عالمی برادری زمینی حقائق کا ادراک کرے

وزیر اعظم عمران خان نے مودی کوخطے کے امن کے لیے ایک حقیقی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے بھارت میں اقلیتیں بی جے پی کی سرپرستی میں کام کرنے والے انتہا پسند گروپوں کے نشانے پر ہیں۔گزشتہ ماہ بھارت میں کئی انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کے رہنمائوں نے ملک میں اقلیتوں کی نسلی کشی کا اعلان کیا تھا جس کا خاص طور پر نشانہ ملک کی بیس کروڑ مسلمان آبادی تھی۔کچھ دن قبل ہندو رکشا سینا کے صدر سوامی پربودھانند گیری نے کہا کہ میانمار کی طرح، ہماری پولیس، ہمارے سیاست دان، ہماری فوج اور ہر ہندو کو ہتھیار اٹھانا ہوں گے اور صفائی ابھیان (نسل کشی)کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔سیاسی جماعت ہندو مہاسبھا کی جنرل سیکرٹری سادھوی اناپورنا نے بھی ہتھیاروں اور نسل کشی پر اکسانے کی ترغیب دی تھی۔دی وائر نے ان کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں، اگر تم ان کی آبادی کو ختم کرنا چاہتے ہو تو انہیں مار دو، مارنے کے لیے تیار ہو جائو اور جیل جانے کے لیے تیار رہو، یہاں تک کہ اگر ہم میں سے 100 لوگ بھی ان میں سے 20 لاکھ مسلمانوںکو مارنے کے لیے تیار ہو جائیں، تب بھی ہم جیت جائیں گے اور جیل جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق مذہبی رہنما سوامی آنندسوروپ نے ایک مثال دی کہ سڑک پر مسلمان دکانداروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں جس گلی میں رہتا ہوں وہاں ہر صبح مجھے ایک ملا نظر آتا تھا جس کی داڑھی ہے اور آج کل وہ زعفرانی داڑھی رکھتا ہے۔ یہ ہریدوار ہے مہاراج، یہاں کوئی مسلمان خریدار نہیں ہے، اس لیے اس شخص کو اٹھا کر باہر پھینک دو۔دی وائر نے لکھا کہ اس تین روزہ سربراہی اجلاس میں حکمران جماعت کی طرف سے سیاسی حوصلہ افزائی کے لیے بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے اور بی جے پی مہیلا مورچہ کی رہنما ادیتا تیاگی نے بھی شرکت کی تاہم انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے اشونی اپادھیائے نے کہا یہ تین روزہ پروگرام تھا اور میں وہاں ایک دن کے لیے گیا تھا، اس دوران میں تقریبا تیس منٹ تک اسٹیج پر رہا اور آئین کے بارے میں بات کی، اس سے پہلے اور بعد میں دوسروں نے کیا کہا، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔بھارت میں اقلیتوں کی حالت زارہندو انتہاپسندی کے باعت  روز بروز خراب ہو رہی ہے۔ خشونت سنگھ نے اپنی کتاب، دی اینڈ آف انڈیا، میں کہا تھا بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے آپ ہی تعصبانہ رویوں کی بدولت خودکشی کا ارتکاب کر ے گا ۔ڈاکٹر امبیدکر نے جو بھارت کے آئین کے معمار ہیں، ہندو ہونے کے باوجود کہتے تھے کہ میں ہندو کی حیثیت سے پیداتو ہو گیا، اس لئے کہ پیدائش پر میرا بس نہیں چلتا تھا مگر میں ہندو کی حیثیت سے ہرگز نہیں مرنا چاہوں گا۔ہندو مذہب میں عدم برداشت بہت ہے اسی وجہ سے تو بھارتی آئین کے معمار ڈاکٹر امبیدکر نے ہندو مت چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔ بھارت کی ممتاز صحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں :بھارت میں اقلیتوں پر جس حساب سے ظلم ہو رہا ہے، اس نے ساری دنیا میں بھارت کو رسوا کر کے اس کے منہ پر کالک مل دی ہے۔بغل میں چھری دبا کر منہ سے رام رام کرنے والوں نے مسلم ، عیسائی اور سکھ مذہب کے حقوق آئینی سطح پر تسلیم کرنے کے باوجود روزِ ازل سے اپنے ہی بنائے گئے آئین سے انحراف کیا اور قلبی و ذہنی طور پر نہ صرف ان مذاہب کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کے ماننے والوں کے لئے عرصہ حیات تنگ کردیاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب سیکولر بھارت کا اصل چہرہ آئے روز واضح ہوتا جا رہا ہے اور یہ تیزی سے ایک متعصب تنگ نظر اور تشدد پسند ہندو ریاست میں تبدیل ہو رہا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارت میں تمام اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں کہا: بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دئیے جاتے ہیں اور ان پر حملوں، مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات عام ہو رہے ہیں۔بھارت میں جب سے بی جے پی کے نریند ر مودی نے اقتدار سنبھالا ہے، ہندو انتہاپسندوں کی باچھیں کھل اٹھی ہیں اور آر ایس ایس اور وی ایچ پی جیسی پرتشدد ہندوتنظیمیں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے پہلے سے بڑھ کر متحرک ہو گئی ہیں۔ جنونی ہندوانتہا پسندوں نے موجودہ بھارتی حکومت سے رام مندر کی تعمیر کے لئے اس لئے بھی بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ یہی بی جے پی تھی جس نے 1991میں ریاست اتر پردیش میں اقتدار سنبھالا اور ایک سال بعد اپنی سرپرستی میں بابری مسجد شہید کروادی تھی۔ جب سے نریند ر مودی نے اقتدارسنبھالا ہے، بھارت کے سیکولر ازم کی رہی سہی کسریں بھی نکل رہی ہیں۔حیرت اس امر پر ہے کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے قبل اقلیتوں کے متعلق جو خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے وہ اس قلیل مدت میں ہی درست ثابت ہونے لگے ہیں۔ تنگ نظر ہندو ازم کا زہر پوری ریاست میں پھیل رہا ہے اور اقلیتوں کو مختلف ہتھکنڈوں سے دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ عیسائیوں، مسلمانوں اور سکھوں کو یہ کہہ کر ان کا استحصال کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں چلے جائیں کیونکہ بھارت صرف ہندوئوں کی سر زمین ہے، یہاں کسی اور گروہ ، فرقے یا مذہب کی جگہ نہیں۔ یوں اپنی مذموم اور گھٹیا حرکات سے سیکولر بھارت کے منہ پر کالک مل دی گئی اور سیکولر ریاست اپنا منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔سات دہائیوں بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ان پر عرصہ حیات اس قدر تنگ کر دیا گیا کہ ان کے لئے سانس لینا بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ہندوئوں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں عیسائیوں اور سکھوں کو تعلیم روزگار تجارت غرض ہر شعبے میں پسماندہ رکھا جائے تاکہ بالآخر یہ ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظالمانہ ، امتیازی اور شرمناک سلوک کے بے شمار واقعات چپے چپے پر بکھرے پڑے ہیں۔ جون 1984 میں اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے احکامات کے تحت ا مرتسر میں سکھوں کی بہت بڑی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر انڈین آرمی نے چڑھائی کر کے اسے اس بنا پر مسمار کر دیا تھا کہ اس عمارت میں علیحدگی پسند سکھ نوجوانوں نے پناہ لے رکھی تھی جو خالصتان کی آزاد حکومت اور ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔ایک سیکولر ریاست نے ایک لمحے کو بھی نہیں سوچاکہ سکھوں کی مقدس ترین جگہ کو مسمار کرنے کے رد عمل ہی میں اندرا گاندھی کو اس کے محافظوں نے قتل کیا تھا۔ گولڈن ٹیمپل کی مسماری سے اب تک بھارت میں سکھ کمیونٹی کو چین نصیب نہیں ہوا اور انہیں مختلف حیلوں سے ہندوشدت پسندوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی حکومتوں کی تنگ نظری کا سامنا ہے۔13اکتوبر2015 کو بھارتی پنجاب کے علاقے فریدکوٹ میں ہندوں نے ایک گردوارے کے قریب سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کے سو سے زائد مسخ شدہ نسخے پھینک دئیے۔ اس وقت گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے مسلمانوں کے قتل عام پر کہا تھا کہ یہ سب گودھرا واقعہ کا فطری رد عمل ہے ۔بھارت میں مسیحی برادری بھی ایک بڑی اقلیت ہے جو ہندوئوں کے رحم و کرم پر ہے۔ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، جلانا ، مذہبی کتابوں کی بے حرمتی اور انہیں زبردستی ہندو دھرم میں شامل کرنا جیسے واقعات عام ہیں اور خوف و ہراس پر مشتمل تحریری مواد مسیحی آبادیوں میں تقسیم کرکے انہیں ہراساں کیاجاتا ہے۔ہندوئوں کا خیال ہے کہ اکھنڈ بھارت کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک عیسائیوں کو ختم نہ کر دیا جائے۔ یوں بھارت میں عیسائیوں کا خاتمہ بھی سنگھ پریوار کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔دلی میں مسیحی سکول ہولی چائلڈ پر بھی حملے ہوئے اور پولیس و دیگر ادارے ملزموں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں رہے۔ایسے میں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ عالی برادری ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف مظالم اور ان کی نسل کشی کا نوٹس لے اپنے معاشی مفادات کو پس پشت ڈال کر بھارت کی سرزنش کرے اوراسے اقلیتوں کے تحفظ پر مجبور کرے۔عالمی برادری کو حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں لیت و لعل سے کام نہیں لینا چاہیے۔