نئے اضلاع کو فعال بنانے کیلئے ن لیگ کا الٹی میٹم

پاکستان مسلم لیگ (ن)گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس  پارٹی کے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن کی زیرصدارت منعقد ہوا  گلگت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں گلگت بلتستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈر غلام محمد,اسلامی تحریک کے رہنما کیپٹن (ر)  سکندر علی,سابق صوبائی وزیر جنگلات عمران وکیل,سابق ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل محمد عباس ایڈووکیٹ,مسلم لیگ (ن)داریل کے صدر و سابق امیدوار جی۔بی اسمبلی صدر عالم,مسلم لیگ(ن)گلگت بلتستان کے سینئر رہنمائوں ریاض احمد,محمد طفیل,اورنگزیب ایڈووکیٹ,انجینئر محمد نظر خان,قاری محمد وزیر,نمبردار شعیب اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں  30 اکتوبر تک نئے اضلاع پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں چاروں اضلاع میں اے۔پی۔سی بلاکر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں کہاگیاکہ سابق صوبائی حکومت نے 2018/19 میں عوام داریل,تانگیر,گوپس,یاسین اور روندو کے دیرینہ مطالبے پر سابق صوبائی کابینہ ممبران اسمبلی و اعلیٰ انتظامی ذمہ داران پر مشتمل کمیٹی بنائی اور اضلاع کے حوالے سے   جی بی اسمبلی میں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں جس پر عملدرآمد کیلئے سابق صوبائی حکومت نے اپنی آئینی اور قانونی  ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے کمیٹی کی سفارشات روشنی میں پالسی بنائی اور کابینہ سے منظور کروائی گئی ، بعد ازاں لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعہ 6/5 کے تحت محکمہ داخلہ نے 4 اضلاع کا نوٹیفیکیشن جاری کیا اور سال 2019/20 کے بجٹ میں اضلاع کو رن کرنے کیلئے 50 کروڈ کی خطیر رقم بھی رکھی گئی بعد ازاں سال 2018 میں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت لائی گئی اور صرف گورننس آرڈر 2018 میں 10 کی جگہ 14 اضلاع کے اندراج کیلئے بارہا سفارش کی گئی لیکن بدنیتی اور عوام دشمنی کا ثبوت دیاگیا  اور تاحال گورننس آرڈر میں ترمیم نہیں کی گئی۔اجلاس میں چاروں نئے اضلاع پر عملدرآمد کے حوالے سے سابق وزیرقانون اونگزیب ایڈوکیٹ کی سربراہی میں نئے اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو دیگر جماعتوں کے ذمہ داران سے رابطے کر ے گی ا اور چاروں اضلاع میں اے۔پی۔سی بلائی جائے گی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلی  حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ  سابق صوبائی حکومت نے اپنے اختیارات کے تحت     4 اضلاع کے نوٹیفکیشن کئے تھے جو عوام کی   ڈیمانڈ تھی۔سابق حکومت نے اضلاع کے حوالے سے ایک پالیسی بنائی تھی کہاضلع سے ضلع تین سے ساڑھے تین گھنٹے فاصلہ ہو اور 60 سے 70 ہزار پر مشتمل   آبادی ہو، سابق چیف سیکرٹری گلگت بلتستان خرم آغانے اس وقت ہمیں یہ کہاں کہ اضلاع بنانے کا اختیار آپ کے پاس ہے لیکن آپ وفاقی حکومت کو اضلاع عملدرآمد کیلئے ایک خط لکھ دیں تاکہ ملازمتوں کی منظوری  لینے میں آسانی ہوسکے اس پر وفاقی حکومت کو نئے اضلاع پر عملدرآمد کیلئے خط لکھ دیا جس پر پی۔ٹی۔آئی کی وفاقی حکومت نے 3 مہینے تک کوئی جواب نہیں دیا اور وفاقی حکومت کے کہنے پر تفصیلات بجھواتے رہے لیکن وفاقی حکومت نے یہ کہاں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ترمیم کرنے سے روک دیا ہے اسی طرح وفاقی حکومت نے حیلے بہانوں سے نئے اضلاع پر علمدرآمد نہیں کیا اور تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اضلاع کے معاملے کو دبا دیا جوکہ سلیکٹڈ حکومت کا عوام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہاکہ 2020 میں وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان الیکشن میں بدترین دھاندلی کی اور وفاقی وزرا نے داریل,تانگیر,گوپس,یاسین اور روندو اضلاع پر عملدرآمد کے نام پر جھوٹے وعدے کرکے عوام سے ووٹ لیا جبکہ صوبائی حکومت کے 10 مہینے گزر گئے لیکن اضلاع پر عملدرآمد نہیں ہوا