زبانوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی،عبیداللہ بیگ

 وخی تاجک ایسوسی ایشن کے زیراہتمام وخی قاعدہ کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہو ئی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی سینئر وزیر کرنل (ر) عبید اللہ بیگ تھے۔ اس تقریب کے میر محفل مذہبی اسکالر عصمت اللہ مشفق تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بسنے والی تمام اقوام اور مختلف زبان بولنے والے ایک گلدستہ کے مانند ہیں۔ یہاں کے اقوام گلگت بلتستان کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وخی بولنے والی قوم نے ہمیشہ سرحدوں کی حفاظت کی ہے ۔ اپر ہنزہ ہو یا غذر کے دور افتادہ علاقہ اشکومن یا چترال کے علاقے بروغل میں اس قوم نے ہمیشہ ملک سے وفاداری کی ہے ۔جو قومیں زبان کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں ہمیں اپنی زبان کو نہیں بھولنا چاہیے۔ سینئر وزیر نے کہا کہ زبانوں کی کوئی سرحد نہیں ہو تی ہے اس لئے وخی پاکستان کے علاوہ تاجکستان، چائینا ، افغانستان اور ترکی میں بولی جاتی ہے اور یہ قاعدہ کی کتاب وخی قوم جو مختلف ملکوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ان کو یکجا کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔ میرمحفل عصمت اللہ مشفق نے وخی زبان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وخی زبان ایران سے شروع ہوا اور یہ زبان پاکستان سمیت تاجکستان ، افغانستان ، چین اور دیگر ملکوں میں پھیل گئی۔ انہوں نے کہا کہ زبان اور ثقافت کسی قوم کا اثاثہ ہو تا ہے ۔ قوم کو یکجا کرنے کے لئے زبان کی ترویج ضروری ہے۔ اگر ہم اپنی زبان کو بھول جائیں گے تو قوم اور ثقافت بھی تباہی کے دھانے تک پہنچ جاتی ہے۔ تقریب سے صدر وخی تاجک ایسوسی ایشن کے صدر سرور خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ وخی زبان کی ترویج کے لئے اس طرح کے قاعدہ بہت ضروری تھا اب یہ کتاب وخی قوم کو ایکجا کر نے اور زبان کی شناسی کے لئے معاون ثابت ہو گا۔ تقریب کے اختتام پر صدر وخی تاجک ایسوسی ایشن نے مہمان خصوصی صوبائی وزیر تجارت کرنل (ر) عبید اللہ بیگ کو قاعدے کی کتاب پیش کیا۔