نیٹوافواج کے ناکارہ جنریٹرز کرائے پر لئے گئے،حفیظ الرحمن

مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ کرایے پر حاصل کیے گئے ڈیزل جنریٹر کی لاگت 80 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ نیٹو افواج کے فرسودہ جنریٹر کے ساتھ ٹرانسفارمر اور کیبل بھی کرایے پر حاصل کیے گئے ہیں، صرف تین ماہ میں رینٹ پر لیے گئے جنریٹر، ٹرانسفارمر اور کیبل کی لاگت80 کروڑ روپے ہے۔یہ عوام کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے، ہم نے چیف سیکرٹری کو بھی بتا دیا ہے کہ آپ اس کی ادائیگی نہ کریں ورنہ آپ خود پھنس جائیںگے۔ گلگت میں پارٹی رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سردیوں سے پہلے ہی اقدامات کرنے ہوتے ہیں ہم نے اپنے دور میں بیک اپ کے طور پر بارہ میگاواٹ تھرمل جنریٹر صوبے کو دیا تھا اس کے اوپر سولہ میگاواٹ کا ایک اور پراجیکٹ منظور کیا جس کا ٹینڈر بھی ہوا لیکن جب سپلائی کا وقت آیا تو چیف الیکشن کمشنر نے روک دیا، یہ پراجیکٹ آپ بھی اے ڈی پی میں موجود ہے، 67کروڑ روپے سے سو میگاواٹ کے تھرمل جنریٹر اثاثوں کے ساتھ ہم نے حاصل کرنے تھے، یہ صوبے کا اپنا اثاثہ بننا تھا لیکن وفاق سے فرمائشی پروگرام کے تحت اس کو روکا تاکہ افغانستان میں استعمال ہونے والے نیٹو افواج کے ناکارہ جنریٹر کو کھپایا جائے۔ قانون کے تحت پرانے جنریٹر نہیں خرید سکتے لیکن اپنے ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے رینٹ پر جنریٹر لینے کا فیصلہ کیا ، جنریٹر کے ساتھ ٹرانسفارمر کو بھی رینٹ پر لے لیا اور کیبل کو بھی کرائے پر حاصل کر لیا گیا۔ اب یہ بمشکل تین ماہ چلنا ہے اور اس کی لاگت اسی کروڑ روپے سے زائد ہے، تین ماہ بعد یہ ساری چیزیں واپس جائیں گی۔ انہو ں نے کہا کہ دو ماہ کیلئے اسی کروڑ روپے کتنا بڑ اظلم ہے، اس کی تھرڈ پارٹی آڈٹ کرائی جائے۔ انہو ں نے کہا کہجتنی گندم ہمارے دور میں تھی آج اتنی ہی ہے، ہمارے دور میں معیار اچھا تھا اور تقسیم میرٹ پر ہوتی تھی اس وجہ سے کوئی بحران نہیں تھا، آج یوکرائن کی مضر صحت گندم کھلائی جارہی ہے، سینکڑوں لوگ بیمار ہو گئے ہیں، سوال یہ ہے کہ لیبارٹری سے ثابت شدہ مضر صحت گندم جی بی کو کیوں کھلائی جا رہی ہے، یہ بھی بہت بڑا سکینڈل ہے کہ پاسکو کی گندم دوہزار میں ملتی تھی یوکرائن سے 32سو میں خریدی گئی، اس کیخلاف ہم نے عدالت سے بھی رجوع کیا لیکن وہاں بھی کارروائی بہت سست ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ڈیلر سسٹم ختم کرکے سیل پوائنٹ بنا دینگے، یہ تجربہ ہم نے بھی کیا تھا غلط تھا، ناکام ہوا، اس کو کیوں دہرایا جا رہا ہے۔ آپ گندم میرٹ پر تقسیم کریں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں، کوئی بحران نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بڑی بیڈ گورننس اور کیا ہوگی کہ آٹھ ماہ سے گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں پہنچیں۔ مریضوں کو تڑپتا چھوڑ دیا گیا ہے، انہوں نے ایک اور تجربہ کیا کہ دوائی ڈسٹری بیوٹر ز کی بجائے مینوفیکچرز سے لینا ہے، ڈیپارٹمنٹ سے بارہا کہا کہ یہ تجربہ نہ کریں انہوں نے کہا کہ ہم نے دوہزار بیس میں جس ریٹ پر دوائیوں کا ٹینڈر دیا تھا آج صاف چلی شفاف چلی کی حکومت نے اس سے دو سو گنا زیادہ ریٹ پر ٹینڈر دیا ہے، اس سے بڑا سکینڈل اور کیا ہو سکتا ہے، یہ لوگ آپس میں ڈیل کرینگے، ٹیکہ عوام کو پڑے گا،آٹھ ماہ سے دوائیاں نہیں پہنچیں، مزید چار ماہ باقی رہتے ہیں وہ ویسے ہی گزر جائیں گے اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ میں گندم کے حوالے سے ہمارے وکلا کی جانب سے دائر پٹیشن پر فوری کارروائی کی جائے،گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ ادویات کے حوالے سے جو ظلم ہواہے ، ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں کٹہرے میں لایا جائے۔ ایک طرف عوام کو دو نمبر آٹا دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ادویات عوام کی پہنچ سے دور ہیں، یہ کونسی سازش ہو رہی ہے۔حفیظ الرحمن نے کہا کہ موجود حکومت نے جو تین ہزار نو سو پوسٹیں وفاق سے لائیں ہے وہ ستر سالہ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا۔