آزادی اظہار رائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگرچہ صحافت پر ہر دور میں پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں لیکن اگر یہ پابندیاں جمہوری ادوار میں عائد کی جائیں تو یہ آمرانہ ادوار کی بہ نسبت زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہیں کیونکہ جمہوریت ہے ہی آزادی اظہار کا نام۔ اگر جمہوری ادوار میں صحافت کا گلہ گھونٹا جائے تو آمریت سے شکایت کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔آمروں کے خلاف میڈیا کی جدوجہد ایک طویل داستان ہے لیکن اب جمہوری حکمران بھی میڈیا کا گلہ دبانے میں مصروف ہیں۔گلگت میں ایک صحافی کی گرفتاری پر احتجاج ہو رہا ہے اور ملک بھر میں میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کرتے ہوئے صحافی میدان میں ہیں'ستم ظریفی یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پارلیمنٹ گیلری کو صحافیوں کے لیے ممنوعہ علاقہ قرار دے کر بد کر دیا گیا۔ جدید جمہوری ریاستوں کے قیام کے بعد سے اظہار رائے کی آزادی کا حق بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں سرفہرست تصور کیا جاتا ہے۔ جدید جمہوری معاشروں میںآزادی اظہار پر کسی بھی قسم کی قدغن لگانے کو دیگر تمام بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کے مترداف سمجھا جاتا ہے۔ خیالات و نظریات کا آزادانہ اظہار اور تنقید و اختلاف رائے کا حق کسی بھی جمہوری معاشرے کے بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ معلومات و افکار کے آزادانہ بہائو کو یقینی بنانے سے شہریوں کے درمیان دلائل پر مبنی مکالمے کو ترویج حاصل ہوتی ہے جو آگے چل کر معاشرے میں رواداری و برداشت کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔ سماج کی فکری، علمی اور مادی نشوونما اظہار رائے کی آزادی  کی مرہون منت ہے یعنی جن ممالک میں افراد کو جتنی زیادہ آزادی اظہار کا حق حاصل ہے، وہ قومیں فکری، علمی اور مادی ترقی میں دیگر اقوام کو اتنا ہی پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ اس کے برعکس جن معاشروں میں اظہار رائے پر نظریے، سلامتی اور مذہب سمیت کسی بھی قسم کی قدغن رہی، وہ فکری، علمی اور مادی طور پر پسماندہ رہ گئے۔ سادہ لفظوں میں اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان تقریر و تحریر اور خیالات و نظریات کے اظہار اور ترسیل میں آزاد ہے۔ وہ کسی بھی فکر، نظریے اور نظام کے بارے نہ صرف اپنا ایک خاص نکتہ نظر تشکیل دے سکتا ہے بلکہ وہ کسی بھی فکر، نظریے اور نظام پر تنقید کا حق بھی رکھتا ہے۔دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے آئین میں بھی شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے لیکن آئین کے آرٹیکل 19 میں اس حق کو مذہب، سلامتی، غیر ممالک کے ساتھ تعلقات، توہین عدالت اور امن عامہ میں بگاڑ کے خدشے سمیت کئی چیزوں کے ساتھ مشروط کر کے کافی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ویسے تو دنیا کے متعدد دیگر ممالک میں بھی اظہار رائے کے بنیادی حق کو کسی نہ کسی حد تک حدود و قیود کا پابند بنایا گیا ہے لیکن امریکا اور یورپ سمیت دنیا کی جدید جمہوری ریاستوں میں شہریوں کے رائے کے اظہار پر پابندیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دنیا کے کسی بھی معاشرے میں رائے کے اظہار کی ایسی آزادی کو پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا جس سے دوسروں کی آزادی مجروح ہونے کا خدشہ ہو۔ برطانوی مفکر برٹرینڈرسل کے مطابق ''میں ان معاملات میں معاشرے کی مداخلت کو بالکل تسلیم نہیں کرتا جہاں ایک آدمی کے اعمال دوسرے آدمی کی آزادی پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ اگر کسی سماج کی اکثریت کسی رائے کو پسند نہیں کرتی تو اس کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کی رائے میں دخل اندازی کرے جو اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی معاشرے کی اکثریت کسی حقیقت کو جاننا نہیں چاہتی تو اسے یہ حق حاصل نہیں کہ جو لوگ اسے جاننا چاہتے ہیں، انہیں قید میں ڈال دے ۔''اگر ہم پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے کہ یہاں گھریلو، سماجی اور تعلیمی سطح پر فرد کے اظہار رائے پر کئی قسم کی قدغنیں موجود ہیں۔ گھریلو سطح پر ہمارے ہاں بچوں کے اظہار رائے کی حوصلہ افزائی کی روایات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اظہارِ رائے کی آزادی کا مفہوم تو یہ ہے کہ کسی کو بھی کھل کر اپنا نکتہ نظر بیان کرنے، سوال اٹھانے، اختلاف اور تنقیدکرنے کی اجازت ہے، لیکن کسی دوسرے کی تذلیل اورکردار کشی کرنے اور دوسروں پر تہمتیں لگا کر اس کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ اظہار رائے کی آزادی میں تنقید کا حق بجا ہے لیکن یہ خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ جہاں تنقید کی حد ختم ہوتی ہے، وہاں سے ہی تذلیل کی سرحد شروع ہو جاتی ہے اورکسی کی تذلیل کرنا ہر معاشرے میں برا عمل ہے۔