سیاحت کیلئے مزید جنازے نہیں اٹھا سکتے، فوری کرونا ایمرجنسی لگائی جائے، اپوزیشن لیڈر

 قائد حزب اختلاف و صوبائی صدر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد حْسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس نے پنجے گاڑ دیئے ہیں کرونا کے مریضوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے آئے روز لوگ مر رہے ہیں کرونا کے سنٹرزمیں جگہ ختم ہورہی ہے ڈاکٹرز پیرامیڈیکل سٹاف کی بڑی تعداد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ کرونا مریضوں کے علاج کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ایمرجنسی کا نفاذ بہت ضروری ہے لاک ڈائون کے علاوہ کرونا مریضوں کے علاج کے لیے ہنگامی طور سنٹرز قائم کئے جائیں اور پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کرونا وائرس کے سنگین حالات میں بھی ٹس سے مس نہیں ہے حکومت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ کرونا سنٹرز قائم کرے تاکہ کررونا وائرس کے مریضوں کو کورنٹین اور آئسولیشن میں رکھ سکیں کورونا وائرس کے مریضوں میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور جن ہسپتالوں میں آئسولیشن اور کورنٹین سنٹرز ہیں وہاں پر پہلے سے مریض بھرے پڑے ہیں اگر صوبائی حکومت کی اسی طرح غیر سنجیدگی رہی تو گلگت بلتستان کے حالات مزید سنگین ہونگے گلگت بلتستان میں انڈین اور یو کے وائرسز پایا گیا ہے  جو بہت خطرناک ہے اس وقت تک گلگت بلتستان کو مکمل لاک ڈوان کرنا چاہیے تھا بد قسمتی سے وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری دونوں اسلام آباد سے گلگت نہیں آ رہے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کا کوئی والی وارث ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم سیاحت کیلئے لوگوں کے جنازے نہیں اٹھا سکتے ہیں آئسولیشن سنٹرز میں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے بسین اور محمود آباد میں ایک گریڈ ون انجکشن لگاتا ہے ان سنگین حالات کے پیش نظر حکومت گلگت بلتستان بھر میں لاک ڈائون کرے اور حالات کو قابو میں لائے۔انہوں نے مزید کہا کہ PHQ ہسپتال میں موجود آکسیجن سلنڈرز ایک گھنٹے میں ختم ہوجاتے ہیں جبکہ ہسپتال انتظامیہ مریضوں سے دن بھر کی فیسیں وصول کرتے ہیں کورونا مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹس میں تاخیر ہونے کی وجہ سے کرونا کے مریضوں کو بھی رپورٹس آنے سے پہلے عام مریضوں کے ساتھ رکھاجاتا ہے  جس کے بعد عام مریض بھی کورونا سے متاثر ہوتا ہے اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومت کی جانب سے ایپکس کمیٹی کا اجلاس وقت کی اشد ضرورت ہے تاکہ کورونا کے سنگین حالات سے نمٹنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا سکیں۔اپوزیشن لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ ہم میتیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے اس وباء کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے اور پاک فوج کی خدمات بھی حاصل کرے۔