تھور اورہربن قبائل میں سرحدی تنازع کا حل

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اور خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے رہائشیوں کے درمیان دیامر بھاشا ڈیم کے مقام پر طویل عرصے سے جاری سرحدی تقسیم کا تنازع بالآخر حل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ پر مشتمل جرگے نے کوہستان کے ہربن قبیلے اور دیامر کے تھور قبیلے کے درمیان جاری تنازع حل کروا دیا اور دونوں قبائل کے درمیان 2014 میں ہونے والے جھگڑے میں قتل ہوجانے والے افراد کے ورثا میں چیک بھی تقسیم کیے۔اس تنازع کے حل سے  واپڈا کے لیے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کو تیزی سے آگے بڑھانا ممکن ہوسکے گا۔واپڈا کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین کے مطابق یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے کا مسئلہ بالآخر طے پا گیا ہے۔مختلف عدالتی کمیشن اور اعلی اختیاراتی کمیٹیاں اس بڑے تنازع کو ختم نہیں کر سکی تھیں جسے آخر کار واپڈا اور دیگر متعلقہ محکموں کی مدد سے ایک قومی جرگہ حل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ متاثرین کو معاوضہ بھی دیا گیا ہے۔ تنازع کے حل نے ڈیم کے منصوبے کو آسانی سے انجام تک پہنچانے کی راہ ہموار کردی ہے۔واپڈا کے مطابق اس تنازع کے حل کا اعلان ڈیم سائٹ پر ہونے والی ایک تقریب میں کیا گیا جس میں تنازع کے حل کے لیے گرینڈ جرگے کا انتظام کیا گیا تھا۔26رکنی جرگہ 2019کے آخر میں دونوں قبائل کے درمیان سرحدی تنازع کے حل کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔جرگے میں گلگت بلتستان کے ضلع دیامر اور خیبرپختونخوا کے ضلع بالائی کوہستان سے تیرہ تیرہ اراکین شامل تھے، ان میں قبائلی عمائدین اور مذہبی اسکالرز بھی شامل تھے، جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران کئی بار مذاکرات کیے۔تقریب میں جرگے کے اراکین کے علاوہ واپڈا کے چیئرمین، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کمانڈر میجر جنرل جواد احمد قاضی، واپڈا کے جنرل منیجر لینڈ ایکوزیشن اینڈ سیٹلمنٹ ریٹائرڈ بریگیڈیئر شعیب تقی، پروجیکٹ ڈائریکٹر را محمد یوسف، مقامی قبائلی افراد، ماہرین قانون سازی اور کوہستان اور دیامر کی ضلعی انتظامیہ اور حکام کے علاوہ تھور اور ہربن قبائل کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں جرگے کے فیصلے کے مطابق چالیس کروڑ مالیت کے چیک ان افراد میں تقسیم کیے گئے جن کی زمین منصوبے کے لیے حاصل کی گئی تھی۔2014 میں دیامر کے تھور قبیلے کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے چار کوہستانیوں میں سے ہر ایک کے لواحقین میں پچاس لاکھ روپے کا معاوضہ بھی تقسیم کیا گیا، واقعے میں زخمی ہونے والوں کو بھی پچیس لاکھ روپے کے چیک دیے گئے۔اس موقع پر چیئرمین واپڈا نے کہا کہ ہم تھور اور ہربن قبائل کے درمیان سرحدی تنازع کے حل پر جرگے کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ہم جی بی اور کے پی کی سول انتظامیہ اور واپڈا کے لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سیٹلمنٹ ونگ کی جانب سے گرینڈ جرگے کو تاریخی تصفیے تک پہنچانے کے لیے انتھک کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔چیئرمین واپڈا نے جرگے کے اراکین کو عمرہ کے ٹکٹ دینے کا اعلان بھی کیا۔قراقرم ہائی وے پر تقریبا آٹھ کلومیٹر اراضی پر پھیلا یہ متنازع علاقہ اب وفاقی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں آگیا ہے۔اس سے قبل چیئرمین واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم کے مختلف مقامات کا دورہ بھی کیا اور منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ یہ منصوبہ دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔بارہ لاکھ تیس ہزار ایکڑ اضافی زمین کو سیراب کرنے کے لیے اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 8.1 ایم اے ایف ہے۔ساڑھے چار ہزارمیگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ یہ منصوبہ قومی گرڈ کو سالانہ اٹھارہ ارب یونٹس سے زیادہ بجلی فراہم کرے گا۔اس ڈیم کی تعمیر سے موجودہ ہائیڈل پاور اسٹیشنوں کی سالانہ توانائی کی پیداوار پر بھی مثبت اثر پڑے گا، تربیلا اور غازی بروتھا ڈیم کی سالانہ پیداوار میں بھی دواعشاریہ پانچ ارب یونٹس کا اضافہ ہوگا۔کون نہیں جانتا کہدیا میر بھاشا ڈیم کے مقام پر گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر اور خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کے رہائشیوں کے درمیان سرحدی تقسیم کا تنازع  شدت اختیار کرگیا تھا کیوں کہ دونوں طرف کے قبائل نے اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا تھا۔کوہستان کا ہربن قبیلہ اور دیامیر کا تھور قبیلہ گندلو نالہ کے علاقے میں آٹھ کلومیٹر کے علاقے کی ملکیت کا دعوے دار تھا۔تھور قبائلی عمائدین چلاس میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر دھرنا دییتے ہوئے یہ الزام لگاچکے ہیں  کہ ہربن قبیلے کے لوگ گلگت بلتستان کے رہائشیوں کو ہراساں کر رہے ہیں تاکہ حکومت پر اس معاملے کا فیصلہ اپنے حق میں کروانے پر دبائو ڈالا جاسکے۔ کوہستان پولیس کی موجودگی میں ہربن قبیلے کے لوگ روزانہ تین گھنٹے کے لیے قراقرم ہائی وے کو بلاک کردیتے تھے تاکہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو یہاں سے گزرنے سے روکا جاسکے۔تھور قبیلے کے افراد الزام لگاتے تھے کہ مسلح افراد گلگت بلتستان کے مسافروں کے شناختی کارڈز چیک کرتے ہیں اور انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔لوگوں کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا کوہستان سے قراقرم ہائی وے پر سفر خطرناک ہوچکا ہے۔انہوں نے خیبر پختونخوا کی انتظامیہ پر قانون توڑنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے کا بھی الزام لگایا اور خبردار کیا تھا کہ صورتحال خراب تر ہوچکی ہے اوراگر حکومت نے بروقت ایکشن نہ لیا تو یہاں کوئی تصادم بھی ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اسکائوٹس اور پولیس مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام ہوچکی ہے۔تھور مظاہرین کا کہنا تھا کہ تاریخی طور پر یہ متنازع علاقہ تھور قبیلے کی ملکیت ہے، ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں لیکن کوہستان کے لوگ ہمیں اپنی زمین سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ہم اپنے حق کے لیے لڑیں گے اور اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔مظاہرین نے اعلان کیا تھا کہ اگر بائونڈری کمیشن کا فیصلہ ان کے حق میں نہیں آیا تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے،اگر خیبر پختوخوا کی حکومت کوہستان کے لوگوں کو گلگت بلتستان کے لوگوں کو ہراساں کرنے سے روکنے میں ناکام رہی تو ہم بھی قراقرم ہائی وے پر احتجاج کریں گے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کیا گیا بائونڈری کمیشن اس تنازع کو حل کرنے میں ناکام رہا تھا۔فروری2014میں دونوں قبائل کے درمیان مسلح تصادم میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جس کے بعد فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکاروں کو اس متنازع مقام پر تعینات کیا گیا اورحکام نے سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔اسی دوران ہربن قبیلے نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 15 مئی کی ڈیڈلائن دی  اورمطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں قراقرم ہائی وے کو متعدد مقامات سے بلاک کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ہربن قبیلے کا احتجاج ختم نہ کرنے پر تھور قبیلے کے ایک مقامی جرگے نے بھی قرارقرم ہائی وے پر احتجاج کا فیصلہ کیا تھا۔2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم کی اراضی کی حدبندی کے معاملے پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے پندرہ روز میں جواب طلب کیا تھا۔سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دیامر بھاشا ڈیم کی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں حد بندی کے معاملے پر سماعت کی، اس دوران حدبندی تنازع کے معاملے پر رپورٹ پیش کی گئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں بھی آپ کی حکومت ہے اس معاملے کو حل کریں، مجھے لگتا ہے کہ صرف تاریخ لینے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔سابق چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا حکومت مل بیٹھ کر مسئلہ حل کیوں نہیں کرتے، اس پراٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں میں بھی تنازع موجود ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل گلگت بلتستان نے عدالت کو بتایا تھا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ نہیں آئین کے آرٹیکل ون میں گلگت بلتستان کی حدود کا تعین نہیں اور یہ پاکستان کی آئینی حدود میں نہیں آتا، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار گلگت بلتستان تک نہیں۔گلگت بلتستان حکومت مشترکہ مفادات کونسل میں بھی نہیں جبکہ ڈیم کی رائلٹی کا ایشو بھی بن رہا ہے، ڈیم کی تعمیر پر گلگت بلتستان حکومت کو کوئی اعتراض نہیں تاہم عدالت خود طے کرے انہوں نے کیا کرنا ہے، ہمیں اس معاملے پر وقت دے دیں ہم جواب جمع کروا دیں گے۔اس پر چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل گلگت بلتستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ اگر یہ کیس ہم نہیں سن سکتے تو کیا غیر ملکی فورم سنے گا؟ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا تنازع کا حل کون کرے گا؟ گلگت بلتستان کا پاکستان پر حق ہے اور یہ اپنی رائلٹی کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرسکتا ہے۔عدالت میں پیش کردہ رپورٹ پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تھا کہ رپورٹ اور چیئرمین واپڈا کے مطابق منصوبے کا ایک ٹربائن خیبر پختونخوا اور ایک گلگت بلتستان میں لگے گا۔بہرحال یہ امر خوش آئند ہے کہ مذکورہ دیرینہ مسئلہ دیر آید درست آید کے مصداق آخر کار خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