گندم کا معاملہ اسمبلی میں لانے کا اعلان

 وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ گندم کا معاملہ بہت اہم ہے جسے ہر صورت حل کرنا ہوگا ورنہ یہ معاملہ ہر آنے والی حکومت کیلئے مسئلہ پیدا کرتا رہے گا۔ جب بھی گندم کے بارے میں کوئی فیصلہ ہوگا تو تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر ہی کیا جائے گا اسی لے ہم اس معاملے کو اسمبلی میں لے کر جائیں گے اور اپوزیشن کی مشاورت سے جامع حل نکالیں گے۔ گلگت میں صوبائی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا  کہ ہوٹل، تندور اور باہر سے آنے والے سیاحوں کو سبسڈی روک دینگے،کیونکہ سبسڈی کی مد میں رقم فکس ہوتی ہے لیکن آبادی بڑھ رہی ہے اس وجہ سے گندم  کے معاملے پر ایک بڑا فرق سامنے آرہا ہے جسے عوام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گندم کی قیمت کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سارے سٹیک ہولڈرز کی مکمل مشاورت سے ہی ہوگا،ہمیں اس معاملے کو حل کرنا ہی پڑے گا کیونکہ یہ ہر آنے والی حکومت کیلئے مسئلہ پیدا کریگا۔ اسی لے جب بھی وفاق سے قیمت بڑھانے کی ڈیمانڈ آئی تو ہم نے انکار کردیا۔ ہم نے قیمت نہیں بڑھائی، جبکہ ن لیگ اور پی پی دونوں نے قیمت بڑھائی اور ان کے حکومت کے آخری دنوں میںشدید بحران بھی پیدا ہو گیا۔خالد خورشید کا کہنا تھا کہ گندم کی ایک بوری جو پی پی یا ن لیگ کے دور میں تین ہزار روپے کی تھی اب وہ نو ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، سابقہ ادوار میں ایک بوری پر تین ہزار روپے کی سبسڈی دی جا رہی تھی آج آٹھ ہزار روپے فی بوری پر سبسڈی دینا پڑ ررہی ہے اس وجہ سے کوٹے میں واضح فرق پڑ رہا ہے۔  انہوں نے کہا کہ  محکمے کو ہدایت کی ہے کہ واضح فارمولا تیا رکرے، لوگ دیہات سے شہروں کی طرف رخ کررہے ہیں، شہروں کی آبادی پہلے سے بڑھ رہی ہے اس حساب سے ایک واضح فارمولا بنانا پڑے گا تاکہ گندم کی یکساں تقسیم ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی ٹرانسپورٹیشن کی مانیٹرنگ سخت کررہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ ہماری پوری توجہ بجلی پر ہے، اگلے سال سردیوں تک 13میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک کنسلٹنٹ کے ساتھ متبادل توانائی کے زرائع کے حوالے سے پالیسی پر کام کررہے ہیں جس کے تحت سولر بجلی پر توجہ دی جائے گی اس پالیسی کے تحت ایک گھرانہ ایک سولر پینل لے گا تو اس کا پچاس فیصد حکومت ادا کریگی جبکہ پچاس فیصد اس گھرانے کو برداشت کرنا ہوگا۔ اگر کوئی انتہائی غریب ہے تو حکومت ان کیلئے فری سولر پینل دے گی۔اس طرح ہم گلگت اور سکردو کا آدھا بھی سولر انرجی پر شفٹ کریں تو نہ صرف صاف توانائی میسر آئے گی جبکہ ماحول کیلئے بہتر ہونے کے ساتھ سستی بجلی ملے گی اس کے ساتھ ونڈ انرجی پر بھی کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ کنسلٹنٹ ہائر کیے گے وہ ہمیں بتائیں گے کہ ہمیں کس قسم کا سسٹم چاہیے جو ہماری بجلی کی ضروریات کو پوری کر سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی پر سب سے بڑی سبسڈی دی جا رہی ہے،یہاں ایک یونٹ بجلی کی پیداوار پر بارہ سے تیرہ روپے لگتے ہیں جبکہ حکومت اس کو دو سے چار روپے تک فروخت کرتی ہے، یہ سب سے بڑی سبسڈی ہے جسے آج تک کسی حکومت نے نہیں سمجھایا، چار روپے کے حساب سے ریونیو تین ارب روپے ہونے چاہیے لیکن اس وقت بمشکل پچپن کروڑ روپے ہے۔ ہمیں پورے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت سمارٹ سسٹم، ریجنل گرڈ کا قیام ضروری ہے۔ ڈیزل جنریٹرکے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ڈی جی سیٹس پر بڑی سیاست ہوئی میں یہ نہیں بتائوں گاکہ اس میں کس کا کتنا مفاد تھا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت جیسے علاقے میں بیشمار ہائیڈرو پراجیکٹس لگائے جا سکتے ہیں وہاں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ مزید تیرہ ڈیزل جنرل لے لیں، کانٹریکٹ تیار ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم یہاں موجود پوٹینشل کو چھوڑ دیں اور ڈیزل جنریٹر پر ہی گزارہ کریں، یہاں ہائیڈرو بجلی بارہ سے تیرہ میں پیدا ہو رہی ہے ڈیزل جنریٹر سے 51روپے فی یونٹ پیدا ہوگی اور رینٹ پر یہ 60 میں چلی جائے گی۔ کیا یہ ہم برداشت کر سکتے ہیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دو سال رینٹ پر جائیں گے اس کے بعد ہم متبادل زرائع پر منتقل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے حوالے سے جتنا ظلم گلگت بلتستان کے ساتھ ہوا وہ کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوا۔جتنا پوٹینشل ہمارے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں لیکن اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، ماضی میں کوئی پالیسی بنی نہ ہی کوئی منصوبہ بندی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے حوالے سے ہم پچھلے سال سے بہتر ہے، اگلا سال اس سے بھی بہتر ہوگا،  انہوں نے کہا کہ اگلے سال بارہ گھنٹے سے زیادہ عوام کو بجلی میسر ہو گی ہمارا چار سال کا ٹارگٹ ہے، تب تک سمارٹ سسٹم، ریجنل گرڈ بھی قائم ہوگا، پاور پراجیکٹس بھی لگ چکے ہونگے، آئندہ چار سال میں بجلی کے حوالے سے اہم مسائل حل ہو چکے ہونگے۔