گلگت میں خصوصی ٹیکنالوجی زون کے قیام کی ہدایت

 وزیراعظم عمران خان نے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اور چیئرمین سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی سے ملاقات میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے گلگت میں خصوصی ٹیکنالوجی زون قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے وزیراعلی خالد خورشید کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبے جلد از جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے خالد خورشید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں ٹیکنالوجی زون قائم کر کے عوام کیلئے روزگار کے بے پناہ مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، گلگت بلتستان کی تعمیروترقی پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں، عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے اور معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے جاری ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے ، اہم منصوبوں کی تکمیل سے خطہ ترقی کرے گا۔گلگت میں ٹیکنالوجی زون کا قیام ایک مثبت فیصلہ ہے ۔ٹیکنالوجی کی اہمیت سے موجودہ دور میں کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔ شعبہ ہائے حیات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں آج کی ضرورت یا اس کا استعمال نہ ہوتا ہو۔ گھر میں مختلف گیجیٹس سے لے کر ہوائی جہاز اور راکٹ چلانے تک کمپیوٹر کی معلومات اور اس سے متعلقہ کورسس کی اہمیت و افادیت سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔ موجودہ دور میں اسکولوں میں رزلٹ اور فیس کا نظام، بینکنگ، کمپنیوں یا کارپوریٹس کے حساب کتاب کی دیکھ ریکھ، حکومتی و نجی شعبوں میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل،ریلوے ، بس، ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی بکنگ، رقوم کی ادائیگی کے اپلیکیشن پے ٹی ایم یا پھر اپنے موبائیل فون پر اپلیکیشن کی مدد سے اولا یا اوبر کی خدمات حاصل کرنا وغیرہ یہ ساری کرامات اور کرشمے کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت ہیں۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن کہتے ہیں'سائنس ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی ترقی کے حصول کیلئے مضبوط اورنظریاتی قیادت کی ضرورت ہے۔ سائنس ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کے نفاذ کیلئے حکمت عملی کی تیاری اورمستقل تجزیہ کیلئے ادارہ قائم ہونا چاہئے اور باقاعدہ پیش بینی مشقیں اقوام متحدہ سے منظور شدہ اطوار، ڈیلفی کے مطابق مستقل بنیادوں پر منعقد کرنی چاہئیں۔ ان حکمت عملیوںمیں ملک کی تمام وزارتوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ اس پورے عمل میں مکمل طور پر تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہونی چاہئے اور مسلسل طویل المدتی عمل برقرار رکھنے کیلئے تمام متعلقین، جن میں معاشرے کے خاص افراد، غیرسرکاری تنظیمیں، نجی شعبہ جات اور موضوع کے ماہرین کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی ترقیاتی منصوبوں میں  سائنس ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی پالیسیوں کیلئے مناسب فنڈز مختص کئے جائیں جس میں ایک بڑی رقم تحقیق و ترقی کیلئے مختص کی جائے جوملکی مجموعی پیداواری صلاحیت کا کم از کم دو فیصد ہو۔