کرونا صورتحال سنگین،تین اضلاع میں دفاتر بند، مزید ایک جاں بحق

گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی کرونا لہر کے پیش نظر حکومت گلگت بلتستان نے سول سیکرٹریٹ اور گلگت، سکردو اور ہنزہ کے اضلاع میں سرکاری دفاتر میں 19 جولائی سے 25 جولائی تک بند کرتے ہوئے ورک فرام ہوم کی پالیسی نافذ کر دی ہے۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ داخلہ، صحت اور جی اے ڈی کے سیکرٹریز کے آفسز کم سے کم سٹاف کے ساتھ کھلے رہیں گے، اس دوران عوام سے ملاقاتیں نہیں ہونگی۔ اسی طرح مندرجہ بالا اضلاع میں انتظامیہ، پولیس اور صحت کے دفاتر بدستور اپنا کام جاری رکھیں گے تاہم انتہائی کم عملے اور کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔  نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سیکرٹریز اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس آن لائن( فون کال ) دستیاب ہونگے اور مندرجہ بالا ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کے پابند ہونگے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کے پھیلائو میں خطرناک حدتک اضافہ ہو چکا ہے۔ جی بی میں کرونا کے زیر علاج مریضوں کی تعدا د ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔گلگت، سکردو اور ہنزہ میں متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب کویڈ کے تیزی سے پھیلائو کے بائوجود حکومت اور انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ عوام کی جانب سے ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں لیکن انتظامیہ ٹس سے مس نہیں۔ ضروری ماسک کے استعمال کے حکم پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ شہریوں کی بڑی تعداد بغیر ماسک کے آزادانہ گھوم رہے ہیں، سماجی فاصلے کا فارمولا بھی ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔ عوام کی جانب سے کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے کی وجہ سے گلگت بلتستان میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں جگہ کم پڑی رہی ہے۔ اتوار کے روز گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سے ایک اور مریض زندگی کی بازی ہار گیاجبکہ 50 نئے کیسز ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ 77 مریض مریض صحت یاب ہو گئے۔محکمہ صحت سے جاری رپورٹ کے مطابق گلگت میں 35' سکردو اور غذر میں تین تین' استور دیامر گانچھے اور کھرمنگ میں دو دو جبکہ شگر میں ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اس طرح گلگت بلتستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 845 ہوچکی ہے جن میں سے گلگت میں 448'سکردو میں 144 ' استور میں 84' غذر میں 64' ہنزہ میں 59' دیامر میں 14' گانچھے میں 12' کھرمنگ میں 9 نگر میں8  اور شگر میں 3 فعال مریض ہیں جبکہ کرونا کے 77 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جن میں سے گلگت کے 70 اور سکردو کے 7 افراد شامل ہیں گلگت بلتستان میں کرونا کے پھیلاو کے روزانہ کی شرح 8.50 فیصد ہو گئی ہے۔گلگت بلتستان میں کرونا کے پھیلائو کے باعث صورتحال تشویشناک ہونے پر صوبائی وزراء بھی متحرک ہوگئے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات فتح اللہ خان نے گلگت میں شہید سیف الرحمن ہسپتال کا ہنگامی دورہ کیا اور کرونا مریضوں کیلئے صحت کی سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لیا، صوبائی وزیر نے زیر علاج مریضوں سے بھی مسائل دریافت کئے، ہسپتال کے حکام نے فتح الہ خان کو کرونا کی صورتحال اور انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی، صوبائی وزیر نے ہسپتال میں سہولیات اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور مزید بہتر سہولیات فرامہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ادھر سکردو میںسینئر منسٹر راجہ زکریا خان مقپون کی سربراہی میں وزیر زراعت محمد کاظم میثم اور وزیر تعمیرات عامہ وزیر محمد سلیم نے آر ایچ کیو ہسپتال کا ہنگامی دورہ کیا اور ہسپتال انتظامیہ کو مطلع کیے بغیر مریضوں سے ملے۔ تفصیلات کے مطابق بلتستان میں کرونا کی بگڑی صورتحال کے پیش نظر اور آر ایچ کیو میں موجود طبی سہولیات و آئیسولیشن میں دی جانے والی سروسز کا جائزہ لینے تین صوبائی وزرا نے اچانک ہسپتال کیا دورہ کیا۔ اس موقع پر ہسپتال میں ادویات کی فراہمی، صفائی کی صورتحال، ڈاکٹرز اور پیرامیڈکل کی سروسز بلخصوص آکسیجن کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر مریضوں کی عیادت بھی کی اور شکایات بھی سنیں۔ مجموعی طور پر اسٹاف کی شدید کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا اور دو درجن سے زائد ڈاکٹر اور پیرامیڈکس جو کرونا کرونا میں مبتلا اور قرنطینہ میں موجود تھے انکی خدمات کو سراہا اور ان کی شفایابی کی دعا کی۔ اس دورہ کے بعد ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے حس میں وزرا ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے سربراہان شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں کرونا کی بگڑی صورتحال پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جائیں اور ساتھ ہی ہسپتال کو درپیش مسائل بلخصوص اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے  کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی خصوصی ہدایات پر تمام اضلاع میں کمیٹی بنائی گئی ہے جو وبائی صورتحال کے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے گی۔