نفرتیں پھیلانے والوں کا ملکر مقابلہ کریں گے،یوم حسین کانفرنس

بلتستان یونیورسٹی میں تیسرا سالانہ یومِ حسین انچن کیمپس آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ کانفرنس میں بلتستان یونیورسٹی کے اساتذہ کرام، انتظامی آفیسران ، طلبائ  و طالبات اور مہمانوں کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث پاکستان، ممبر اسلامی نظریاتی کونسل ، ممبر متحدہ علمائ  بورڈ حکومتِ پنجاب علامہ ڈاکٹر سید ضیائ  اللہ شاہ بخاری ایک وفد کے ہمراہ لاہور سے تشریف لائے تھے۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے پورے پاکستان کو خوبصورت پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ہماری جامعہ نوزائیدہ ہے اور ہم بہترین روایات کی پاسداری کررہے ہیں۔ اْنہوں نے کہا کہ اس قسم کی کانفرنسوں کے ذریعے ہم طلبہ کی ذہن سازی کررہے ہیں تاکہ آپ ملک و قوم اور سماج کے محافظ بنیں۔امیر متحدہ جمعیت اہلحدیث علامہ ڈاکٹر ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں اتحادِ اْمت کی خوشبو بکھیری ہوئی ہے، ایک دوسرے کیساتھ والہانہ لگائو کا اظہار ہوتا ہے۔ ہم سب حسینی ہیں ہمارے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔ ہم سب مل کر پاکستان کے دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ اْنہوں نے اہلبیت کی محبت کو ایمان کا محور قرار دیا اور کہا کہ میں پوری ایمانداری سے اقرار کرتا ہوں کہ اہلبیتِ اطہار کا تذکرہ زندگی کا محاصل ہے۔ بیالوجیکل سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر علمدار حسین نے کہا کہ اتحادِ اْمت کے واحد ذریعہ امام حسین  ہیں۔ اْنہوں نے بقائے اسلام و انسانیت کیلئے قربانی دی۔ آج کے انسان کی بیداری اور عملی زندگی کے اظہار کیلئے کربلا بہترین نمونہ عمل ہے۔اتحاد بین المسلمین کے داعی علامہ شیخ محمد حسن جعفری کے فرزند شیخ میثم جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کربلا سمجھنے اور غور کرنے کا واقعہ ہے۔ کربلا کو اس وقت صرف 72 نے سمجھا، جبکہ آج لوگ کربلا کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اس کی جیتی جاگتی مثال بلتستان یونیورسٹی میں منعقدہ یومِ حسین کانفرنس ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ مساویانہ عمل سے دور معاشرہ اجتماعی تشخص سے محروم رہتا ہے۔ کربلا کے واقعہ سے قبل مسلمانوں نے اجتماعی تشخص کھودیا تھا۔حسین نے اجتماعی تشخص کوبحال کرنے کیلئے قیام کیا۔ اجتماعی تشخص کیلئے ہی حسین نے مدینہ سے روانہ ہوتے وقت واضح کیا تھا کہ میں اصلاح کا مشتاق ہوں اور اجتماعی تشخص کے احیاء کیلئے نکلا ہوں آج کیلئے مثال اربعین ِکربلا ہے جہاں کینہ نام کی کوئی چیز نہیں، جہاں پر بخشنا ،عطا کرنا حسین کا مقصد ہے۔ سید مصطفی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حسین ہمارے ہیں کے دعویدار تو ہم ہیں لیکن کبھی ایسا بھی موقع آنا چاہیئے کہ حسین خود آکر کہیں تم ہمارے ہو۔ حسین سے ہماری محب یکطرفہ ہے لیکن یہ محبت مقدس ہے۔ محبت دو طرفہ ہوتو کربلا شناسی آسانی سے ہوجاتی ہے۔علامہ محمد محسن علی نے کہا کہ امام عالی مقام کے توسط سے بلتستان میں محبت کا گلدستہ قائم ہوچکا ہے، بس سوچوں اور دلوں وسعت پیدا کرنا ہے، جزوی اختلافات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر حاجی کریم خان نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے تو ہر روز یومِ حسین  ہے اگر ہم میں حسینیت ہے تو ہر دن یوم حسین ہے۔ پاکستان کی دیگر جامعات کام کرتی ہیں جبکہ بلتستان یونیورسٹی مثال قائم کرتی ہے۔ ہمارے ہر شعبہ میں حسینیت نظر آنی چاہیے۔ یومِ حسین کانفرنس میں بلتستان یونیورسٹی کے نامور منقبت خواں نے سلام اور منقبت پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شعبہ ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ کے لیکچرار قیصر عباس اور شعبہ انگریزی کے لیکچرار غلام عباس نے انجام دیئے۔