عبوری صوبہ، قومی اسمبلی میں سیٹوں پر ڈیڈ لاک، ہم 8نشستیں چاہتے ہیں،گلبر خان

صوبائی وزیرصحت حاجی گلبرخان نے کہاہے کہ ہمیں یقین دلایاگیاہے کہ آئینی مسودے کو پہلے صوبائی اسمبلی میں پیش کیاجائیگااوراس پرباقاعدہ بحث ہوگی پھر حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے ترمیمی مسودے کو قومی اسمبلی میں بھیجاجائیگا وزیراعلی کو آئینی مسودے کے ایک ایک نکتے کے بارے میں اعتماد میں لیاگیاہے وہ تمام چیزوں سے واقف ہیں اپوزیشن کا الزام درست نہیں ہیکہ صوبائی حکومت مجوزہ آئینی صوبے کے مسودے سے لاعلم ہے اور اس کو اندھیرے میں رکھ مسودہ تیار کیا جارہاہے جب آئینی مسودہ اسمبلی میں پیش ہوگاتو سب کو نظر آئیگا اپوزیشن صوبائی اسمبلی میں مسودے پر کھل کا اپناموقف پیش کرسکتی ہے کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے قومی اسمبلی میں 8 نشستیں دینے کا مطالبہ کیاہے تاہم سات سے 8 نشستوں پر ڈیڈ لاک ہے ہم چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی اہمیت اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس خطے کو قومی اسمبلی میں موثر نمائندگی دی جائے امیدہے کہ ہماری سفارشات پر جلد عمل درآمد ہوگاتوقع ہے کہ ہماری امنگوں کے عین مطابق صوبائی حیثیت ملے گی صوبائی حیثیت ملنے کے بعد گندم پر ملنے والی سبسڈی ختم ہوگی اور نہ ہی خطے کے عوام پر کوئی نیاٹیکس لگے گا۔ وزیراعلی دو ٹوک الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام ٹیکس دینے اور سبسڈی کے بغیر گندم خریدنے کے متحمل نہیں ہوسکتے لہٰذا گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون رکھاجائے وفاق نے وزیراعلی کی ہاں میں ہاں ملائی ہے ٹیکس فری زون رکھنے کیلئے حامی بھری ہے انہوں نے کہاکہ محکمہ صحت میں پہلے تقرریاں اور تبادلے پسند ناپسند کی بنیاد پر ہوتے تھے اب تقرریاں اور تبادلے میرٹ پر ہورہے ہیں۔ نظام کو نئے سرے سے ٹھیک کیا جارہاہے آلودہ نظام کو درست کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا سکردو ہسپتال کے ایم ایس کی تقرری میرٹ پر کی گئی۔ آئندہ کسی خاص آدمی کی مرضی ومنشاء کے مطابق تبادلے ہونگے اور نہ ہی تقرریاں۔ انہوں نے کہاکہ میرٹ پر کام ہوتے دیکھ کر بعض مخالفین پریشان ہوگئے ہیں اس کیلئے ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے ہم خدا اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کریں گے اپوزیشن کا شور شرابہ فضول ہے