استور کیلئے پینتیس ارب کے منصوبوں کی منظوری مل چکی، سمیع اللہ

وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر سمیع اللہ ایڈووکیٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ETI پورے گلگت بلتستان میں مختلف پروجیکٹس پر کام کررہا ہے ہم ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ڈشکن روڈ جو انتہائی قلیل مدت میں مکمل ہوا ہے اس روڈ کو ہنگامی سطح پر مکمل کرانے پر میں ایس ایم ٹی ڈشکن اور ایفاد پروجیکٹ کے تمام ذمہ داروں کو سلام پیش کرتا ہوں ہماری حکومت گلگت بلتستان کے اندر تعمیر وترقی کے عظیم منصوبے لگا رہی استور کے اندر اب تک پینتیس ارب روپے سے زائد کے میگا منصوبوں کی منظوری مل چکی ہے بوبن شغرتھنگ روڈ، استور ویلی روڈ جیسے میگا منصوبے جو پورے استور کی تقدیر بدلنے میں سنگ میل ثابت ہوگا بوبن شغرتھنگ روڈ بنے کے بعد ایک گھنٹے کی دوری پر انٹرنیشنل ائیرپورٹ ہوگا اسے لوگوں کی سفری مشکلات کم ہونگی اور سیاحت کی فروغ کے لیے بھی یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا تقریب سے اسسٹنٹ کمشنر استور نظام الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استور ڈشکن روڈ کے مکمل ہونے پر میں ETIکے ذمہ داروں اور ایس ایم ٹی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور میں تمام عمائدین سے گزارش کرتا ہوں اسطرح کے ایک پروجیکٹ پر روکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے ایسے پروجیکٹ کو مکمل کرانے کے لیے ہر بندے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا استور میں جہاں جہاں اسطرح کے تعمیراتی پروجیکٹ ہیں ان کے پایہ تکمیل کے لیے استور انتظامیہ عوام اور ای ٹی آئی کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔تقریب سے ای ٹی آئی کے سوشل کواڈنیٹر عبدالمجیب نے پروجیکٹ چکے حوالے سے شرکا کو مکمل  بریفینگ دیتے ہوئے اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانے پر ایس ایم ٹی کے ممبران عوامی نمائندے اور انتظامیہ میڈیا کے افرد سب کا شکریہ ادا کیا تقریب میں ایس ایم ٹی کے ممبر سابق امیدوار گلگت بلتستان اسمبلی شمس الدین نے کہا کہ میں ای ٹی آئی کے تمام ذمہ داروں اور مینجمنٹ ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دن رات ہمارے ساتھ کھڑے ہوکر ہرچو سے ڈشکن تک کا ساڑھے چار کلومیٹر روڈ مکمل کرایا اس دوران ویلی روڈ کی بندش کے باعث بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انتظامیہ اور عوام کی تعاون سے یہ روڈ مکمل کرانے میں ہماری مدد کرنے پر پوری ڈشکن کی عوام کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں تقریب کے آخر میں ایس ایم ٹی کے ممبران اور ای ٹی آئی کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق روڈ  مکمل ہونے فائل ہینڈ اور کی گئی اور اور ادرے کی جانب سے سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