ای خدمت مرکز کے قیام کی نوید


ڈپٹی کمشنرگلگت کیپٹن راسامہ مجید چیمہ کی زیر صدارت ایک اجلاس ای خدمت مرکز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے منعقد ہوا جس میں ایکسیئن بلڈنگ ، ضلعی انتظامی آفیسر ڈی سی آفس گلگت اور دیگر آفیسران نے شرکت کی ۔ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے ڈپٹی کمشنر گلگت کہا ہے کہ ای خدمت مرکز کی تعمیر ہونے سے عوام الناس کو ہر قسم کی سہولیات فراہم ہو نگی اس کے ساتھ ساتھ لیوی فورس کے لیے بلڈنگ بھی تعمیر کی جائے گی ۔ اس حوالے سے ایکسین بلڈنگ نے ڈپٹی کمشنر گلگت کو ای خدمت مرکز کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ای خدمت مرکز کی اراضی کے سلسلے میں کورٹ میں کیس چل رہی ہے کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد ای خدمت مرکز کی تعمیراتی کام کا آغاز ہو گا اس کے علاوہ لیوی فورس کی بلڈ نگ کی تعمیراتی کام کے لیے پی سی ون تیار کیا گیا ہے جس کی منظوری کے بعد لیوی فورس کی بلڈنگ کا کام کا آغاز کیا جائیگا جس پر ڈپٹی کمشنر گلگت نے ایکسیئن بلڈنگ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای خدمت مرکز کی اراضی کے حوالے سے کورٹ سے فیصلہ آنے کے فوری بعد ہی تعمیرات کام کا آغاز کریں اس کے علاوہ پی سی ون کی منظوری کے بعد جلد از جلد لیوری فورس کی بلڈنگ کے ٹینڈر کے ذریعے تعمیراتی کام شروع کیا جائے ۔ای خدمات عوام کی سہولت کے لیے پوری دنیا میں فراہم کی جا رہی ہیں ۔تیزہوتے زمانے میں لوگوں کے پاس وقت کم ہے اور وہ لمبی لمبی لائنوں وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لیے ای خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔پبلک سیکٹر میں محکموں کی ایک بڑی تعداد شہریوں کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔ ہر سیکشن خودکار طریقے سے یا دستی طریقے سے مختلف طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے ایک یا ایک سے زیادہ خدمات فراہم کرتا ہے۔ شہریوں کو تمام حکومتی خدمات کی ایک چھت کے نیچے فراہم کرنے کا مقصد شہریوں کو تمام سرکاری خدمات تک بِلا روک ٹوک اور آسان رسائی فراہم کرنا ہے تاکہ شہری ایک چھت کے نیچے تمام سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ای خدمت سینٹر کا مقصد سرکاری خدمات کو ایک چھت کے نیچے مہیا کر کے شہریوں اور سرکاری اداروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ ان سرکاری خدمات میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ، شادی کا سرٹیفکیٹ، وفات کا سرٹیفیکیٹ، طلاق کا سرٹیفکیٹ، کیریکٹر سرٹیفکیٹ کا اجرا اور گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹوکن ٹیکس جمع کرنا، گاڑی کی ملکیت کی منتقلی، اراضی کی فرد، ابتدائی ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا، ٹریفک جرمانہ کی وصولی، ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کا اجرا، نادرا ای سہولت اور روٹ پرمٹ وغیرہ شامل ہیں۔پنجاب میں یہ خدمات کافی عرصے سے فراہم کی جا رہی ہیں ان خدمات کے ذریعے شہریوں کو کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر کے جدت پیدا کی گئی ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا مقصد موثر طریقے سے پنجاب حکومت، مقامی اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کے لئے آئی ٹی خدمات اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر کاربند رہنا ہے۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ مثبت انداز میں صحت، تعلیم اور صوبے کے امن وامان کے شعبوں پر اثرانداز ہونے والے انتظامی امور اور مسائل کے لئے حل فراہم کرتا ہے۔اس بورڈ کے کردار کو قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔یہ بورڈ پاکستان بھر میں سرکاری اور نجی شعبے اور طالب علموں کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملک میں کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ بورڈ کو جن اغراض و مقاصد کیلئے تشکیل دیا گیا تھا وہ ان پر بااحسن طریقے سے  پورا اتر رہا ہے ان میں سے  ایک قابل ذکر  کام ای خدمت سنٹرکا قیام ہے۔ای خدمت سینٹر مندرجہ ذیل خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔خدمات کی رسائی پر فاصلے کو کم سے کم کرنا۔غیر خدمات گروپوں تک رسائی۔شفافیت، کارکردگی اور احتساب متعارف کروانا۔لین دین کے طریقہ کار کو آسان بنانا۔شہریوں کے اخراجات کو کم سے کم کرنا۔حکومتی اخراجات کو کم سے کم کرنا۔حکومت کی آمدنی میں اضافہ۔