پہاڑوں کے بیٹے محمد علی سدپارہ کا جسد خاکی

رواں سال پانچ فروری کو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما علی سد پارہ کی لاش کے ٹو پہاڑ کے بوٹل نیک کے قریب مل گئی ہے۔گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات فتح اللہ خان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں جان سنوری اور ہوان پابلو موہر کی لاشیں مل گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کو فوج کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔ پہلے علی سد پارہ اور جان سنوری کی لاشیں ملنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں لیکن کے ٹو پر مہمات کا انتظام کرنے والی کمپنیوں اور ہون پابلو موہر کے مینیجر فیڈریکو شیچ نے ان کی لاش ملنے کی بھی تصدیق کی ہے۔اطلاعات کے مطابق محمد علی سد پارہ کی لاش کے ٹو کے بوٹل نیک سے تین سومیٹر نیچے جبکہ پہلی لاش بوٹل نیک سے چار سومیٹر نیچے ملی ہے کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں بوٹل نیک کے ٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیمائوں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے اور یہ کے ٹو کا سب سے مشکل ترین حصہ ہے۔ پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ، آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے ہوان پابلو موہر کو پانچ فروری کو آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر کے ٹو کی چوٹی کے قریب آخری مرتبہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے دیکھا تھا جو آکسیجن ریگولیٹر کی خرابی کی وجہ سے مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ حکام نے چودہ دن بعد علی سدپارہ سمیت لاپتہ ہونے والے تین کوہ پیمائوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے جاری کارروائی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔کے ٹو پر مہمات کا انتظام کرنے والی کمپنی مہاشا برم ایکسپیڈیشن کے مالک محمد علی بھی علی سدپارہ کی لاش ملنے کی تصدیق کر چکے ہیں ۔ان کے مطابق ان کی ٹیم میں شامل رسیاں لگانے والے شرپاں کو بوٹل نیک کے قریب دو لاشیں ملیں جن میں سے ایک کی شناخت کر لی گئی وہ محمد علی سد پارہ کی لاش ہے جبکہ دوسری لاش کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ۔محمد علی کے مطابق ان کی مختلف ممالک کے انیس کوہ پیمائوں پر مشتمل ٹیم کے ٹو کی جانب رواں دواں تھی اس دوران سات شرپا جن میں ان کی ٹیم کے چار شرپابھی شامل ہیں، سب سے پہلے رسیاں فکس کرنے اوپر جا رہے تھے۔ جب یہ سات افراد سمٹ کی جانب رسی فکس کرنے گئے تو کیمپ فور سے آگے بوٹل نیک کے قریب پہنچنے پر انہیں پہلے ایک لاش ملی اور ایک گھنٹے بعد تقریبا سو میٹر اوپر جا کر دوسری لاش ملی۔کچھ دیر بعد تیسری لاش بھی مل گئی ۔محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے کچھ تصاویر اور نشانیاں بتائیں جن کی مدد سے علی سد پارہ کی لاش کی شناخت کی گئی ۔اب آرمی کے ہیلی کاپٹر لاشوں کو بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کی جائے گی۔آج سے قبل پاکستان میں ایسا آپریشن کبھی نہیں کیا گیا کہ اتنی اونچائی سے لاشوں کو نیچے لایا جائے۔اس آپریشن کے لیے آرمی کو اپنے ہیلی کاپٹر میں سیٹیں اور پٹرول کم کر کے ہیلی کاپٹر کا وزن کم کرنا پڑتا ہے اور یہ انتہائی خطرناک آپریشن ہوتا ہے۔اگر آرمی کامیاب ہو گئی تو دنیا میں اتنی اونچائی سے لاش نیچے لانے کا یہ ایک ریکارڈ آپریشن ہو گا۔کہا گیا ہے کہ پاکستان آرمی کے پاس کوئی ایسا ہیلی کاپٹر موجود نہیں ہے جو سات ہزارمیٹر سے اوپر پرواز کر سکے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ لاشیں آٹھ ہزار تین سومیٹر کے آس پاس پائی گئی ہیں۔لہذا ان لاشوں کو جہاں یہ موجود ہیں وہاں سے ورٹیکل سات ہزارمیٹر نیچے تک لانا پڑے گا جو کے ٹو کا بلیک پیرامڈ سیکشن ہے اور یہ بہت زیادہ پتھریلا حصہ ہے۔ کوہ پیمائوں کو ہر حال میں یہاں تک لاشوں کو اٹھا کر لانا پڑے گا۔ اس کام کے لیے ایک منظم اور مربوط کوشش کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دو تین بندوں کے بس کا کام نہیں ہے۔جب تک ان لاشوں کو سات ہزارمیٹر تک نہیں لایا جاتا، دنیا کا کوئی سلنگ آپریشن ممکن نہیں ہو سکتا ۔ ہیلی کاپٹر سے ریسکیو لانگ لائن کے ذریعے کیا جاتا ہے یعنی ہیلی کاپٹر اوپر جا کر لانگ لائن کی رسی نیچے پھینکتا ہے اور نیچے سے زندہ انسان یا لاش کو اس کے ساتھ باندھ کر اوپر اٹھا لیا جاتا ہے۔جب محمد علی سدپارہ لاپتہ ہوئے اس وقت بیس کیمپ سے سکردو پہنچنے پر علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے بتایا تھا کہ جب انہیں ڈیتھ زون میں آٹھ ہزار دو سومیٹر کی بلندی پر ہیلوسنیسیشن شروع ہوئی اور آکسیجن ماسک کا ریگولیٹر خراب ہو جانے کے باعث انہوں نے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا اس وقت آخری بار انہوں نے اپنے والد علی سدپارہ کی ٹیم کو بوٹل نیک میں بہت اچھی اور فٹ حالت میں سمٹ کی جانب رواں دواں دیکھا تھا۔