علم پر مبنی معیشت کا سب سے اہم عنصراس کے معیاری تعلیم یافتہ، پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے لیس کارندے ہوتے ہیں۔لہذا اسکولوں ، کالجوں ، اور جامعات کا تعلیمی معیار اور تعلیمی نظام میںانقلابی تبدیلیاں لانے کی اشدضرورت ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ طلبا میں مسائل کو حل کرنے کی مہارت ، جدت طرازی اور تنقیدی سوچ اجاگر کی جائے۔ بالخصوص سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی پر زور دیا جائے۔ اس کیلئے ہماری حکومت کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور امتحانی نظام کے انداز میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے ۔ موجودہ نظام تعلیم رٹ کر پاس ہونے کی ترغیب دیتا ہے اور مسائل کے حل تلاش کرنے پر بہت کم توجہ دیتا ہے۔ ہمیں کم از کم اپنی جی ڈی پی کا چھے فیصد حصہ تعلیم کیلئے مختص کرنا چاہئے جس کا ایک چوتھائی حصہ اعلی تعلیمی شعبے کیلئے مختص کیا جائے۔ یہ قدم عالمی معیار کے تحقیقی اداروں کے قیام اور اعلی معیار کے پیشہ ور افراد سائنسدان اور انجینئر اور تکنیکی تربیت یافتہ افرادی قوت کی تشکیل میں مدد گار ثابت ہوگا۔اس طرح معیاری ماہر اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے لیس تحقیق و ترقی سے وابستہ افراد مناسب تعداد میں مہیا ہو سکیں گے۔ ان کی تعداد تقریبا تین ہزار افراد فی دس لاکھ آبادی ہونی چاہئے تاکہ یہ دیرپا ترقی کا سبب بن سکیں۔اسی طرح ملک کے نجی شعبوں کاعلمی معیشت کے قیام میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ پاکستان کو اہم نجی شعبوں کو فروغ دینے کیلئے مناسب منصوبہ بندی، صنعتی حلقوں میں سرمایہ کاری اور ترغیبات پر زور دینا چاہئے۔ حکومت کو اعلی تکنیکی صنعتوں سے وابستہ نجی کمپنیوں سے کاروباری معاہدے کرنے چاہئیں تاکہ ان کو فروغ دیا جائے۔ حکومت کو چاہئے کہ صنعتی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے اندرونی اور بیرونی علمی افراد کو متعین کرے جن میں انتہائی ہنرمند مشیر انتظامی امورشامل ہوں، نجی شعبوں میں تکنیکی ماہرین کی ملازمت کے دوران تربیت کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور تحقیق و ترقی اور عملی تجزیئے کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ علمی صنعتی گروپ بنائے جائیں تاکہ مثبت باہمی اشتراک اور کارآمد علم باہمی تعاون سے استعمال ہو سکے۔پاکستان کو اگر بڑھنا ہے تو ایک قومی ایمرجنسی لگانی ہوگی تاکہ ہماری قوم اپنا سارا زور تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کی طرف لگائے اور ایسی نئی صنعتیں قائم کی جائیں جیسا کہ سنگاپور اور کوریا نے کیا ہے تاکہ ہم غربت کے شکنجے سے آزاد ہو سکیں۔ ٹیکنالوجی علم کے اس مجموعے کی نمائندگی کرتی ہے جس کی مدد سے انسان بہتر ماحول ، صحت مند ، زیادہ خوشگوار اور سب سے بڑھ کر زندگی کی اصلاح کے لیے آرام سے ترقی کرتا ہے۔ ٹیکنالوجی حالیہ صدیوں میں رونما ہونے والے مختلف انقلابات کے ساتھ خلا کو بہتر بنانے کی تکنیک کو یکجا کرتی ہے ، خاص طور پر صنعتی انقلاب میں اس سے پہلے اور اس کے بعد ایک ٹیکنالوجی کے بعد نشان زد کیا گیا تھا ، ہاتھ سے قدم بہ قدم کام کرنا ۔ بھاپ پر مبنی مشین کے ذریعہ تیار کردہ سیریل کام ہو جس کے ساتھ کسی قسم کا ٹول اور ٹرانسپورٹ بیلٹ اس میں چلا گیا ، اس طرح زیادہ مقدار ، بہتر بجٹ اور بہترین معیار میں خام مال تیار کیا جائے۔اس حقیقت کو اجاگر کرنا ضروری ہے کہ جب سے انسان ایک عام خانہ بدوش کی حیثیت سے شروع ہوا ہے اس سے ٹیکنالوجی ہمیشہ موجود ہے۔ قدیم آدمی نے ایسے ایسے اصلاحی اوزار استعمال کیے جن کی مدد سے وہ زیادہ خطرہ میں محفوظ رہے۔ چونکہ انسانی زبان میں ترقی ہوئی ، یہ ٹیکنالوجی جو خاندانی طور پر اس کی دیکھ بھال کے مقصد کے لئے تھی ، فرد کے مطابق ڈھل گئی یہاں تک کہ یہ ایک ایسی تکنیکی جنت بن گیا جو ہر لحاظ سے رہائش پذیر اور آرام دہ تھا۔ ٹیکنالوجی کسی کمپنی کی معیشت کے ساتھ بہت سخت ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی مشینری کے پیش نظر ، اس کی حتمی مصنوعات کا انحصار ہوگا۔ ٹیکنالوجی ایک ایسی تکنیک اور علم کا ایک مجموعہ ہے جو ، جب انسان کے ذریعہ ، منظم اور منطقی انداز میں اس کا اطلاق ہوتا ہے ، تو وہ اس کو مطالعہ ، تجزیہ ، مرمت اور بہتر متبادل پر غور کرتا ہے تاکہ وہ ایک بھرپور ، محفوظ اور زیادہ پر امن زندگی گزار سکے۔ زندگی میں روز مرہ کی بہتری ، جیسے انجینئرنگ ، کمپیوٹنگ ، طبیعیات ، مواصلات کے معاملات جیسے پیچیدہ چیزوں سے لے کر ، پوری دنیا میں مختلف صنعتوں میں انقلاب لانا ، مکمل ارتقا میں ، اختراع میں ، حرکت میں ہے۔ اور اسی وجہ سے صحت میں ، چونکہ طب کے اس شعبے میں زندگی بچانے کے طریقوں کے لحاظ سے ان کی کامیابیوں میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ایک سائنس ایسی ہے جو کھانے کے جسمانی ، مائیکروبیولوجیکل اور کیمیائی معیار کے مطالعہ اور ان کی بہتری کے لئے ذمہ دار ہے ، اسے فوڈ ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے ۔ یہ سائنس اس جگہ پر کھانے کی طرز عمل ، ساخت اور خصوصیات کے لئے ذمہ دار ہے جب تک کہ اس کے معیار کی فروخت اور کھپت کی تصدیق نہ ہو سے ایک کیمیائی اور حیاتیاتی نقطہ نظر کا، خوراک ایک مشکل موضوع ہے۔فوڈ ٹیکنیشن اور سائنس دان اس بات کا یقین کرنے کے لئے ذمہ دار ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ، غذائیت سے بھرپور ، صحت مند حالات میں تیار ہیں اور صارفین کو درکار معیار کے حالات کے ساتھ ، اسی وجہ سے یہ سائنس ہے جس میں طبیعیات ، بائیو کیمسٹری اور دیگر مضامین جیسے دیگر مضامین سے جڑا ہوا ہے۔ کیمسٹری ، نیز ماحولیاتی انتظام اور عمل انجینئرنگ۔ ایک وقت تھا جب مختلف کمپنیاں ، ادارے بینکس وغیرہ اپنا بیشتر کام اپنے انفرادی کمپیوٹر سسٹم پر کرتے تھے لیکن جیسے جیسے ٹیکنالوجی نے ترقی کی ان اداروں نے اپنے سافٹ ویئر سسٹم کو مربوط کرکے پورے ملک میں موجود اپنے کاروبار کی شاخوں سے نیٹ ورکنگ کے ذریعے منسلک کردیا اور یہی وجہ ہے کہ آج بینکوں، ٹراویل و انشورنس کمپنیوں اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا ایک مربوط نظام کا جال اندرون ملک اور بیرون ملک پھیلا ہوا ہے۔ ایسا نیٹ ورکنگ کی بنا پر ہی ممکن ہوسکا ہے۔ انٹرنیٹ کی دن بدن ترقی ، موبائیل ٹیکنالوجی اور انڈرائیڈ اپلیکیشن کے بڑھتے اثرات نے نیٹ ورک انجینئرز کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کردیا ہے۔