گلگت بلتستان میں خواتین کو ہنر سکھانے کا جامع منصوبہ

سینئر وزیر گلگت بلتستان راجہ محمد زکریا خان مقپون نے کہاہے کہ صوبائی حکومت خواتین کو بااختیار اور خودمختارشہری بنانے کیلئے وسیع بنیادوں پرکام کررہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کو ہنر سکھاکرمعاشرے میں باوقار بنائیں اس مقصد کیلئے جامع منصوبہ تیارکرلیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت گھریلو صنعت کو فروغ دے کر خواتین کی معاشی خوشحالی کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ گلگت بلتستان کی آدھی سے زیادہ آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور حکومت خواتین کی معاشی خوشحالی کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہیں اس سلسلے میں گھریلو سطح پر چھوٹے کاروبار کو فروغ دیا جائے گا۔ ان میں فروٹ پروسیسنگ،  دستکاری، ثقافتی ملبوسات کی تیاری  اور مختلف ہنر سکھانے کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ خوشحال گلگت بلتستان ہمارا خواب ہے علاقے میں لوگوں کو ان کے پائوں پرکھڑا کرنے کیلئے تمام تروسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں معاشی اور سیاسی استحکام کیلئے ہم دن رات ایک کرکے کام کررہے ہیں عوام الناس مطمئن رہیں ان کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے دریں اثنا سینئر وزیرراجہ محمد زکریا خان مقپون نے ٹریننگ میں حصہ لینے والی خواتین میں انعامات اور سرٹیفیکیٹ بھی تقسیم کئے۔چند روز قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خواتین کوہنرمند بنانے کیلئے بھرپور اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لئے خواتین کا کردار اہمیت کا حامل ہے، فنی تربیت کا حصول نوجوانوں بالخصوص خواتین کے لئے انتہائی ضروری ہے،حکومت خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کیلئے انہیں بینکوں کے ذریعے قرضے فراہم کررہی ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ خواتین کو حصول تعلیم کے بعد عملی میدان میں کردار ادا کرنا چاہئے، فنی تربیت کا حصول نوجوانوں کے لئے بہت ضروری ہے۔دنیا بھر میں خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں۔ پاکستان میں بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد ملازمت اختیار کیے ہوئے ہے جبکہ کچھ ایسی بھی ہیں جو چھوٹے اور بڑے پیمانے پر اپنا کاروبار کرتے ہوئے ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ یہ خواتین آئی ٹی، فیشن، تعلیم، آن لائن کاروبار اور دیگر میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان کا نام روشن کررہی ہیں۔ملک  کی تقریبا باون فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ایک اندازے کے مطابق ان میں سے بر سر روزگار خواتین مجمو عی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی۔ کاروبار کرنے والی خواتین کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ ملازمت پیشہ خواتین کی تعداد کل آبادی کا ڈیڑھ یا دو فیصد ہے۔ خواتین کے لیے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں اضافے سے پیشہ وارانہ زندگی کے مختلف شعبوں میں خواتین کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور وہ ملکی معاشی یا معاشرتی ترقی میں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کررہی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملازمت پیشہ اور کاروباری خواتین کو مساوی حقوق و مواقع فراہم کر نے کے لیے حکومتی سرپر ستی کی جائے اورایسی خواتین جن میں تمام تر صلاحیتیں اور خصو صیات ہوں، ان کی مثبت اور تیز سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کیا جائے۔ پاکستانی خواتین کاروباری سر گر میوں میں دلچسپی لیتے ہوئے نہ صر ف اپنے اور اہلخانہ کی مالی ضرورتوں کو بآسانی پورا کر سکتی ہیں بلکہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں تجارت کر کے ملک کے لیے کثیر زرمبادلہ بھی کما سکتی ہیں۔جب بھی مسائل کے حل کی بات ہوتی ہے تو خواتین زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور لازمی امر ہے کہ اگر مسائل حل ہوجائیں تو ہماری زندگی کافی حد تک سہل ہو سکتی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی  گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2019 میں کہا گیا تھا کہ دنیا بھر میں صنفی برابری کا خلا اڑسٹھ فیصد تک پر ہو چکا ہے تاہم ابھی بھی اس کو مکمل پر ہونے میں سوسے زائد سال لگ سکتے ہیں جبکہ کمپنیوں میں صنفی مساوات کاخلا مکمل پر ہونے میں مزید دو سوسال انتظار کرنا ہوگا۔ دنیا بھر میں صرف بائیس فیصد خواتین مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیشہ وارانہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس شعبے میں صنفی خلا بہت زیادہ نظر آتا ہے اور مستقبل میں بھی اس شرح میں اضافہ کا امکان موجود نہیں۔دنیا بھر میں عدم مساوات کی وجہ سے خواتین کے لیے معاشی مواقع کی فراہمی کے حوالے سے بھی حالات خراب ہیں، ساتھ ہی عورتوں اور مردوں کے درمیان معاوضوں کا فرق بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق عورتوں کے درمیان تنخواہوں کے فرق کی عالمی اوسط بیس فیصد ہے۔ فیصلہ سازی کا اختیار رکھنے والے عہدوں پر مردوں کا غلبہ ہے، جس سے خواتین کے پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کے امکانات کمزور پڑ جاتے ہیںاور ایسا صرف عالمی یا قومی سطح پرہی نہیں ہے بلکہ درسگاہوں اور کمیونٹیز کی سطح پر بھی ہوتاہے۔اگر ہم اس بات کی جانچ کرنا چاہیں کہ آیا آج کی خواتین کو ملازمت اور کاروبار میں یکساں مواقع مل رہے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت مردوں کے مقابلے میں ان کے لئے حالات سازگار ہیںیا نہیں؟ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو خواتین ہمیشہ ہی معاشرے میں پسماندہ رہی ہیں، تاہم اب حالات بدل رہے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو بااختیار بنانے کی راہ ہموار ہورہی ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک میں بھی دیکھے جارہے ہیں۔ صنفی عدم مساوات، مساوی تنخواہ اور ہراساں کرنے کے معاملات کو حل کرنے کیلئے اب کمپنیاں تیزی سے پختہ پالیسیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ یہ پالیسیاں مزید خواتین کو افرادی قوت میں شامل ہونے اور مردوں کی طرح مساوات کے پیمانے پر کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کریں گی۔خواتین گذشتہ ادوار کے مقابلے میں اہم ذمہ داریاں نبھانے میں آج زیادہ نمایاں ہوسکتی ہیں، بعض ممالک اور شعبوں میں خواتین مردوں کے برابر یا ان سے بھی بہتر تنخواہ حاصل کر رہی ہیں، لیکن اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ آج کی دنیا میں ہر عورت کو یکساں مواقع حاصل ہیں۔ لوگ اب بھی یہ مانتے ہیں کہ عورتیں مختلف طریقوں سے مردوں کے برابر نہیں ہیں۔ جب خواتین کو مساوی تنخواہ کی طرح ایک خاص حق دیا جاتا ہے ، تو کچھ لوگوں کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے ۔ ایسا منظر نامہ جہاں عورت کو کام کی جگہ یا معاشرے میں مساوی مواقع ملتے ہیں، ایک مرکزی دھارے کا تصور ہونا چاہیے۔ اس منظرنامے کویقینی بنانے کے لیے مرد اور خواتین سے ایک جیسا سلوک روا رکھا جائے، یہی وہ واحد راستہ ہے جس میں تمام خواتین کو برابری کی بنیاد پر مواقع کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی خواتین کو مساوی حقوق اور تنخواہ دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنی استطاعت ، ذہانت اور ذمہ داری سے مردوں کی طرح مساوی طور پر اپنا کردار ادا کرسکیں۔یہ بات خوش آئند ہے کہ اب سائنسدانوں، ماہرین تعلیم ، انجینئرز، ریاضی دانوں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی نئی نسل کے لیے راہیں ہموار ہو رہی ہیں، تاہم اسٹیم یعنی سائنس ، ٹیکنالوجی ، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس کے شعبوں میں اپنا کیریئر بنانے کی خواہش رکھنے والی خواتین کی تعداد ابھی بھی مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس فرق کو کم کرنے کیلئے بہت سے ماہرین اقتصادیات، ماہرین تعلیم اور عالمی رہنما کاوشیں کررہے ہیں۔دراصل آج بھی لڑکیوں سے یہ کہا جاتاہے کہ سائنس ان کے بس کی بات نہیں جبکہ کم آمدنی والے گھروں کی بچیوں کا سائنسی مضامین اختیار کرنا اچنبھے کی بات سمجھا جاتاہے۔ ہمیں اس طرز عمل کو ترک کرنا چاہیے۔ اوائل عمری سے ہی لڑکیوں کی سائنس، کامرس اور تخلیقی شعبوں میں حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے اور جب وہ اپنے کیریئر کے نمایاں مقام پر پہنچ رہی ہوں تو انہیں بااختیار بنانے اور بڑے خواب دیکھنے کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، خواتین خود ہی یہ ثابت کرسکتی ہیں کہ وہ مساوات کے لائق ہیں۔ اس مقصد کو حاصل کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے حالات کو درست بنانے کیلئے یہ بالکل موزوں وقت ہے۔ زندگی کے ہرموڑ پر، ہر فیلڈ میں، چاہے وہ صنعتیں ہوں یا تعلیمی ادارے ،ٹیکنالوجی ہمارے درمیان کھڑی ہوتی ہے۔ ٹیکنالوجی نے کمیونیکیشن کی رفتار تیز کردی ہے اور گھریلو کام سے لے کر دفتری فرائض تک ہمیں ہر وقت کمپیوٹر یا گیجٹس کی ضرورت پڑ تی ہے، اس صورتحال میں بچیوں کی تعلیم میں بھی ٹیکنالوجی کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اگر خواتین پیچھے رہ جائیں اور اپنا کردار ادا نہ کرسکیں تو معاشرے کے لیے یہ بڑے نقصان کا باعث ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مالیاتی شعبے میں خواتین کی عدم شمولیت نہ صرف آبادی کے نصف حصے کو محروم رکھے گی بلکہ مالیاتی شعبہ بذات خود خواتین کی اہلیت اور کاروباری صلاحیتوں سے محروم رہ جائے گا۔ دوسری طرف یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پختہ سماجی روایات کی وجہ سے خواتین اپنا معاشی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ روشن مستقبل کیلئے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانا انتہائی اہم ہے۔مالی اور معاشی مواقع میں صنفی مساوات بہتر ہونے سے نہ صرف ہماری موجودہ بلکہ آئندہ نسلوں کی مجموعی سماجی اور معاشی ترقی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔یہاں اس امر کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ اکثر خواتین جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناآشنا ہیں لہذا ان کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیتوں کا بھی انتظام کیا جائے۔