ملکہ کوہسار مری کا افسوسناک سانحہ

مری میں برف باری میں پھنسے خواتین اور بچوں سمیت بائیس افراد شدید سردی سے ٹھٹھر کر جاں بحق ہوگئے، مری کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے فوج اور سول آرمڈ فورسز کو طلب کرلیا گیا جو امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ملک کے پرفضا مقام مری میں شدید برف باری کے باعث ہزاروں سیاح پھنس کر رہ گئے جس کے بعد اسلام آباد سے مری جانے والے راستے بند کردیے گئے۔ پنجاب حکومت نے مری کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کردی ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ وزیراعلی پنجاب نے سرکاری ریسٹ ہائوسز اور دفاتر سیاحوں کے لیے کھولنے کی ہدایت کردی۔مری میں فضائی آپریشن کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ موسم بہتر ہوتے ہی ہیلی کاپٹر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے گا۔فاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سیاحوں کے بڑی تعداد میں آنے سے راستے بند ہوگئے ہیں، گزشتہ بارہ گھنٹوں سے ہم راستے کھولنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم نے فیصلہ کیاہے کہ فوج، سول آرمڈ فورسز ، رینجرز اور ایف سی کی مدد طلب کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو نکالاجاسکے۔مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باعث شدید سردی میں انہیں خوراک کامسئلہ ہے، میری مری کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ ان پھنسے سیاحوں کو گاڑیوں میں کمبل دیں خوراک مہیا کریں۔مری ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل واجد عزیز کا کہنا ہے آرمی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن رات سے ہی شروع ہو گیا تھا، ملٹری پولیس کے اہل کار سول ایڈمینسٹریشن کے ساتھ مل کر ٹریفک کو دیکھ رہے تھے، رات کو آرمی چیف نے کہا کہ ہدایات کا انتظار کیے بغیر اتنظامیہ سے مکمل تعاون کریں۔واجد عزیز نے کہا کہ کوشش یہ ہے کہ تمام لوگوں کو امداد پہنچائی جائے اور کسی سیاح کو بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رات کے وقت پاک فوج کے دو کیمپ قائم کر دیئے گئے تھے ایک کیمپ کلڈنا میں آرمی سکول آف لاجسٹک میں اور دوسرا سنی بینک میں قائم کیا گیا، آرمی سکول آف لاجسٹک میں ساٹھ خاندانوں کو اور سنی بینک میں قائم کیمپ میں پچاس خاندانوں کو رکھا گیا۔دریں اثنا پاک فضائیہ نے کہا ہے کہ سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی ہدایات پر کالا باغ اور لوئر ٹوپہ بیسز متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کررہے ہیں۔ شدید برف باری میں پھنسے سیاحوں کو رہائش، خوراک، گرم کپڑے اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، آپریشنز کے دوران پاک فضائیہ کے اہل کاروں نے متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا، موسمی حالات میں بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر آپریشن بھی شروع کیا جائے گا۔ مری میں شدید برف باری اور دم گھٹنے سے ہونی والی اموات پر وزیر اعظم عمران خان نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ مری روڈ پر ہونے والی سیاحوں کی اموات پر غم زدہ اور صدمے میں مبتلا ہیں۔مری میں سنو ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ جمعے کو ہونے والی برف باری انتہائی شدید تھی۔گلیات میں صرف ایک روز میں تین فٹ برفباری ہوئی جبکہ دوسرے سپیل کے دوران جمعے سے پہلے چار روز تک ہونے والے برفباری مجموعی طور پر چار فٹ تھی جس نے نظام زندگی تباہ کر کے رکھ دیا۔ برفباری اتنی شدید تھی کہ نہ صرف روڈ صاف کرنے کا کام متاثر ہوا بلکہ توحید آباد سے دروازہ کش کے مقام پر تین بجلی کے کھمبے گر گئے یہ تینوں بجلی کی مرکزی لائن کے تھے۔دوپہر کے وقت گلیات میں پہلے ایک مقام پر برفانی تودہ گرا پھر شام کے بعد ایک اور مقام پر برفانی تودا گرا جس سے ایبٹ آباد کو مری سے ملانے والا روڈ مکمل طور پر بلاک ہوگیا اورروڈ سفر کے قابل نہیں رہا۔مری پولیس کے مطابق سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے جمعے کے روز مری کا رخ کیا۔ پولیس کے مطابق اس وقت موسمی حالات بھی اچھے نہیں اور شدید برفباری کے سبب روڈ صاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت دو دو فٹ برف گِر چکی ہے ۔پولیس کے مطابق گاڑیاں پھسلن کی شکار ہیں اور کئی گاڑیاں روڈ پر کھڑی ہیں جن کو مدد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ درختوں، بجلی کے کھمبوں کے ٹوٹنے کے خدشات موجود ہیں۔