سرکاری اطمینان کے انڈیکس میں اضافہ کرنا۔شہریوں اور حکومت کے لئے لین دین کے وقت کو بہتر بنانا۔جدید بہترین طریقوں کو اپنانا ۔اس نے نہ صرف شفاف طریقوں سے سرکاری انتظامی اور تکنیکی معاملات میں جدت پیدا کی ہے بلکہ بہت سی دیگر خدمات کے ذریعے شہریوں کو کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر کے جدت پیدا کی گئی ہے۔حقیقی خریداروں کی سہولت کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عارضی طور پر ایکسچینج کمپنیوں کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے ای سہولت آئوٹ لیٹس سے بائیو میٹرک سرٹیفکیشن حاصل کرنے والے افراد کو پانچ سو ڈالر تک فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔تاہم بائیو میٹرک تصدیق کی ضرورت پر عمل درآمد نہیں ہوسکا کیونکہ نادرا سے رابطہ قائم کرنے کا نظام دستیاب نہیں تھا۔اسٹیٹ بینک نے یہ فیصلہ بالخصوص افغانستان میں ڈالر کے اخراج کو روکنے کے لیے کیا ہے جس کی وجہ سے طلب میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا جس نے اوپن مارکیٹ میں شرح تبادلہ کو غیر مستحکم کردیا۔نادرا نے بھی نئی سروس شروع کی ہے جس کے تحت اب ا بائیو میٹرک کے لیے بینک جانے کی ضرورت نہیں یہ سہولت موبائل فون پر مہیا ہے ۔اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت بینکاری نظام میں سمارٹ موبائل فون کیمرے کے ذریعے صارفین کے گھر بیٹھے انگلیوں کے نشانات حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ان کی تصدیق بھی کی جا سکتی ہے۔اس بنا پر یہ پاکستان میں بینکاری شعبے کے لیے ایک نئے انقلابی دور کا آغاز ہے جس میں پہلے برانچ لیس بینکنگ کا تصور متعارف کرایا گیا اور اب اس ٹیکنالوجی کی بدولت یہ کنٹیکٹ لیس بینکنگ کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔نادرا کی جانب سے اس جدید ترین سہولت کے اجرا کی بدولت پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کا دائرہ کار قومی سطح  پر وسیع کر دیا گیا ہے جو عام شہریوں کے لیے بھی دستیاب ہے۔ جدید ڈجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی یہ سہولت نہ صرف پاکستان میں بینکاری خدمات کے شعبے میں انقلاب برپا کر دے گی بلکہ حکومت کی طرف سے جاری مالی شمولیت کی مہم میں بھی بھرپور طریقے سے مددگار ثابت ہو گی۔ ایک ادارے کی حیثیت سے نادرا کو ہمیشہ یہ منفرد حیثیت حاصل رہی ہے کہ اس نے ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان میں لاتعداد نئے رجحانات متعارف کرائے ہیں۔ ڈیجیٹل لین دین کے روایتی طریقوں میں خصوصی آلات کی ضرورت پڑتی ہے یا بینک کی متعلقہ شاخ یا فرنچائز پر جانا پڑتا ہے، لیکن اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اب اس کی ضرورت نہیں رہے گی اور یہ ان روایتی طریقوں کے بہترین متبادل کا کام دے گی۔نادرا آن لائن شناختی کارڈ بنوانے کے لیے بھی آن لائن پاک آئی ڈی سروسز کا اجرا پہلے ہی کر چکا ہے ۔ اس ٹیکنالوجی کو جلد بروئے کار لانے سے لاتعداد نئی راہیں کھل جائیں گی اور نہ صرف آبادی کے ان طبقات کو بھی خدمات کی فراہمی ممکن ہو گی جو تاحال اس دوڑ میں پیچھے ہیں بلکہ مالیاتی شعبے کو بھی بے پناہ فائدہ ہو گا کیونکہ اس کی بدولت بینکوں کے روزمرہ اخراجات کم ہو جائیں گے، اور وبا کے دوران بینک جس طرح دبائو کا شکار رہے ہیں، اسے دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔بہت جلد پاکستان میں موجود تمام بینک اپنے صارفین کو نئی ڈیجیٹل بینکنگ سہولیات فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیں گے جس کی بدولت اب بینک صارفین گھر بیٹھے اپنے موبائل فون کا کیمرہ استعمال کرتے ہوئے بینک اکائونٹ کھلوا سکیں گے اور مالی لین دین کی لاتعداد ایسی سرگرمیاں کر سکیں گے جن میں بائیومیٹرک تصدیق کی ضرورت پڑتی ہے۔ نادرا آن لائن شناختی کارڈ بنوانے کے لیے بھی آن لائن پاک آئی ڈی سروسز کا اجرا پہلے ہی کر چکا ہے جس میں موبائل فون کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کرائی جا سکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں گلگت بلتستان میں یہ اہم قدم ہو گا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی تربیت کا اہتمام بھی کیا جائے تاکہ وہ بحسن و خوبی ان خدمات سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ عوام کی اکثریت آن لائن ان خدمات کے استعمال کو نہیں جانتی اگر میڈیا کے ذریعے تواتر کے ساتھ ان کی تربیت کا اہتمام کیا جائے تو عوام حقیقی معنوں میں ان سے مستفید ہو سکیں گے۔