خواندگی کی اہمیت

 وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے خواندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے اہم پیغام میں کہا ہے کہ خواندگی کسی بھی معاشرے کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے انتہائی ناگزیر ہے بالخصوص تخفیف غربت کیلئے خواندگی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کی طرف رجحان دوسرے صوبوں سے بہتر ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کے زیادہ تر اضلاع میں شرح خواندگی قومی سطح سے کافی کم ہے۔ شعبہ تعلیم ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ہماری حکومت نے ترقیاتی و ریگولر بجٹ کا ایک بڑا حصہ اس شعبے کیلئے مختص کیا ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ مڈل سکول کے بچوں و بچیوں کیلئے ٹرانسپورٹیشن  وظیفہ مقرر کیا گیا ہے۔ سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے خصوصی منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ مفت کتابوں کی فراہمی کیلئے مختص بجٹ کو بڑھایا گیا ہے۔ نئے تعمیر شدہ سکولوں کے پی سی فورکی منظوری کے لئے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ سرکاری سکولوں میں ای سی ڈی سینٹر کا خصوصی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں کرونا نے درس و تدریس کے عمل کو بڑی طرح متاثر کیا ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے دنیا  آن لائن و ڈیجیٹل لرننگ کی طرف راغب ہورہی ہے۔ ہماری حکومت بھی گلگت بلتستان  میں بہترین انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہے جو گلگت بلتستان کے کونے کونے میں ڈیجیٹل لرننگ کی سہولیات یقینی بنانے کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں گلگت بلتستان کی شرح خواندگی کو ترپن فیصد سے بڑھا کر ساٹھ فیصد تک لیجانا ہمارا اہم ہدف ہے جس کے لئے تمام وسائل بروئے کار  لائے جائیں گے۔ کسی بھی ملک کی ترقی میں شرح خواندگی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، جس کے بغیر ترقی اور خوشحالی ناممکن ہے۔ آج کے دور میں ہمارے معاشرے کو ناخواندہ معاشرہ سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے کوئی بھی شخص معاشرتی سیاسی، معاشی اور قومی ترقی میں اپنے کردار ادا کرنے سے قاصر رہتاہے۔ اس طرح ہر فرد کو دوسروں سے استحصال کا خطرہ رہتا ہے۔ایک قوم گڈ گورننس، مضبوط معیشت اور اچھی تعلیم کے بغیر پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتی۔ یہ ایک  حقیقت ہے کہ کوئی بھی قوم اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے جب اس کے شہری پڑھے لکھے ہوں۔کوئی بھی فرد ترقی ذاتی حیثیت میں نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات پوریمعاشرے پر رونما ہوتے ہیں۔اعداد و شمار کے پڑھنے، لکھنے اور استعمال کرنے، خیالات اور رائے کا اظہارکرنے، فیصلے کرنے اور معاملہ فہمی کے ہیں ۔بنیادی طور پر خواندگی ان تمام اصولوں کا مجموعہ ہے جن کا سامنا انسان کو اپنی زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔بہت سے تجزیہ کار خواندگی کی شرح کو کسی خطے کے انسانی سرمائے کی قدر کا اہم پیمانہ سمجھتے ہیں۔پڑھے لکھے لوگوں کو ناخواندہ لوگوں سے زیادہ آسانی سے تربیت دی جاسکتی ہے اور عام طور پر ایک اعلی معاشرتی معاشی حیثیت حاصل ہوتی ہے  اس طرح وہ صحت اور روزگار کے بہتر امکانات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ خواندگی سے روزگار کے مواقع اور اعلی تعلیم تک رسائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر انتخابی خرابیوں کے لئے خواندگی کافی ذمہ دار ہے۔ان میں سیاست کی طرف بے حسی، دھاندلی، ووٹوں کی فروخت شامل ہیں۔یہ خواندہ سیاستدان ہی ہیں جو تمام مذموم سیاسی سرگرمیوں کا ارتکاب کرنے کے لئے ان پڑھ کو جوڑ توڑ کرتے ہیں۔ یہاں خواندگی کا شدیداستعمال کیا جاتا ہے۔اس کو روکنے کے لئے گراس روٹ کمیونٹیز تک خواندگی کی تعلیم کی فوری ضرورت ہے جو سیاسی نظام میں شائستگی کا آغاز کرے گی اور قومی ترقی میں اضافہ کرے گی۔ایک خواندہ شخص جانتا ہے کہ کسی بھی دوسرے فرد کے ساتھ کسی بھی موضوع پر زیادہ آسانی سے با اثر بات چیت کیسے کرنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواندہ شخص  موثر انداز میں بات چیت کے لئے قومی اور بین الاقوامی زبان کی خواندگی حاصل کی ہے۔ یہ موقع کی مناسبت سے بات کرتا ہے۔موثر انداز میں بات چیت کی صلاحیت کے ساتھ ایک پڑھا لکھا خواندہ شخص قومی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ خواندگی کی تعلیم کے ذریعے شعور اور حساسیت کے نتیجے میں بچوں کی اموات کی شرح کم ہورہی  ہے جس سے قومی ترقی میں مدد ملی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی سے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں ہیں۔ خواندگی کی تعلیم کے نتیجے میں شعور پیدا ہو رہا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تعلیم یافتہ ذہن معاشرے میں منظم سلوک کا پابند ہے۔ معاشرے میں پرامن بقائے باہمی کی اہمیت سے متعلق نوجوان ذہنوں کو تعلیم دینے کے نتیجے میں ملک میں امن قائم ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو خواندگی کی تعلیم کے ذریعے صحیح معلومات سے روشناس کرایا جاتا ہے۔ نتیجتا اس سے قومی ترقی میں مدد ملتی ہے۔خواندگی کی زندگی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ بظاہر اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ خواندگی کی تعلیم کے ذرائع کے بغیر، ہمارے لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا کہ ان کی صلاحیتیں کیا ہیں۔ صرف  پڑھا لکھا تعلیم یافتہ بالغ ہی ہوسکتا ہے جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی ضرورت کو سمجھے اور دوسروں کو بھی آگاہ کرے گا، جو قومی تعلیم کی شرح کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ اگر ہم نے تعلیمی میدان میں خاطر خواہ ترقی نہیں کی تو نہ صرف یہ کہ ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ شاید ہمارا وجود ہی قائم نہ رہے، افسوس کہ ہم آج تک تعلیم کے میدان میں خاطر خواہ کام نہیں کر پائے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے میدان میں ہماری حالت انتہائی قابل رحم ہے۔ ہماری ترقی کا خواب اسی وقت پورا ہو گا جب ہمارا فوکس تعلیم پر ہو گا اور ہماری نوجوان نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہوگی۔ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں سکول داخل نہ کروائے جانے والے بچوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ڈراپ آئوٹ کا مسئلہ بھی بڑھا ہوا ہے۔ ان بچوں کو سکول میں لانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔وطن عزیز میں ہمیشہ سے ہمارے ارباب اختیار کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ انتہائی نچلے درجے پر رہا ہے۔ اب دیر آید درست آید کے مصداق حکومتوں نے تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبہ کے لیے بجٹ میں ماضی کے مقابلے میں خاطر خواہ وسائل مختص کیے ہیں، جو حکومتی اعلانات دعوئوں اور وعدوں کی حد تک تو انتہائی پر کشش اور سحر انگیز دکھائی دیتے ہیں مگر تعلیمی شعبہ میں انقلاب کے لیے ہمیں ان پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ناخواندگی کی شرح ملک کے مختلف حصوں میں مختلف ہے لیکن سب سے زیادہ ناخواندگی دیہات میں دیکھنے میں آتی ہے، جہاں اکثر عورتیں لکھنا پڑھنا نہیں جانتیں۔ آج  کل شہروں میں اگرچہ بیداری کی نئی لہر دوڑ چکی ہے لیکن ملک کا اہم حصہ یعنی دیہات اب بھی خواب غفلت میں محو ہیں۔ اگر ہم تیزی سے ترقی کرتی قوموں کے حالات کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھا اور خود احتسابی کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے کبھی اپنی غلطیوں کو نہیں دوہرایا۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی میدان میں ہماری ناکامیوں اور زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے اساتذہ زیادہ تر غیر تدریسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، کبھی پولیو مہم، کبھی ڈینگی آگاہی مہم، کبھی امتحانات اور الیکشن میں ڈیوٹیاں یا پھر کوئی اور سرکاری کام، جس کی وجہ سے بچوں کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو تی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کو کسی بھی غیر تدریسی عمل میں شریک کرنے کے بجائے ان کاموں کے لیے الگ سے بھرتیاں کی جائیں تا کہ اساتذہ اپنے کام پر پوری توجہ دے سکیں، ورنہ ہمارا معیار تعلیم پست سے پست ہوتا چلا جائے گا۔مغربی ممالک کی اقتصادی میدان میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہی ناخواندگی کا قلع قمع کر دیا۔ ان ممالک میں کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور کارخانوں میں کام کرنے والے کاریگر سب تعلیم یافتہ ہیں۔ ایسے افراد جو بچپن میں کسی وجہ سے سکولوں سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر سکے، انہیں ضروری تعلیم دے کر معاشرے کے مفید افراد بنانا تعلیم بالغاں کہلاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم بالغاں کی بدولت خواندگی کی شرح کو سو فیصد تک کر لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکی ہیں۔ تعلیم بالغاں کی بدولت افراد کو ضروری تصورات کی تفہیم کے ساتھ مختلف فنون سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ کار آمد افراد بن کر ملک وقوم کے لیے مفید بن سکیں۔ ان پڑھ بالغ افراد کو تعلیم دینا کہ وہ اپنے کھیتوں کو سرسبز بنا سکیں یا کارخانوں میں بہتر کاریگر ثابت ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بالغ شخص کو تعلیم دینا دولت اور محنت کا ضیاع نہیں ہے۔