وفاق سے پوسٹیں لینے کا مطلب یہ ہے کہ پوسٹوں کے ساتھ اس کی فنڈنگ اور فنانس بھی ساتھ لیں اگر ہم نے خود ہی پوسٹیں تخلیق کرنی ہیں تو فیڈرل فنانس سے کنکرنس لینے کی کیا ضروت ہے،۔ موجود حکومت کو یہ کہا گیا ہے کہ آپ کے صوبے کو جو گرانٹ دی گئی ہے اس گرانٹ سے ان پوسٹوں کیلئے پیسے نکالیں اور ساتھ ہی دو ہزار تئیس تک مزید ایک بھی پوسٹ نہ مانگیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دوہزار اٹھارہ سے دوہزار تئیس تک سلیکٹڈ چور اعظم کے دور حکومت میں جی بی کے عوام کو پی سی فور کی کوئی بھی پوسٹ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوہزار اٹھارہ سے بیس تک جب ہماری حکومت تھی تو وفاق نے ایک پوسٹ بھی نہیں دی، ہم لڑتے رہے آخر میں ہمیں ایک لیٹر دیا گیا کہ آپ کے پاس پیسے ہیں تو خود جا کر پوسٹیں تخلیق کریں۔ جب ہم نے خود ہی پوسٹیں تخلیق کرنی ہے تو فیڈرل سے کنکرینس لینے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ نون لیگ کی حکومت آئی تو صوبے میں ایک سو پچاس ڈاکٹر تھے ہم نے چھ سو ستر ڈاکٹر بھرتی کیے، ٹیکنکل سٹاف سات سو کے قریب تھا ہم نے پہلی دفعہ بائیس سو تک پہنچا دیا۔ ایجوکیشن میں ایف پی ایس سی کے زریعے گریڈ سولہ کی پوسٹوں پر بھرتیاں کرائیں۔ چودہ سکیل کے ایک ہزار سے زائد بھرتی کیے۔ انہوں نے کہاکہ سوست بارڈردوہزار انیس سے بند ہے، اسی سرحد کے زریعے ہماری تیس فیصد بیروزگاری دور ہوتی تھی، لیکن آج تاجکستان، کرغزستان کے ساتھ چینی سرحد کھلی ہے وہاں تجارت ہو رہی ہے صرف پاکستان کے ساتھ سرحد بند ہے۔ ہزاروں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں، سینکڑوں تاجر دیوالیہ ہو گئے ہیں۔ چار ہزار مزدور بیروزگار ہو چکے ہیںسلیکٹڈ حکومت نے چائنا حکومت کو بھی ناراض کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت تھی تو کویڈ کے دور میں ہم نے سنکیانگ صوبے سے رابطہ کیا تو وہاں سے ٹرکوں کے ٹرک بھر کے امدادی سامان آئے آج صورتحال سب کے سامنے ہے۔ حفیظ الرحمن نے کہا شیڈول ریٹ بڑھانے کے بعد گلگت بلتستان کے ترقیاتی پروگرام کیلئے ایک سو ارب روپے اضافی درکار ہونگے لیکن ترقیاتی بجٹ کیلئے صرف چودہ ارب روپے مختص ہے اس طرح آئندہ پندرہ سالوں تک ایک ہی پروگرام کیلئے یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ترقیاتی بجٹ کے چودہ ار ب روپے میں سے تیس فیصد بھی استعمال نہیں ہوا ہے۔حفیظ الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی ڈی سی ہوٹلزمحکمہ پی ڈبلیو ڈی گلگت بلتستان کی ملکیت ہے اس لیے جی بی میں موجود پی ٹی ڈی سی ہوٹلوں کو صوبائی حکومت کو واپس کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف نان لوکل کو زمینوں کی فروخت پر پابندی لگائی جا رہی ہے تو دوسری طرف کس قانون کے تحت پی ٹی ڈی سی ہوٹلز کو پرائیویٹ سیکٹر کو نیلام کیا جا رہاہے، اس نیلامی میں اس طرح کی شرائط رکھی گئی ہیں کہ کوئی جی بی کا بندہ اپلائی بھی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ زمینوں کے حوالے سے حکومت نے کوئی قانون بنایا ہے تو اچھی بات ہے لیکن ایگزیکٹو آرڈر کے زریعے آپ پابندی نہیں لگا سکتے۔پہلے ضروری ہے کہ لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کریں اس کو اسمبلی میں لے کر جائیں اور اسمبلی ایکٹ پاس کرے، ورنہ کوئی بندہ عدالت جائے گا، عدالت پوچھے گی کہ ایگزیکٹو کو کس نے اختیار دیاہ ے کہ وہ لینڈ ریونیو ایکٹ میں فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈرامہ بازی ہے، ایک طرف پابندی لگائی جا رہی ہے تو دوسری طرف پی ٹی ڈی سی کو نیلا کیا جا رہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ٹی ڈی سی کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے۔پریس کانفرنس میں حفیظ الرحمن نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے ہائیڈل پراجیکٹ کے پراجیکٹ منیجر( پی ڈی) لگانے کیلئے تیس سے چالیس لاکھ روپے کی بولی لگا رکھی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ہائیڈل پراجیکٹ کیلئے فنڈنگ نہیں ہے لیکن پی ڈی کیلئے فنڈنگ موجود ہے، پراجیکٹ سے پہلے گنڈاپور دھڑا دھڑ پی ڈی لگوا رہے ہیں، بولی لگ رہی ہے، فی پی ڈی تیس سے چالیس لاکھ کی بولی لگائی جا رہی ہے۔