ساجد کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے والد نے سمٹ کیا ہے یعنی کے ٹو کی چوٹی تک پہنچے ہیں اور ان کے ساتھ جو بھی حادثہ ہوا وہ سمٹ سے واپسی کے سفر میں بوٹل نیک یا کہیں نیچے ہوا۔دو ہفتوں کی تلاش کے دوران محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے پاکستان فضائیہ کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس خصوصی طیارے نے آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر سے اوپر پروازیں کی تھیں اور کے ٹو کی چاروں اطراف سے خصوصی فلم بندی اور ہائی ایچ ڈی کیمروں کی مدد سے تصاویر لی گئیں تھیں۔سرچ آپریشن کے دوران آئس لینڈ اور چلی نے بھی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی تھیں جس میں محمد علی سدپارہ اور ٹیم کے اس آخری مقام کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں ان سے آخری بار رابطہ ہوا تھا۔اس سرچ کے دوران زمینی راستوں سے بھی ان تینوں کوہ پیمائوں کی لاشیں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس مقصد میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی تھی۔دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کی مہم جوئی میں لاپتا ہونے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے ان کی موت کی تصدیق کر دی تھی۔علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیمائوں کے ساتھ جس بلندی پر حادثہ پیش آیا وہاں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔علی سدپارہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے عالمی معیار کا ایک کلائمبنگ سکول تعمیر کرنا چاہتے تھے۔کے ٹو بیس کیمپ کے مطابق محمد علی سدپارہ، جان سنوری اور ژاں پابلو موہر کے ساتھ آخری رابطہ پانچ فروری کو ہوا تھا۔جان سنوری کا تعلق آئس لینڈ سے تھا جبکہ جے پی موپر کا تعلق چلی سے ہے۔ یہ دونوں کوہ پیما عالمی سطح پر شہرت رکھنے والے کوہ پیما تھے۔ علی سدپارہ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاچن پر ہونے والے تصادم کے دوران بھی پاکستانی فوج کے لیے بطور پورٹر خدمات سر انجام دی تھیں۔علی سدپارہ نے2016میں موسم سرما میں پہلی بار نانگا پربت سر کرنے کا اعزاز اپنے نام کیا تھا۔ 2015میں علی سدپارہ اور ان کی ٹیم نے موسم سرما میں نانگا پربت کی چوٹی سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا تھا لیکن وہ ناکام رہے تاہم2016 میں وہ یہ اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے۔علی سدپارہ نے نانگا پربت چوٹی چار بار سر کی جب کہ2018میں انہوں نے کے ٹو سر کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔2018میں علی سدپارہ نے ہسپانوی کوہ پیما الیکس ٹیکسون کے ہمراہ موسم سرما میں دنیا کی بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ بغیر آکسیجن کے سر کرنے کی مہم کا آغاز کیا لیکن وہ ناکام رہے تھے۔محمد علی سدپارہ 1976 میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق اسکردو کے علاقے سد پارہ سے ہے، انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اس ٹیم کا حصہ تھے، جس نے 2016 میں سردیوں کی مہم جوئی کے دوران پہلی مرتبہ نانگا پربت کو سر کیا تھا۔ انپیں یہ فخر بھی حاصل ہے کہ انہوں نے آٹھ ہزار میٹر کی آٹھ چوٹیاں فتح کرنے کے علاوہ ایک سال کے دوران آٹھ ہزار میٹر کی چار چوٹیاں بھی سر کی تھیں۔ان کے بیٹے ساجد سدپارہ کو بھی کے ٹو فتح کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے کوہ پیمائی کی تربیت اپنے والد ہی سے حاصل کی تھی۔ اس مہم میں بھی وہ اپنے والد کے ہم راہ شامل تھے، لیکن آکسیجن ریگولیٹر خراب ہونے کے باعث وہ یہ مہم ادھوری چھوڑ کر واپس آ گئے تھے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی بھی ہے۔ کے ٹو کی بلندی آٹھ ہزارچھ سو گیارہ میٹر ہے، جو دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے صرف دوسومیٹر ہی کم ہے۔ لیکن کے ٹو مائونٹ ایورسٹ سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ہے۔یہاں کوہ پیمائوں کی شرح اموات انتیس فی صد ہے، جب کہ مائونٹ ایورسٹ پر یہ شرح چار فی صد ہے۔کوہ پیمائی کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ بلند وبالا پہاڑوں پر جانے سے قبل کئی ہفتے جسم کو ماحول سے جوڑنے کا عمل کرتے ہیں، تاکہ ایسی صورت میں جسم پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ بہرحال اللہ کا شکر ہے کہ پہاڑوں کے بیٹے محمد علی سدپارہ کا جسد خاکی مل گیا ہے اس عظیم کوہ پیما کو جس نے پاکستان کا نام سربلند کیا ان کی تدفین پورے قومی اعزاز کے ساتھ کی جانی چاہیے۔