زمینیں لیز پر دینے کا مثبت مشورہ

 صوبائی وزیربلدیات حاجی عبدالحمید نے گلگت بلتستان کی ترقی وخوشحالی کیلئے فارمولا پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں جب تک باہرسے سرمایہ کار نہیں آئیں گے کوئی ترقی نہیں آئیگی سرمایہ کاروں کو یہاں لانے کیلئے ماحول بناناہوگا بیشک لوگ زمینیں فروخت نہ کریں زمینیں فروخت کرنے کا میں بھی حامی نہیں ہوں البتہ مقامی لوگ باہرسے آنیوالے سرمایہ کاروں کو زمینیں لیزپر دیں بیس یا پچیس سال تک زمینیں لیز پر دینے سے علاقے کی لوگوں کو بڑے فائدے ہوں  گے،مقامی لوگوں کی زمینیں ان کے پاس رہنے کے ساتھ ساتھ انہیں دیگرحوالوں سے بھی فائدے ہوں گے۔ غیرمقامی لوگوں کو زمینیں بیچنے پر پابندی عائد کرنے سے باہرسے سرمایہ کار نہیں آسکیں گے جب باہرسے سرمایہ کار نہیں آئیں گے تویہاں ترقی کیسے ہوگی بتایاجائے کہ مقامی لوگوں کے پاس کتنے پیسے ہوں گے میں تقریبا بیس سے پچیس سال تک دبئی میں رہا ہوں۔ پہلے دبئی میں کچھ بھی نہیں تھا دبئی میں پہلے ہرطرف ویرانی تھی مگر وہاں باہر سے سرمایہ کاروں نے آکر سرمایہ کاری کی ۔آج دبئی پر پوری دنیا کی نظریں ہیں اور یہ خطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگیا۔ہمارے علاقے میں بھی کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے ہمارے خطے کو بے شمار وسائل سے نوازا ہے اگر ہمارے علاقے میں کسی چیز کی کوئی کمی ہے تووہ پیسہ ہے پیسے جب تک نہیں آئیں گے ترقی ہوگی نہ ہی لوگ معاشی لحاظ سے خوشحال ہوں گے ۔مقامی لوگ اپنی زمینیں اونے پونے دام فروخت کرنے کے بجائے باہر سے آنیوالے سرمایہ کاروں کو لیز پردیں اورمقامی لوگ سرمایہ کاروں سے معاہدہ کرلیں کہ کاروبار میں پانچ یا دس فیصدفائدے زمینوں کے مالکان کو  دیںگے معاہدوں پر زمینیوں کا لین دین ہواتو یہاں بڑی ترقی آئیگی۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتوں نے کبھی علاقے کی ترقی وخوشحالی کیلئے سنجیدہ ہوکر کوئی پالیسی نہیں بنائی ہماری حکومت پالیسی بنانا چاہتی ہے پالیسی نہ بنائی گئی تو علاقے کی ترقی خواب بن کر رہ جائیگی پالیسی نہ بنی  تو یہ بھی ہوسکتاہے کہ یہاں آنیوالے سیاح منفی پیغام لیکر واپس جائیں، وزیراعظم عمران خان نے سکردو آکر کہا ہے کہ سکردو دنیا کا خوبصورت ترین خطہ ہے۔ ہمیں وزیراعظم کی تقریر کی لاج رکھنے کیلئے بھی خطے کی خوبصورتی کیلئے کام کرنا پڑیگا۔گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں جدید طرزپر پبلک ٹائلٹس بنانے کی ضرورت ہے اس مقصد کیلئے لوکل گورنمنٹ کام کریگی سکردو میں پبلک ٹائلٹس بنانے اور واٹرکولرز کی تنصیب کیلئے پیسے رکھے جائیں گے۔ نیک نیتی کے ساتھ کام کیا جائے تو کوئی چیز مشکل نہیں ہے  نیت نیک ہوتو ترقی وخوشحالی نہ آنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہم سب کو نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ علاقے کی ترقی کیلئے کام کرناہوگا۔ صوبائی وزیربلدیات کا یہ کہنا درست ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے اور یہ استحکام سرمایہ کاری ہی سے ممکن ہے کیونکہ لوکل افراد کے پاس اتناسرمایہ نہیں ہے۔