کئی لوگ تنقید کرتے کرتے تمام حدیں عبور کرجاتے ہیں اور نفرت انگیز مذہبی و سیاسی تقاریر کرنے، شرانگیز بیانات دینے، کسی کی عزت کو داغدارکرنے، کسی کی توہین و تحقیر اور تذلیل کرنے،کسی کے مذہب، مسلک، فرقے اورکسی کی محترم شخصیت پر انگلی اٹھانے کو رائے کی آزادی سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ آزادی رائے کے اخلاقی حق کی کھلی خلاف ورزی اوران کی شعوری پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔دنیا کے کسی بھی معاشرے میں رائے کے اظہارکی ایسی آزادی نہیں دی جاتی، جس سے دوسروں کے جذبات مجروح ہوں۔ ہر معاشرے نے اپنے اپنے حالات کے مطابق اظہار رائے کی حدود مقرر کی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 1966 میں پاس کی گئی ایک قرار داد کے مطابق ضروری ہے کہ کوئی بھی ایسی تقریر یا تحریر جو کسی ملک میں رہنے والے کسی بھی فرد یا گروہ کی مذہبی، قومی یا نسلی مخالفت یا دل آزاری کا سبب بنے اور ان کے خلاف نفرت یا حقارت کا اظہارکرے تو اس ملک کا فرض ہے کہ اس کو روکے اور اس کے خلاف قانون سازی کرے، جب کہ متعدد یورپین ممالک میں آزادی اظہار رائے پر بہت سی پابندیاں ہیں۔ آج میڈیا کو جس دبائو کا سامنا ہے اور صحافیوں اور کارکنوں کو اپنے مستقبل کا وہ صرف اتحاد سے ہی دور ہوسکتا ہے۔ مالکان، مدیروں اور صحافیوں کا آپس میں اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ صحافی بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا انسان چھوٹا بڑا ہوتا ہے۔ یہ لڑائی اتحاد کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ مقدمات کل بھی بنتے تھے اور آج بھی بنتے ہیں آج صحافی کو جان کا بھی خطرہ ہے اور جاب کا بھی، پہلے پابندی لگانے والے کا بھی پتا تھا اور قانون کا بھی۔پاکستان میں اکثر حکومتیں آزادی صحافت کی بات تو کرتی ہیں مگر اس آزادی کو برداشت نہیں کرتیں۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ہمیں مارشل لا کے صدمے برداشت کرنے پڑے تھے۔ سنسر شپ، پابندیاں، مارشل لا دور میں اعلانیہ جبکہ جمہوری دور حکومت میں غیر اعلانیہ طور پر حکومتوں کا رویہ ایسا ہی رہا۔ حکومتی دبائو ہر دور میں رہا، بظاہر ملک میں میڈیا آزاد لیکن آج بھی صحافت پابندیوں کا شکار ہے۔ حکومتی پابندیاں ایک طرف، معاشی دبائو بھی حق اور سچ کی بات کو ظاہر کرنے میں رکاوٹ ہے۔صحافیوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کروا دیا جاتا ہے سب سے بڑھ کر باہمی اختلافات بھی آئیڈیل ماحول میسر نہیں آنے دیتے۔ حکومت جو مرضی کہتی رہے صحافت ریاستی، معاشرتی اور معاشی دبائو کا شکار ہے۔اپوزیشن کے دور میں میڈیا اچھا لگتا ہے اور حکومت میں آکر یہی میڈیا طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ ریاستی ادارے منصوبہ بندی سے میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں اشتہارات کا اجرا اور بندش سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے جس سے میڈیا ہائوسز حکومت کے تابع ہوا کرتے تھے۔ پاکستان میں حکومت بدلی تو میڈیا پر دبائو کے طریقے بھی بدل گئے۔حکومت کچھ بھی کہے اسے میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں آزادی صحافت کے لئے کی جانے والی جدوجہد کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد سے وہاں آزادی صحافت پر کسی نہ کسی انداز سے کچھ نہ کچھ پابندیاں رہیں، لیکن وہ اتنی شدید نہ تھیں جتنی پچاس کی دہائی کے آخر میں فوجی آمر ایوب خان کے مارشل لا کے بعد اس وقت ہوئیں جب پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈینینس نافذ کیا گیا۔اس کے بعد تقریر و تحریر پر پابندیاں شدید تر ہو گئیں اور ساتھ ہی صحافیوں کی معاشی بدحالی بھی بڑھتی گئی۔ اور اسی تناسب سے آزادی صحافت کے حصول اور صحافیوں کی معاشی بہتری کے لئے تحریک میں بھی شدت آتی گئی۔ اس تحریک کے کئی بڑے ناموں میں اسرار احمد، منہاج برنا، ایم اے شکور، نثار عثمانی بھی شامل ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ معاملہ ایسا نہیں ہے جے مل بیٹھ کر حل نہ کیا جا سکے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ جس میڈیا کی بدولت اسے اقتدار میں آنے کا موقع ملا اسے اپنا دشمن سمجھنے کی بجائے گفت و شنید کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کرے اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ خواہ کتنی ہی پابندیاں لگانے کی کوشش کیوں نہ کی جائے میڈیا اپنی ذمہ داریاں ترک نہیں کرے گا حکمران چلے جائیں گے' بہت سے چلے گئے لیکن میڈیا موجود رہے گا لہذا اس پر شکنجہ کسنے کی بجائے اس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