مری انتظامیہ کے مطابق بظاہر ایسے لگتا ہے کہ مری میں تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہائوس سیاحوں سے بھر چکے ہیں چنانچہ ایسی صورتحال میں جب موسمی حالات بھی اچھے نہ ہوں اور رہائش کی جگہ بھی موجود نہ ہو تو سیاحوں کو بالکل بھی مری کا رخ نہیں کرنا چاہیے۔گلیات کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوسز میں جگہ موجود نہیں 'تمام ہوٹل اور گیسٹ ہائوس بھر چکے ہیں۔اس وقت جن سیاحوں کو جگہ نہیں ملی یا وہ روڈ پر پھنسے ہیں، ان کو خصوصی طور پر مدد فراہم کی جا رہی ہے کیونکہ بظاہر وہ غیر محفوظ ہیں۔ کئی مرتبہ ایسے لگا کہ دن میں اندھیرا چھا گیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اتنی شدید برفباری ہونی تھی اور اتنے سیاحوں کو مری کا رخ کرنا تھا تو اس بارے میں عوام کو پہلے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔مری میں شدید برفباری کے بعد سڑکوں پر درخت اور بجلی کے کھمبے گرے ہوئے ہیں اور لوگ جگہ جگہ کھڑی گاڑیوں کے شیشوں پر دستک دے کر ان کی خیریت پوچھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جب جواب نہیں ملتا تو پھر گاڑیوں کو کھول کر اندر موجود افراد کو طبی امداد دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس وقت مری میں شدید برفباری کی وجہ سے سیاح ٹریفک میں محصور ہیں جبکہ گاڑیوں میں طویل وقت تک بیٹھے رہنے، شیشوں کو بند کرنے اور ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے بہت سے سیاحوں کے بیہوش ہو جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ راستوں کی بندش کے باوجود سیاح اب بھی وہاں جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسلام آباد سے مری روڈ کی جانب جانے والے مرکزی راستوں پر حکام کی جانب سے چیکنگ کی جا رہی ہے اور راستہ مکمل طور پر بند ہے لیکن مری جانے والے ٹول پلازے پر اب بھی سینکڑوں گاڑیاں کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ ٹریفک بہت زیادہ ہے اور سینکڑوںگاڑیاں سترہ میل ٹول پلازہ پر کھڑی ہیں جبکہ موٹروے پر جانے والے راستے میں پانچ سو کے قریب گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ رات تین بجے سے یہاں کھڑے ہیں اور کچھ صبح پانچ بجے سے یہاں کھڑے ہیں۔ راستے میں پھسلن کی وجہ سے نہ گاڑی نکل سکتی ہے اور نہ ہی لوگ کہیں نکل سکتے ہیں۔ لوگوں کی گاڑیوں میں ایندھن ختم ہو چکا ہے۔ انتہائی سردی ہے۔ رات کو انتظامیہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن اب امدادی اداروں کے اہلکار پیدل جا کر گاڑیوں میں محصور سیاحوں کی مدد کی کوشش کر رہے ہیں۔ مرکزی علاقوں میں ہوٹل تو کھل گئے ہیں لیکن شدید ٹریفک کی وجہ سے سیاح ایسی جگہوں پر ہیں جہاں سے ان کے لیے یہاں تک پہنچنا مشکل ہے۔ اس وقت مشینری کو آگے پیچھے لے جانے میں بھی مشکلات دکھائی دے رہی ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں شریک کچھ مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں سیاحوں کو جگہ دی جبکہ ہوٹلوں میں بھی لوگوں کو رہائش دی جا رہی ہے۔پہلے جب بھی مری میں برفباری ہوتی تو جھیکا گلی، مال روڈ، جی پی او چوک، گلڈنہ، کارٹ روڈ سنی بینک کے پاس مشینیں ہوتی تھیں لیکن اس بار پہلے سے منصوبہ بندی دکھائی نہیں دی اور پہلی بار ہے کہ مری میں اتنے لوگ ہلاک ہوئے۔پوری دنیا میں برف پڑنے سے پہلے تنبیہ جاری کی جاتی ہے کہ اس علاقے میں موسم کبھی بھی خراب ہوسکتا ہے اس لیے گھر میں رہیں لیکن مری میں الرٹ جاری کرنے میں بہت دیر کر دی گئی۔برفباری کی صورت میں انتظامیہ کو سب سے پہلے مری جانے والی سڑکیں بند کرنی چاہیے تھیں۔لوگوں کو بتانا چاہیے تھا کہ جو لوگ گاڑیوں میں اپنے بچوں یا گھر والوں کے ساتھ بند ہیں وہ مدد آنے تک اپنی گاڑی کا پیٹرول یا ڈیزل بچانے کے لیے اسے بند کر دیں۔گاڑی کو کسی کی مدد سے سڑک کے کنارے پر پارک کریں نہ کہ بیچ راستے میں، ٹائر پر لوہے کی زنجیر لگا دیں اور ہو سکے تو گاڑی کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹر نہ چلائیں۔لوگ بھری گاڑی میں بھی ہیٹر چلا دیتے ہیں جس سے گاڑی میں گھٹن ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اگر ایک گاڑی میں دو سے تین لوگ ہیں تو ویسے ہی انسانی جان کی گرمی سے گاڑی اندر سے گرم ہی رہے گی۔کسی بھی صورت اپنی گاڑی کو چھوڑ کر پیدل نہ نکلیں کیونکہ آپ جہاں کھڑے ہیں اس سے آگے موسم کی کیا صورتحال ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ سڑک پر تنہا پھنسنے سے گاڑی کے اندر بیٹھنا قدرے بہتر ہے۔حکام بالا کو چاہیے آئندہ اس نوع کے سانحات کی روک تھام کیلئے پیشگی اقدامات کیے جائیں اورہوٹل بکنگ کے بغیر لوگوں کو مری جانے سے روکا جائے۔کہا جاتا ہے کہ مری میں ایک لاکھ گاڑیاں داخل ہوئیں جبکہ وہاں پارکنگ کی گنجائش دس ہزار بھی نہیں ہے سوال یہ ہے کہ اتنی گاڑیاں کیوں داخل ہونے دی گئیں۔