انہوں نے اس حوالے سے یہ مشورہ دیا ہے کہ عیر مقامی سرمایہ کاروں کو لیز پر زمینیں دی جائیں تاکہ زمینیں بھی محفوظ رہیں اور معیشت بھی ترقی کرے اور یہ تاثر بھی پیدا نہ ہو کہ غیر مقامی باہر سے آ کر چھا گئے ہیں۔گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کے مواقع وسیع ہیں لیکن سرمایہ کار کو بھی اپنے سرمائے کا تحفظ چاہیے ہوتا ہے۔ اگر مخصوص شرائط کے تحت معاہدے کر لیے جائیں جس میں سرمایہ کار اور مقامی افراد دونوں کا فائدہ ہو تو صورتحال میں بہتر پیشرفت ہو سکتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ یا علاقہ اس وقت تک مضبوط یا ترقی یافتہ نہیں ہوسکتا جب تک وہ معاشی طور پر مستحکم نہ ہو اور اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کی پیداواری صلاحیت کیا ہے ؟اس میں سرمایہ کاری کے کیا امکانات ہیں ؟ کیا سرمایہ کاری ہورہی ہے؟ ہم نے اس کا شور تو بہت مچایا ہے لیکن عملا کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے' حقیقت میں گزشتہ ستر سالوں میں نعروں ،وعدوں اور دعوئوں کے سواکبھی بھی معیشت کی ترقی وبہتری یا اندرونی وبیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کی جانب سنجیدگی کے ساتھ توجہ نہیں دی گئی یہی وجہ ہے کہ گزشتہ بیس سالوں میں صرف کچھ موبائل فونز یا چند فوڈ چینز کے علاوہ کسی حقیقی شعبہ میں کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کی گئی اور المیہ یہ ہے کہ ان شعبوں میں بھی اگر کوئی بیرونی سرمایہ کاری کرتا ہے تو اگر سال میں سو ڈالرز کماتا ہے تو سال کے آخر میںوہ اپنے ملک بھیج دیتا ہے جسکی وجہ سے ہمارے ملک کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچ پاتا ۔اس وقت صرف ہمارے ہاں اسمبل پلانٹ پر انحصار کیا جارہا ہے بلکہ جو سرمایہ کاری کی بھی گئی تھی اسکو بھی کالے دھن کی جنت یعنی جائیدادوں کی خریدوفروخت میں لگارہے ہیں جسکی وجہ سے مجموعی طور پر ملک میں پانچ ہزار سے زائد صنعتیں بند ہوکر گوداموں میں تبدیل ہوچکی ہیں اور اسی کا شاخسانہ ہے کہ ملکی برآمدات کم ہوچکی ہے اور ساتھ ہی ہماری پالیسیوں کا المیہ یہ بھی ہے کہ جن شعبوں میںبیرونی سرمایہ کاری ہوئی بھی تھی وہاں بھی صرف اسمبل پلانٹ پر ہی اکتفا کی جارہا ہے حالانکہ اس وقت تھائی لینڈ، بنگلہ دیش جیسے دیگر چھوٹے ممالک بھی تمام شعبوں میں ٹیکنالوجی کے ساتھ سرمایہ کاری کرارہے ہیں جبکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے جتنے مواقع موجود ہیں وہ شائد پوری عالمی دنیا میں چند ممالک کو ہی نصیب ہونگے چونکہ پاکستان اپنے چاروں موسموں اور دریا، سمندر، بندرگاہوں، معدنی وسائل، تیل اور زیر زمین خزانوں کی بدولت سرمایہ کاری کیلئے بہترین ملک ہے لیکن ہمارے عالمی اداروں کے غلام ارباب اقتدار اپنی مصلحتوں اورمنا فقتوں کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں دے رہے اور صرف نعروں، دعوئوں اور خوبصورت الفاظوں کا استعمال کرکے اور جھوٹے اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر ہماری سادہ لوح قوم کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔موجودہ دور میں بھی ہماری وزارت خزانہ اور اقتصادی منصوبہ بندی میں بیٹھے ہوئے افراد کا عمل اورکردار پہلے سے بھی زیادہ عالمی مالیاتی اداروں کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف عمل ہے حالانکہ موجودہ حکومت کو اپنے ابتدائی دو سالوں میں تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ میں کم ترین قیمت کا قدرت کی طرف سے تحفہ ملا تھا جسکا دنیا کے بیشتر ممالک نے فائدہ اٹھایا مگر ہمارا ملک اس سے محروم رہا اورحاصل شدہ فائدے کو پیداواری شعبے میں لگانے کے بجائے انتظامی اخراجات پورا کرنے میں لگے رہے ۔ جب ملک کے اپنے سرمایہ کار اپنے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرینگے تو بیرون ملک سے کون آکر ہمارے ملک میں سرمایہ کاری کریگا ؟انویسٹ ایشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایشیائی ممالک میں تھائی لینڈ،ملائیشیائ، بھارت ،فلپائن حتی کہ کمبوڈیااورویت نام جیسے ممالک بھی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ملک ہیں مگر پاکستان کا دور دور تک پتہ نہیں ہے جبکہ فوربز انٹرنیشنل کی ایک سروے کے مطابق کاروبار کیلئے بہترین ملک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 102واں ہے جبکہ اسی لسٹ میں پاکستان سے انتہائی چھوٹے اور زمینی وقدرتی وسائل کے فقدان والے بہت سے ممالک پاکستان سے بہترین پوزیشن میں ہیں حالانکہ یہ بات ہرگز نہیں کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے موزوں ملک نہیں ہے کیونکہ چین اپنی اربوں کی سرمایہ کاری کررہا ہے مگر دیگر ممالک کی سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی بہت ضروری ہے۔ملائیشیا اور جاپان نے پاکستان میں پاکستان کیساتھ اپنے پیداواری زون میں مشترکہ سرمایہ کاری کے اصول پر کام عملی طور پر شروع کردیا تھا اور پاک جاپان اکنامک زون کیلئے کراچی کے نزدیک دھابے جی میں زمین بھی الاٹ کردی گئی تھی مگر ہمیشہ کی طرح اسکی راہ میں بھی ہمارے ارباب اختیار کی لاپرواہی اور غفلت سامنے آئی اور ہم اس جانب مزید آگے نہ جاسکے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت ہمارے تمام سنجیدہ حلقوں کیلئے سب سے بڑا لمحہ فکریہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے ملک میں کس طرح سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرکے ملکی سرمایہ کاروں کو اس طرف راغب کرسکتے ہیں۔ ان تمام تلخ حقیقتوں کے باوجود ہمارے ارباب اختیار دنیا کی اٹھارویں معاشی طاقت بننے کے دعوے اور خوش فہمیوں کے سمندر میں رہنا چاہتے ہیں ۔گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے'زراعت'معدنیات میں سرمایہ کاری کے بے بہا ذرائع ہیںاگر ہم اس پر کام کریں تو یہ شعبہ جات پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے میں اہم کردار اداکرسکتے ہیں۔ یہ خطہ وسیع پیداوار کے مواقع، افرادی قوت، اسٹریٹجک حیثیت، جدید لاجسٹک انفراسٹرکچر اور تمام ضروریات کو پورا کرسکنے والے ترغیبی پروگراموں کی بدولت بین الاقوامی براہ راست سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنجیدہ کشش اورمرکزی خصوصیت کا حامل ہے۔