گلگت،صحافی کی گرفتاری پر شدید ردعمل، مختلف اضلاع میں احتجاج پر رہا

پولیس نے مقامی صحافی کو گرفتار کر لیا۔ صحافیوں کے احتجاج اور دھرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ڈی آئی جی گلگت رینچ سے متعلق پوسٹ شیئر کرنے پر مقامی صحافی امجد حسین برچہ کے گھر پر رات  گئے پولیس نے چھاپہ مار کر گرفتار کیا۔ جس کے خلاف گلگت بلتستان یونین آف جرنلسٹ اور سینٹرل پریس کلب گلگت کی کال پر گلگت بلتستان بھر میں صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے ہوئے،گلگت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر صحافیوں نے دھرنا دیدیا۔مقامی صحافی کو بغیر کوئی مقدمہ کی گرفتاری کے خلاف صحافیوں کی درخواست پر چیف کورٹ  کے چیف جسٹس نے ایکشن لیتے ہوئے صحافی کی گرفتاری پر کیس آج دس بجے سماعت کے لئے مقرر کردی ہے۔دوسری طرف صحافیوں کے شدید احتجاج کے بعد پولیس نے مقامی روزنامے کے بیوروچیف امجد حسین برچہ کو غیر مشروط طور پر رہا کردیا،صحافی کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی دھرنے میں اپوزیشن لیڈر امجد حسین ایڈوکیٹ،جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولاناعطاء اللہ شہاب،مسلم لیگ ن کے رہنما ریاض احمد' کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد خان،لائن ڈیپارمنٹ کے صدر اجلال حسین سمیت سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے اظہار یکجہتی کے طور پر شرکت کی اور صحافی کی گرفتار ی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اظہار آزادی کی رائے پر قدغن لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اس علاقے میں لوگ پہلے سے ہی احساس محرومیوں کاشکار ہے یہاں پر ایسی کوئی بھی سوچ نہیں پنپ سکتی ہے لوگوں کی آواز کو دبایا جائے انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کو مقامی صحافی کے پوسٹ پر اعتراض تھا پینل کورٹ کے طے شدہ قوانین کے تحت کاروائی کی جاسکتی تھی زبردستی رات کو گھروں میں گھس کر گرفتا ر کرکے لوگوں کو حراساں کرنے کی کوشش کی بھرپورالفاظ میں مذمت کرتے ہیں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کوارڈینیٹر اسرارالدین اسرارنے بھی خطاب کرتے ہوئے صحافی کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ادھر غذر پریس کلب کے باہر غذر کے صحافیوں نے سینئر صحافی امجد برچہ کی گرفتاری کے خلاف علامتی احتجاج ریکارڈ کرایا اس موقع پر صحافیوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے سینئر صحافی کی رات گئے گھر سے اٹھانے پر غذر پریس کلب کے صدر یعقوب عالم طائی، جنرل سیکرٹری عابد شیر، سینئر صحافی دردانہ شیر، سینیئر صحافیوں فیروز خان اور ہدایت شاہ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پولیس گردی آزادی صحافت پر حملہ ہے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ میڈیا کا گلہ دبانے میں کامیاب ہوگا تو یہ خام خیالی ہی ہوسکتی ہے گلگت بلتستان کے صحافی متحد ہیں اور اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی ظلم کو برداشت نہیں کریں گے انہوں نے امجد برچہ کی بلا مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ گلگت بلتستان میں صحافیوں کو ہراساں کرنے اور اہل قلم کی آواز دبانے کی کوششوں کا نوٹس لیا جائے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ملک کے آئین میں آزادی اظہار رائے کا حق ہے اور کوئی طاقت ہم سے یہ حق نہیں چھین سکتی۔داریل میں بھی صحافی امجد حسین برچہ کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا احتجاجی مظاہرین نے آزادی صحافت کے حق میں پلے کارڈز آویزاں کیے ، انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو اپنے بنیادی حقوق اور آزادی رائے کیلئے ہمیشہ کیلئے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