Image

اصلاحات میں رکاوٹ ، انقلاب کو دعوت

زاہد محمود 


کہنے اور پڑھنے کو تو یہ صرف ایک جملہ یا ایک سلوگن ہے مگر حقیقت میں قوموں اور ریاستی تاریخ کا نچوڑ ہے اور ریاست پاکستان کے مقتدر حلقوں کے لیے ایک پیغام ہے جسے ریاست کے دوراندیش لوگ جتنا جلد سمجھ جائیں اتنا ہی جلد ہمارا سفر آگے کی جانب شروع ہوسکتا ہے۔ہماری ریاست اس وقت جس قسم کے مسائل کا سامنا کررہی ہے وہ صرف اور صرف مقتدر طبقہ کی عوام الناس کو کمی کمین سمجھنے اور خود کو عقل کل سمجھنے کی وجہ سے ہے ریاستیں جبر اور تشدد کی بنیاد پر زیادہ عرصہ نہیں چلتیں اور نہ عوامی تائید کے بغیر کوئی بھی ریاست اپنے مقاصد حاصل کرسکتی ہے ایسا کرنے والی ریاستیں جس قسم کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں آج ان ہی مسائل کا ہم بھی سامنا کررہے ہیں۔دنیا کی سب سے بڑی جماعت چینی کیمونسٹ پارٹی کے موجودہ جنرل سیکرٹری اور عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پنگ کے مطابق عوام ہمارے استاد ہیں اور ہمیں ہر مسئلے کے حل کے لیے عوام سے رجوع کرنا چاہئے ۔ یہ خیالات تمام کی تمام سیاست کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں یہ ہوتی ہے لیڈرشپ اور یہ ہوتی ہے عوام کی طاقت کا ادراک رکھنے والی قیادت جس پر عوام اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں اور ان کے کہے کو مذہبی فریضہ سمجھ کر پورا کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں عوام کے نام نہاد نمائندوں کی جانب سے جس بدترین طریقے سے عوام کا جذباتی استحصال کیا جاتا ہے اور ان کو بھیڑ بکریاں سمجھ کر ریاستی اور ملکی معاملات میں انکی اہمیت سے درگزر کیا جاتا ہے اس سے عوام کا اعتبار اپنی ریاست، ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت سے اٹھ چکا ہے جو کہ بہت ہی بڑے خطرے کی علامت ہے اور جس خطرناک طریقے سے عوام کا اداروں اور ریاستی نظام سے اعتبار ختم ہورہا ہے وہ کسی بہت بڑے طوفان کا پیشہ خیمہ ہے۔ ابھی چند ہی ماہ پہلے کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اور دو ماہ پہلے کی حزب اختلاف عالمی کساد بازاری کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی پر جس بدترین طریقے سے عوامی جذبات کو ابھار کر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کررہی تھی آج وہی افراد پیٹرولیم مصنوعات پر 30 روپے اضافے کا اعلان کررہے ہیں اور نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان حکومت نے یہ اضافہ نہیں کیا تھا جو کہ آج ہمیں کرنا پڑرہا ہے ۔ میں بہت سے مواقع پر عمران خان کا ناقد رہا ہوں لیکن جس بدترین طریقے سے عمران خان حکومت کو ہٹایا گیا اور ضمیر فروشی اور چھانگا مانگا کی سیاست کو زندہ کیا گیا اسکی دنیا کی کسی بھی مہذب جمہوریت میں مثال نہیں ملتی، عمران حکومت نے جہاں بہت سی کامیابیاں سمیٹیں وہیں پر وہ اپنی پارٹی کے بنیادی منشور کے اہم ترین جز یعنی ادارہ جاتی اصلاحات (Institutional reforms) کرنے میں ناکام رہے وجوہات چاہے جو بھی ہوں لیکن بہرحال اسے عمران حکومت کی ناکامی گردانا جائے گا اور بطور پارٹی چئیرمین عمران خان نے کیوں اپنے بہترین ساتھیوں کو نظر انداز کرکے ایسے افراد کو ٹکٹ دیے جو چند ہی دن پہلے کسی اور سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم پر تھے، اگر اپنے دور اقتدار میں عمران حکومت پنجاب پولیس میں اصلاحات کرجاتی تو آج جس طرح کی بدترین پکڑ دھکڑ اور پولیس کی جانب سے غیر انسانی سلوک جو تحریک انصاف کے کارکنان کے ساتھ کیا گیا وہ کبھی نہ ہوتا، اگر احتساب پر پورا زور ڈالا گیا ہوتا تو آج کبھی بھی آپکو آئی ایم ایف کے پاس جانے اور انکی سخت شرائط ماننے کی ضرورت نہ پڑتی، اگر آپ نے اپنی پارٹی کو ایک ادارہ بنایا ہوتا تو آج آپکی پارٹی کے نام نہاد لیڈر فرمائشی گرفتاریاں کروا کر کارکنان کو پولیس تشدد کے سامنے نہ پھینکتے اور پولیس آپکے 1700 کے قریب کارکنان کو گرفتار نہ کرپاتی۔میں موجودہ حکومت جسکی کریڈیبلٹی پر بہت زیادہ سوالات ہیں ان سے بھی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت ملکی معیشت جس طرح کے ہچکولے کھارہی ہے اس سے نکلنے کا واحد حل انا پرستی سے نکل کر تازہ مینڈیٹ ہے اور سابقہ کی گئی غلطیوں کی تلافی ہے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ایک نیا عمرانی معاہدہ کرنا چاہئے جس کے تحت جس پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں چاہے وہ ثابت شدہ ہیں یا نہیں اس تمام رقم کا بےس فیصد قومی خزانے میں جمع کروایا جائے اور ملک میں آگے بڑھنے کے لیے جمہوریت کو مضبوط کیا جائے کرپشن فری معاشرہ قائم کرنے کی جانب قدم آگے بڑھایا جائے ، یاد رہے کہ معاشی استحکام اور سیاسی استحکام آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور جس بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوگا وہاں پر معاشی عدم استحکام لازمی ہوگا، ہر وہ ریاست جہاں معاشی عدم استحکام ہوگا وہاں نہ تو کرنسی کی ویلیو مستحکم رہتی ہے اور نہ ہی وہ ریاست سرمایہ کاروں کا اعتماد جیت پاتی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیے بغیر کسی بھی ریاست میں صنعتی انقلاب نہیں لایا جاسکتا اور صنعتی انقلاب لائے بغیر کبھی بھی بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار کی فراہمی ممکن نہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست کا دانشمند طبقہ اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور درکار انتخابی، معاشی، انتظامی، تعلیمی اصلاحات کی جائیں تاکہ وقت کے ساتھ ہم بھی بطور قوم آگے بڑھ سکیں معاشرے سے غربت کا خاتمہ ممکن ہو اور خوددار، خود مختار فلاحی ریاست جسکا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا اور ہمیں کتابوں میں دکھایا گیا وہ ممکن ہوسکے ورنہ اس وقت جس طرف حالات جارہے ہیں ہر ذی شعور شخص کی یہ خواہش ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو کسی دوسرے ملک تعلیم اور روزگار کے لیے بھیج دے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور مایوسی یا تو انارکی لے کر آتی ہے یا پھر انقلاب ہماری ریاست فیصلہ کر لے کہ وہ ایولیوشن پروسیس کو سپورٹ کرے گی یا ریوولیوشن کو۔