وفاقی کابینہ، گلگت بلتستان کیلئے ایڈیشنل اسپیکٹرم نیلامی کی منظوری

 وفاقی کابینہ نے نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی 2021کی منظوری دے دی۔پالیسی کے نفاذ، امور کی نگرانی، حکمت عملی کے تعین اور اقدامات کے لیے سائبر گورننس پالیسی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے ایڈیشنل اسپیکٹرم کی نیلامی کی بھی منظوری دی گئی۔وفاقی وزیر امین الحق کا کہنا ہے کہ قلیل مدت میں اہم ترین پالیسی کی تیاری پر وزارت آئی ٹی کے حکام اور ماہرین مبارک باد کے مستحق ہیں، اس پالیسی کا اولین مقصد شہریوں، سرکاری و نجی اداروں کے آن لائن ڈیٹا اور معلومات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔امین الحق کے مطابق سرکاری و نجی ادارے ڈیٹا، خدمات، آئی سی ٹی مصنوعات اور سسٹمز کے حوالے سے سائبر پالیسی کے پابند ہوں گے، پاکستان کے کسی ادارے پر سائبر حملے کو قومی سالمیت پر جارحیت تصور کیا جائے گا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سائبر حملے کی صورت میں تمام مطلوبہ اقدامات اور جوابی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، سرکاری اور نجی سروس نیٹ ورکس میں سائبر سیکیورٹی کے عمل کو مربوط اور مستحکم کیا جائے گا۔امین الحق نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت قومی سیکٹر اور اداروں کی سطح پر کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم بنائی جائے گی، ماہرین اور تمام مطلوبہ و جدید آلات سے آرستہ یہ ٹیم سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی، جب کہ قومی سطح کی اس ریسپانس ٹیم کے لیے ایک ارب 92کروڑ روپے کا بجٹ بھی مختص کیا گیا ہے۔ دریں اثناء کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم ہائوس میں پریس کانفرنس ہورہی تھی اور وزیراعظم رو رو کر کہہ رہے تھے کہ اب میں ہار گیا ہوں تو الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، آپ کی اپنی حکومت، آپ کا اپنا لگایا ہوا الیکشن کمیشن اور اس کے بعد آپ الیکشن ہار جائیں تو پھر آپ کہیں کہ دھاندلی ہوئی تو اس کا کیا حل ہے۔آزادکشمیر میں وزیراعظم ن لیگ کا الیکشن کمشنر بھی ن لیگ نے لگایا ،ایسے میں دھاندلی کون کرسکتا ہے؟ن لیگ کو اپنی بری شکست کو تسلیم کرلینا چاہیئے،اسی لیے وزیراعظم ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنے کی بات کرتے ہیں، جب سارا عملہ آپ کا لگایا ہوا ہو پھر بھی آپ کو یقین نہیں ہے اور آپ کہہ رہے ہوں کہ دھاندلی ہورہی ہے تو پھر واحد حل یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی طرف بڑھتے ہیں۔کابینہ اجلاس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کابینہ نے وزیراعظم کو آزاد کشمیر میں کامیابی پر مبارک باد دی، وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے علی امین گنڈا پور، مراد سعید، علی محمد اور شہریار آفریدی سمیت دیگر لوگ، جنہوں نے اس مہم میں حصہ لیا اس کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ سمجھتی ہے کہ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف  کی کامیابی وزیراعظم کی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے، وزیراعظم نے آزادکشمیر الیکشن میں جاں بحق ہونے والے پی ٹی آئی کے دو کارکنوں کی ہلاکت کی فوری تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے،کابینہ اجلاس میں الیکشن ڈیوٹی کے دوران شہید 4 فوجی جوانوں اور 2 پی ٹی آئی ورکرز کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ  ہم نے فراہم کی جانے والی سیکیورٹی پر بات کی تھی اور اس حوالے سے کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ سیکیورٹی کے سب سے کم اخراجات وفاقی کابینہ پر ہو رہے ہیں، عدلیہ پر سیکیورٹی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت پولیس کی جانب سے صدر، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلی، وزرائے مملکت، مشیران اور معاونین خصوصی کی سیکیورٹی پر 762پولیس اہلکار، 14رینجرز اور ایف سی اہلکار تعینات ہیں اور ان پر 70کروڑ روپے کا خرچ ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جج صاحبان کی سیکیورٹی کے لیے 377پولیس اہلکار تعینات ہیں اور ان پر 28کروڑ 70لاکھ خرچ ہو رہا ہے، لاہور میں 11کروڑ 43لاکھ خرچ ہو رہا ہے، مجموعی طور پر عدلیہ کی سیکیورٹی پر تقریبا 140کروڑ روپے خرچ ہورہا ہے، جس میں خیبرپختونخوا (کے پی)، سندھ اور بلوچستان شامل نہیں ہے تو ججوں کی سیکیورٹی کا معاملہ شاید 160سے 170کروڑ روپے سے بھی اوپر چلا جائے گا۔کابینہ اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے جو اخراجات ہیں وہ 44کروڑ 60لاکھ ہیں، دلچسپ بات ہے کہ ہمارے سابق سول اور پولیس کے اہلکار یا سرکاری ملازمین، یا سابق وزرائے اعظم، صدور ہیں، ان کے اخراجات تقریبا 30کروڑ روپے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں ایک رواج بن گیا ہے کہ جو سیکریٹریز اور آئی جیز ریٹائر ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ بہت سارے اہلکار لے کر چلے جاتے ہیں، اسی طرح اہم سرکاری شخصیات کی سیکیورٹی پر مجموعی طور پر 10کروڑ 90لاکھ روپے اور مجموعی 109کروڑ روپے سے زائد وفاقی حکومت کا سالانہ بنیاد پر سیکیورٹی کا خرچ ہے۔