پارلیمانی کمیٹی برائے امن و مذہبی ہم آہنگی کا قیام

وزیراعلی گلگت بلتستان نے پارلیمانی کمیٹی برائے امن و مذہبی ہم آہنگی قائم کر دی ہے ، محکمہ داخلہ و جیل خانہ جات کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پارلیمانی کمیٹی خطے میں مذہبی ، سماجی امن اور سکون کیلئے مدد کرے گی۔ پارلیمانی کمیٹی مساجد ایکٹ 2012کے تحت مساجد بورڈز کے ارکان کے ناموں کی سفارش کرے گی۔ سمجھوتہ یا داغدار اسناد'ریکارڈ والا شخص مذکورہ بورڈ میں شامل نہیں ہو گا۔ پارلیمانی کمیٹی خطے میں مختلف فرقوں کے درمیان مذہبی ہم آہنگی ، سماجی امن اور سکون کی بحالی کیلئے روڈ میپ تیار کرے گی۔ پارلیمانی کمیٹی حکومت کو خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بگڑنے سے روکنے کیلئے مشورے دے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کو مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کیلئے علما ، تمام فرقوں اور گروپس کے نامور افراد کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں کرنے کا بھی اختیار ہو گا تا کہ دیرپا امن کو یقینی بنانے کیلئے تمام فریقین سے مکمل حمایت حاصل ہو سکے، پارلیمانی کمیٹی مذہبی امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے ملک کے ممتاز مذہبی اسکالرز ، علماء اور اداروں کے ساتھ بھی رابطے قائم کرے گی۔وزیراعلی گلگت بلتستان کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی برائے امن و مذہبی ہم آہنگی کا قیام ایک اہم اور حوصلہ افزاء قدم ہے ۔ہمارے ہاں بین المذاہب قوتِ برداشت کی ضرورت تبھی محسوس ہو گئی تھی جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا اور ہندوستان سے پاکستان آنے والے مسلمانوں کو غیر مسلموں نے نشانہ بنایا تھا اور ان کی پاک دامن خواتین کی عزتیں تار تار کی تھیں مگر ہم بین المذہب ہم آہنگی کی طرف کیا توجہ دیتے الٹا ملک دشمن قوتوں کی رچائی سازشوں کا نشانہ بن کر فرقوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے جس سے ایک مضبوط قوم کی تشکیل دینے کے بجائے ہم صوبائی اور لسانی تعصبات کا شکار ہو کر اپنے پاکستانی بھائیوں کا ہی خون بہاتے رہے۔بین المذاہب ہم آہنگی قوتِ برداشت کی علامت ہے، یہ اِس بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی عدم اطمینان میں مختلف مذہبی عقائد کے ماننے والوں کے مابین پرامن بقائے باہمی، امن اور خوشحالی کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی ترقی میں مذہبی تنوع اہم کردار ادا کر سکتا ہے، آج ہمیں قبولیت اور اشتراک کا پیغام تمام ہم وطنوں کے مابین پھیلانے کی ضرورت ہے، یہ ایک پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مختلف مذہبی جماعتیں اور فرقے، جو اس وقت غیروں کے دیے ہوئے زخموں کی وجہ سے منقسم ہیں، انہیں ساتھ ملانے کی اشد ضرورت ہے، گزشتہ چند برسوں میں رونما ہونے والے عالمی حادثات و واقعات نے مذہبی رہنمائوں کو بھی بین المذہب ہم آہنگی کی حمایت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔مضبوط پاکستان کا وجود اِسی صورت عمل میں آسکتا ہے کہ جب ہم غیرمسلموں کو اپنے شانہ بشانہ کھڑا کر کے چلیں گے، پوری دنیا میں دہشت گردی کی سرگرمیوں اور کچھ دوسرے غیرانسانی حملوں نے معاشروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتحال کے تحت تمام عقائد کے حامیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ رواداری، امن، صبر اور بین المذاہب ہم آہنگی کی حکمتِ عملی پر عمل کریں، پاکستان ایک کثیر المذاہب ملک ہونے کے علاوہ ایران، انڈیا، افغانستان اور چین جیسی بہت اہم اقوام کا ہمسایہ بھی ہے۔ یہاںاقلیتوں کی اپنی کثیر جہتی اہمیت ہے، لہذا یہ نظریہ پاکستانی عوام کے تمام طبقات کو قبول کرنا چاہئے کہ بین المذاہب ہم آہنگی آبادی کے مذہبی معاملات کو مثبت طور پر ترقی دیگی جس سے اخلاقی اور مالی انقلاب آئے گا۔ ہمارے ہاں تعلیمی سیمینار، یونیورسٹیوں، میڈیا، ورکشاپس اور جلسوں کے ذریعے بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دینا انتہائی ضروری ہے، اجتماعی عقل کا فقدان، مذہبی غلط فہمیوں، اقلیتوں کے لئے غیر منصفانہ انتخابی طریقہ کار، جہاد کی غلط بیانی، جزوی اور متعصبانہ مذہبی گفتگو، غیرمسلموں کی پاکستان سے ہجرت، اقلیتوں کے مقدس مقامات کا عدم تحفظ، غیرمنصفانہ سماجی و اقتصادی وسائل کی تقسیم، قومی تعلیمی نصاب میں بنیادی اسلامی مآخذ کا شامل نہ ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔یہ متنوع ثقافتی، نسلی اور مذہبی پسِ منظر کے لوگوں کا گھر ہے، اس طرح کے تغیرات مختلف گروہوں کے مابین غلط فہمیاں اور تنازعات پیدا کرتی ہیں، چاہے وہ پورے ملک میں مسلمانوں میں فرقہ وارانہ تشدد ہو، زبان کی ہنگامہ آرائی ہو یا غیرمسلموں کے خلاف مسلسل تشدد۔ہمارے ہاں بیشتر اختلافات دوسرے عقائد کے بارے میں غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، گزشتہ کچھ عشروں کے دوران، مذہبی رہنمائوں کے ذریعہ خصوصا نوجوانوں میں فرقہ وارانہ تشریحات کے فروغ نے تنازعات کو جنم دیا، ایسے افراد یا گروہ پیدا ہوئے جنہوں نے دوسرے مذاہب کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ ہمارا نظامِ تعلیم بھی متعصبانہ اور غلط رائے کی حمایت کرتا ہے۔اس طرح کے بنیادی نظریات کو تب ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے جب ہر شخص دوسرے مذاہب کو جانتا ہو اور اپنے بنیاد پرست اقدامات کے حقیقی انجام کو سمجھتا ہو۔ہمارے ہاں اگرچہ بعض اوقات انسانی حقوق کی صورتحال غیریقینی ہو جاتی ہے۔کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں سب آزاد ہیں اور انہیں تمام حقوق حاصل ہیں اور حکومت ان میں بہتری کیلئے ہر ممکن کام کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف بھارت میں اقلیتوں کیلئے زمین تنگ کی جارہی ہے، ان پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، ان کی نسل کشی کی جارہی ہے جس پر دنیا کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کی عبادتگاہیں بحال کی جارہی ہیں، نئی تعمیر بھی ہورہی ہیں اور ہر ممکن سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ کرتار پور راہداری ایک تاریخی منصوبہ ہے جس نے دنیا بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ بھارت نے سات سو پچاس جعلی ادارے بناکر پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا کہ یہاں مذہبی آزادی نہیں ہے، حالانکہ یہاں اقلیتیں مکمل آزاد ہیں اور انہیں اپنے حقوق بھی مل رہے ہیں۔ آج کا پاکستان ماضی سے مختلف ہے، یہاں اب کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ ہمیں دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم سب متحد ہیں اور مل کر تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ ہم سب پاکستانی اور بھائی ہیں، ہمارے آپس کے معاملات کو مذہبی رنگ نہیں دینا چاہیے بلکہ انہیں پاکستانی بن کر ہی حل کرنا چاہیے اور اگر کسی کا ذاتی مسئلہ ہے تو اسے اسی تناظر میں ہی دیکھا جائے۔ہمارا مشن مذہبی ہم آہنگی، رواداری، مساوات اور امن ہونا چاہیے' ہمیں  ایک ایسی فضا قائم کرنی چاہیے جس میں سب ایک دوسرے کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کریں۔بھارت و دیگر ممالک کی طرف سے پاکستان کے خلاف مذہبی تفریق کا پراپیگنڈہ جھوٹ کا پلندہ ہے، بھارت خود مسلمانوں اور اقلیتوں پر ظلم کر رہا ہے جسے چھپانے کیلئے اس نے یہ کام کیا مگر اسے ناکامی ہوئی۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ متحد ہیں اور سب اپنی حکومت، افواج اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آج جو امن قائم ہے یہ ہماری افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی وجہ سے ہی ہے۔ اب دشمن جو شرمناک چالیں چل رہا ہے ہم سب مل کر اسے ناکام بنائیں ہم جانتے ہے کہ ہم  نے دہشت گردی کی جنگ کس طرح لڑی۔ اس جنگ میں ہم نے سترہزار لاشیں اٹھائی ہیں مگر اب جبکہ ہماری افواج اور سیکیورٹی اداروں کی وجہ سے امن قائم ہوچکا تواسے نئے موضوع کی تلاش ہے۔ اسی لیے وہ طرح طرح کی باتیں کر رہا ہے۔ حالانکہ ہم دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور شدت پسندی کے خلاف ہیں۔گلگت بلتستان ماضی میں بہت زیادہ بدامنی کا شکار رہا ہے دشمن نے اپنی سازشوں کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار کر کے یہاں کے امن کو سبوتاژ کیا اس لیے خطے کے امن کو برقرار رکھنے کے لیے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور امن کے قیام میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا کیونکہ امن ہی خطے کی ترقی کو یقینی بنا سکتا ہے۔