گلگت بلتستان اور ویکسینیشن

 وزیر اعلی خالد خورشید خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں روزانہ دس ہزار افراد کی کرونا سے بچائو کے لئے ویکسی نیشن کی جا رہی ہے ستمبر تک پوری آبادی کی ویکسی نیشن مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے  میں کرونا کے مریضوں کیلئے ہسپتالوں میں بستروں کی تعدار تین گنا بڑھائی جا رہی ہے علاقے میں آکسیجن کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ملک میں گلگت بلتستان  ویکسی نیشن کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے  39فیصد آبادی کی ویکسی نیشن کی گئی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ این سی او سی نے کرونا  کو جس انداز میں ہینڈل کیا ہے اس کی  پوری دنیا معترف ہے۔لاک ڈائون مسئلے کا حل نہیں۔کرونا زندگی کا حصہ بن چکا ہے ایس او پیز کا خیال رکھا جائے اور ویکسی نیشن کرائی  جائے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ لاک ڈائون سے وائرس کے پھیلائو میں کمی آسکتی ہے۔ہسپتال پر دبائو کم ہو سکتا ہے وبا  کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا۔صوبے میں سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی چل رہی ہے موجودہ کرونا کی لہر انڈین وائرس کی ہے جو زیادہ خطر ناک ہے لوگ اس سے زیادہ احتیاط کریں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں لوگوں نے احتیاط نہ کیا تو مجبورا لاک ڈائون کرنا پڑے گا جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہونگی۔ملک  بھر میں کورونا کے وار جاری ہیں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 2819 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی تشخیص کے لیے 44 ہزار 579 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2819 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔گزشتہ روز اس وبا نے مزید 45 افراد کی زندگیوں کو نگل لیا۔ جب کہ مثبت کیسز کی شرح 6.32 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں اس لئے عوام ویکسی نیشن کروائیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔خطے میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات ایران میں فی 10 لاکھ آبادی 1037 اموات ہوئیں، نیپال میں 326، بھارت میں 301، سری لنکا میں 186 فی ملین اموات ہوئیں، افغانستان میں 160 اور بنگلا دیش میں 113فی ملین اموات ہوئیں۔اسد عمر نے مزید کہا کہ پاکستان میں بروقت فیصلوں کی وجہ سے کورونا اموات صرف 102فی ملین اموات ہوئیں۔کرونا وائرس ملک میں تشویشناک حد تک پھیل چکا ہے اور اس وبا سے شرح اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے حکومت سخت فیصلے لے رہی ہے اور بار بار ایس او پیز پر عمل کرنے پر زور دے رہی ہے۔کورونا وائرس کی حالیہ لہر میں شدت کے بعد کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنا نا انتہائی ناگزیر ہے ۔ کرونا کے پھیلائو کو روکنا بڑے پیمانے پر عوام کے ہاتھ میں ہے، کوئی اور ایسا نہیں کرسکتا۔ ہر پاکستانی کو انفرادی اور معاشرتی سطح پر مکمل ذمہ داری کا احساس دکھانا ہوگا تاکہ قوم کو اس تشویشناک صورتحال سے بچایا جاسکے جو اس وقت بھارت کو درپیش ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے صورتحال بہت سنجیدہ ہے، پاک فوج کو بلانے کا اقدام بھی معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے ہیلتھ سسٹم شدید دبائو کا شکار ہے۔ہسپتالوں میں نوے فیصد تک بیڈز اور وینٹی لیٹرز زیراستعمال ہیں۔ صورتحال مزید خراب ہوئی تولاک ڈاون جیسے سخت اقدامات بھی اٹھانا پڑسکتے ہیں ۔ ایسی پابندیاں لگا کر صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اس وائرس سے بچائوکاواحد حل احتیاطی تدابیر پرعمل کرنے میں  ہے۔شہری ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ صفائی سے متعلق سادہ سی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا بہت زیادہ سودمند ہے۔چھینک آنے پر منہ ڈھانپنا، ہاتھ دھونا اور ہاتھ دھونے سے پہلے منہ پر نہ لگانا جیسی احتیاطی تدابیر سانس کے ذریعے وائرس کی منتقلی روکنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ضروری حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایاجائے۔اس ضمن میں متواتر ہاتھوں کو گرم پانی اور صابن سے باقاعدگی سے دھویا جائے۔جتنا بھی ممکن ہو اپنی آنکھوں اور ناک کو چھونے سے گریز کریں۔صحت مند انداز زندگی اپنائیں۔ کوروناوائرس سے بچائوکے لئے ویکسی نیشن لازمی کرائی جائے۔کورونا کی وبا دنیا کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس کا واحد حل احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے میں ہے لہذا پوری انسانیت نے مل کر ہی خود کو اس وبا سے محفوظ کرنا ہے۔ کوروناکی تیسری لہر انتہائی خطرناک ہے لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہی اقدامات اٹھائے جو کورونا وبا کی پہلی لہر کے دوران اٹھائے گئے تھے۔حکومت وقت نے گزشتہ سال رمضان المبارک میں مساجد بند نہیں کیں، مساجد میں ایس او پیز پر عمل ہوا اور وائرس اتنا نہیں پھیلا جتنا خطے کے دیگر ممالک متاثر ہوئے۔کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متاثر ہونے والے تمام شہریوں کی معاشی کفالت کے لیے مذہبی و علاقائی امتیاز سے بالاتر ہو کر اقدامات کریں۔ علما اکرام پر زور دیا جائے کہ وہ مساجد کے اندر ایس او پیز کا اہتمام کرائیں جیسا کہ مسجد کے اندر نمازیوں میں فاصلہ رکھیں، نمازی وضو گھر سے کر کے جائیں، اپنی اپنی جائے نماز ساتھ لے کر جائیں جبکہ بزرگ شہری مسجد میں آنے سے اجتناب کریں۔یہاں ایک بات انتہائی اہم ہے کہ کورونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہیں لیکن اس میں خوف یاڈر کا ماحول نہ بنایاجائے بلکہ شہریوں کو اس کی سنگینی کے حوالے سے آگاہی دی جائے، اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔پاکستان سمیت پوری دنیا اس وقت کورونا کی لپیٹ میں ہے۔ خاص طور پر کورونا کی تیسری لہر نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے۔ اگرچہ دنیا کے کئی بڑے اور ترقیاتی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی کورونا سے کم متاثر ہیں لیکن اس کے باوجود یہاں اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے ہزاروں سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ کورونا وبا سے جہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے وہیں اس نے ملکی معیشت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے، ملک میں سماجی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں اور بے روزگاری بڑھ چکی ہے۔اگرچہ حکومت نے ان مشکلات سے نمٹنے کیلئے کافی اقدامات کیے ہیں لیکن اس کے باوجود کئی شعبوں میںشدید مشکلات کا سامنا ہے۔کورونا وائرس ایک ایسی وبا ہے جس سے کوئی محفوظ نہیں، اس وبا سے بڑوں کے ساتھ بچے اور خواتین کو بھی بری طرح متاثر ہیں۔ محض اسلام آباد کے اندر تقریبا 8 ہزار بچوں میں کورونا وائرس کی تصدیق کی جاچکی ہے۔کورونا وائرس سے جہاں عام لوگ متاثر ہیں وہیں اس وبا سے مریضوں کے علاج پر مامور فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز، نرسز و پیرا میڈیکل سٹاف کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کے دوران کیسز کی تعداد میں تیزی آنے سے ہسپتالوں پر دبائو بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے بیڈز ، آکسیجن ، وینٹی لیٹرز و دیگر سہولیات کم پڑ رہی ہیں۔ کورونا مریضوں کے دبائو کی وجہ سے ہسپتالوں میں معمول کے کام منسوخ کئے جارہے ہیں جن سے عام مریضوں کو بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔پاکستان میں کورونا کے خلاف ویکسین لگانے کی پہلی مہم کے دوران ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین لگائی گئی، دوسرے مرحلے میں60برس سے زائد عمر کے شہریوں کی ویکسی نیشن کا آغاز ہوا۔ یہ خوش آئند ہے کہ اب  کامیابی کے ساتھ کورونا کے خلاف ویکسی نیشن کا تیسرا مرحلہ شروع ہوچکا ہے جس میں شہریوں کو ویکسین لگائی جارہی ہے۔ویکسی نیشن کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کیلئے ملک بھر میں ایڈلٹ ویکسی نیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں جن میں ویکسی نیشن کا عمل ڈیجیٹل میکنزم سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔سماجی فاصلوں کو اپنانا ہوگا، صفائی کا خاص خیال رکھیں، متوازن غذا استعمال کریں، بیمار افراد سے سماجی فاصلہ اختیار کریں، کورونا علامات آنے کی صورت میں خود کو قرنطینہ کریں اور کورونا سے بچاو کی ویکسین لازمی لگوائیں۔اس عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر کے طبی محققین ویکسین کی تحقیق اور ترقی میں تیزی سے حصہ لے رہے ہیں۔شہید ذولفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ،اسلام آباد کی پہلی پبلک سیکٹر یونیورسٹی ہے جوڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کی منظوری سے کوویڈ19 ویکسین کے تیسرے مرحلے کے کلینکل ٹرائلز کے لئے ٹرائل سائیٹ نامزد ہوچکی ہے۔جس کے بعد چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف مائیکرو بیالوجی اور چینی فارماسیوٹیکل کمپنی کی تیار کردہ پروٹین ویکسین زیڈ ایف2001کی کلینکل ٹرائل کا تیسرا مرحلہ پاکستان میں شروع ہوچکا ہے ۔ زیڈ ایف2001 ویکسین ایک پروٹین ویکسین ہے اور اس ویکسین کو تیز ترین و موثر ویکسین سمجھا جاتا ہے۔اس ویکسین کے تین ڈوز لگیں گی اور ہر ڈوز ایک ماہ بعد لگائی جائیگی ۔ اس ویکسین کی کووڈ 19 کے خلاف موثریت کی شرح 92 سے 97فیصد ریکارڈ کی گئی ہے اور اسے کورونا سے متاثرہ سانس کی شکایات کے خلاف موثر ترین سمجھا جارہا ہے۔