انہوں نے کہا کہ  پنجاب حکومت کے سالانہ سیکیورٹی اخراجات 252کروڑ 90لاکھ روپے ہیں، کے پی پولیس 99کروڑ 30لاکھ روپے خرچ کر رہی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے سیکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا نظام وضع کرنے کا حکم دیا ہے اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک تھریٹ کمیٹیاں بنائی جائیں گی، وفاق، پنجاب، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور اب کشمیر میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں کمیٹیاں بنائی جائیں گے جو انفرادی خطرات کا جائزہ لیں گی اور اس کے مطابق سیکیورٹی کا بندوبست کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کروڑوں روپے کی بچت ہوگی اور اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اس ضمن میں عدلیہ سے بات بھی کریں گے اور ان کے مطابق بھی آگے بڑھا جائے گا کیونکہ ججوں کی سیکیورٹی بھی ہمارے لیے اہم ہے اس لیے کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے وہ بھی اہم جزو ہے۔الیکٹرونک ووٹنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بابر اعوان نے کابینہ کو بریفنگ دی اور اپوزیشن کے ساتھ معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں، اسپیکر صاحب ملک سے باہر آذربائیجان گئے ہوئے ہیں، جب واپس آئیں گے تو کمیٹیوں کے ذریعے بات ہوگی،نیب قانون سے متعلق بھی اپوزیشن کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات چاہتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ کو کاروباری افراد، کمپنیاں اور خصوصا نیا کاروبار شروع کرنے والے افراد کی آسانی کے لیے فرسودہ قوانین کو ختم کرکے نئے قوانین کے اجرا کے عمل کا آغاز کرنے کا اختیار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے جمہوریہ چیک کے ساتھ دوہری شہریت کی اجازت دی ہے، جمہوریہ چیک نے ہمارے لیے قانون میں ترمیم کی تھی اور اب پاکستان نے بھی اجازت دی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کابینہ نے ملک کی پہلی قومی سائبر سیکیورٹی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، دنیا بہت تیزی سے سائبر وار کی طرف جارہی ہے، آج ہم اپنی ساری بینکنگ ٹرانزیکشنز اے ٹی ایمز اور موبائل فون پر کر رہے ہیں تو اگر ریکارڈ ہیک ہوجائے تو مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں سائبر سیکیورٹی رجیم بن رہی ہیں اور وزارت آئی ٹی نے ہماری پہلی پالیسی دی ہے جو ہمارے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے حکومتی اشتہارات کی پالیسی 2021کی منظوری دی ہے، اس میں پہلی بار پچھلے 3مہینوں میں ایسا ہوا ہے کہ ہماری طرف ادائیگیاں صفر ہیں، حکومت کی جانب سے اخبارات اور ٹی وی کو جو اشتہارات دیے جاتے ہیں، اس کی ادائیگیاں فورا ہوتی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے سارے پیسے دے دیے ہیں لیکن اب بھی چند ادارے تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں، اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ بھی دور کرتے ہیں، کیونکہ ٹیکنیکل کام کرنے والوں کی تنخواہیں بالکل بھی نہیں روکنی چاہیے، اس کے لیے قانون سازی پر کام کر رہے ہیں لیکن اداروں کو خود بھی خیال رکھنا چاہیے اور اپنے کارکنوں کو تنخواہیں دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اہم پالیسی بنائی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل میڈیا کو حکومت کے اشتہارات میسر ہوں گے، اس وقت ڈیجیٹل اشتہارات کی مالیت 25ارب ہوگئی ہے، ایف بی آر نے اس پر کوئی پالیسی نہیں بنائی لیکن ہم اس کو جدید بنیادوں پر لے گئے ہیں،پاکستان میں پہلی بار ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ کی منظوری دی گئی ہے، پہلی بار پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو پیپرلیس کرکے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا ہے،کابینہ نے شعبہ آئی ٹی میں سپیکٹرم نیلامی کی منظوری دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگست  میں بڑے شہروں کی 40 فیصد آبادی کو کرونا ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا   تھا،ہدف کے مقابلے میں ویکسین لگانے کی شرح اب بھی کم ہے،سرکاری کارپوریشنز کے ملازمین کیلئے ویکسین لگوانا لازمی قراردیا جارہا ہے، اگر رضاکارانہ طور پر ویکسین لگانے کی شرح میں اضافہ نہ ہوا تو ویکسین نہ لگوانے والوں کی موبائل سم بندکرنے کا آپشن کھلا ہے،الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں کوئی تعطل نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کی منظوری دی،کابینہ نے بیرون ممالک کیساتھ سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں کے نئے فریم ورک اور حکمت عملی کی منظوری دی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان لوگوں کیلئے انتہائی محفوظ ملک ہے ، ترقی یافتہ ممالک میں جرائم کی شرح زیادہ ہے،وزیراعظم نے کہا ہے کہ ٹیکس گزاروں کے پیسوں کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ عوام کو اعتماد ہونا چاہئے کہ انکے ٹیکس کے پیسے جائز استعمال ہورہے ہیں۔