کی جانب سے وضع کردہ اصولوں اور معیار کے مطابق کرنے میں ناکام رہی ہے ٹینڈر میں شامل سارے ٹھیکدار اپنی کامیابی کے لئے مقرر شدہ 75 نمبر حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں ٹینڈروں کی جانچ پڑتال پر دو ماہ صرف کرنے کے باوجود متعلقہ کمیٹی محکمانہ قواعد و ضوابط، پالیسیوں اور وضع کردہ رہنما اصولوں کے مطابق عمل کرنے میں  ناکام ثابت ہوا ہے۔ ان سنگین خامیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گریوینس کمیٹی نے خلاف ضابطہ ان ٹینڈروں کو منسوخ کرنے کے ساتھ اس اہم منصوبے کے لئے از سر نو ٹینڈر اصولوں کے مطابق طلب کرنے کی سفارش کی ہیعوامی حلقوں نے محکمہ تعمیرات کی جانب سے اس اہم منصوبے کو اتنے عرصے تک التوائ  میں ڈال کر بلتستان کے عوام کے ساتھ جو سنگین مذاق کیاہے اس پر تشویش کا اظہار کیاہے