Image

حکومت کا چلاس ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

 وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی اور عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانے کےلئے اقدامات کررہی ہے۔صوبائی وزیر صحت حاجی گلبر خان اور صوبائی وزیر ایکسائز حاجی شاہ بیگ کی قیادت میں دیامر کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خالد خورشید نے کہا کہ بلاتفریق وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنارہے ہیں۔ دیامر ڈیم کے متاثرین کے چولہا ادائیگیوں کے حوالے سے تحفظات کو حل کرنے کےلئے فوری طورپر چیئرمین واپڈا سے رابطہ کیا جائے گا۔ چلاس کی تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے کےلئے چلاس ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نوٹیفکیشن کے اجراءکےلئے ہدایات جاری کردی ہیں۔ دیامر کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے، جنگلات کے تحفظ اور فروغ کےلئے گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائےگا۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے محکمہ اطلاعات کی جانب سے محکمے کی کارکردگی کے حوالے سے دیئے جانے والے بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اخباری صنعت کو درپیش مسائل حل کرنے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اخبارات کو بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنایا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی سیکریٹری اطلاعات کو ہدایت کی کہ ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کےلئے اقدامات کریں۔وزیراعلیٰ کونیسپاک کی جانب سے استور ویلی روڈ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خالد خورشید نے کہا کہ استور ویلی روڈ کے حوالے سے ورک پلان کیا جائے اور اس پلان پر سختی سے عملدرآمد کریں۔ استور ویلی روڈ اکنامک کوریڈور کی حیثیت رکھتا ہے جس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ وزیر اعلیٰ نے پروجیکٹ ڈائریکٹر استور ویلی روڈ کو ہدایت کی کہ 15جون تک ٹینڈر کا عمل شروع کیا جائے۔ ڈپٹی کمشنر استور کو ہدایت کی ہے کہ زمینوں کے معاوضوں کی ادائیگی کے عمل کو جلد شروع کریں۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر شغرتھنگ استور روڈ کو ہدایت کی کہ استور شغرتھنگ شاہراہ کے ٹینڈر کا عمل جون تک شروع کردیا جائے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر استور ویلی روڈ اور پروجیکٹ ڈائریکٹر شغرتھنگ استور روڈ کو ہدایت کی کہ تین دنوں میں ورک پلان کو حتمی شکل دی جائے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے سیکریٹری تعلیم کی جانب سے ”وزیر اعلیٰ خصوصی اقدامات“ پر عملدرآمد کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں 60 کروڑ سے زیادہ مالیت کے انقلابی اصلاحاتی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ پہلی مرتبہ سکولوں میں دو کلو میٹر سے دور سے آنے والے 6thسے میٹرک تک بچے اور بچیوں کےلئے ٹرانسپورٹیشن وظیفہ شروع کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 20ہزار طلباءو طالبات اس وظیفے سے استعفادہ حاصل کریں گے۔حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے سکولوں کے انرولمنٹ میں اضافہ ہوگا اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہونے والے طالب علموں کو مزید تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ تعلیم سب کےلئے حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سیکریٹری تعلیم کو ہدایت کی کہ جون میں 20ہزار طلباءو طالبات کو ٹرانسپورٹیشن وظیفہ کی ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلی مرتبہ سرکاری سکولوں میں ماڈل ای سی ڈی کے قیام کےلئے درکار وسائل فراہم کئے جارہے ہیں۔ حکومت کے اس خصوصی اقدام کی وجہ سے بنیادی نظام تعلیم میں بہتری آئے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے تحت صوبے کے ایک ہزار افراد کو 42مختلف مہارتوں میں ٹیکنیکل ٹریننگ دی جارہی ہے ۔ مستقبل میں یہ ہنر مند افراد معاشرے کے کارآمد شہری ثابت ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے محکمہ بلدیات کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ بلدیات انتہائی اہم محکمہ ہے۔ حکومت گلگت بلتستان اس محکمے کو درکار وسائل فراہم کرے گی اور ادارے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کےلئے اصلاحات متعارف کرائے گی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے سیکریٹری بلدیات کو ہدایت کی کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو جلد حتمی شکل دیں۔ سیکریٹری بلدیات نے وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراءکو محکمے کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