Image

جی بی میں خود ک±شی یا غیرت کے نام پر قتل

جی ایم شجاع

ماضی قریب تک گلگت بلتستان میں خود ک±شی کو سخت ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا تھا مگر اب گلگت بلتستان میں بھی خود ک±شی جیسے قبیح فعل میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔خودک±شی کے اصل محرکات تو نفسیاتی ماہرین ہی بیان کرسکتے ہیں تاہم معاشرے کے روز مرہ معمولات کا مطالعہ کرنے کے یہ کہاجاسکتا ہے کہ غربت، بے روزگاری، جبری شادی، والدین کی عدم توجہی، امتحانات میں ناکامی اورمعاشرتی بے راہ روی جیسی وجوہات انسان کو اپنی خوبصورت زندگی ختم کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017ء سے 2021 ء تک یعنی گ±زشتہ پانچ سالوں میں 222افراد نے خود ک±شی کرلیا ہے۔ جن میں 118 مرد اور 104 خواتین شامل ہیں۔ اگر ہم بین الاضلاعی سطح پر اس کا جائزہ لیتے ہیں تو اِن پانچ سالوں میں گلگت ڈویڑن کے اضلاع کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ ضلع گلگت میں کل 44 افراد نے خود ک±شی کی ہے جن میں 27 مرد اور 17 خواتین شامل ہیں، ضلع غذر میں کل 111 افراد نے اپنی زندگی کا چراغ گ±ل کردیا جن میں 45 مرد اور 66 عورتیں شامل ہیں، ضلع ہنزہ میں کل 26 افراد نے خودک±شی کرلیا جن میں 15 مرد اور 11 عورتیں شامل ہیں، ضلع نگر میں ایک مرد اور ایک عورت نے ان پانچ سالوں میں خود ک±شی کر لی۔ استور دیامر ڈویژن کے دو اضلاع میں سے ضلع دیامر میں صرف ایک مرد نے اِن پانچ سالوں میں خودک±شی کرلی ہے جبکہ ضلع استور میں اِن پانچ سالوں میں تین مردوں اور دو عورتوں نے اپنی زندگی کا چراغ گ±ل کردیا ہے۔ بلتستان ڈویژن کے چاراضلاع میں سے ضلع سکردو میں اِن پانچ سالوں میں 20 مردوں اور 4 عورتوں نے خود کشی کی ، ضلع گانگچھے میں ایک مرد اور ایک عورت نے اِن پانچ سالوں میں خودک±شی کی ، ضلع شگر میں 5 مردوں اور ایک عورت نے خود ک±شی کی جبکہ ضلع کھرمنگ میں اِن پانچ سالوں میں صرف ایک عورت کے خود ک±شی کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔اگر ہم مزید تفصیل میں جائیں تو سرکاری ذرائع کے مطابق 2017 ءمیں ہونے والے ک±ل 56خود ک±شیوں کے کیسز میں8 قتل ثابت ہوئے اسی طرح 2018ءمیں 46خود ک±شیوں کے کیسز میں 5 قتل، 2019ئ میں46 خود ک±شیوں کے کیسز میں 8 قتل، 2020ءمیں 40 خود ک±شیوں کے کیسز میں سے 6 قتل اور 2021ءمیں 34 خود ک±شیوں کے کیسز میں 7 قتل ثابت ہوئے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کو خود ک±شی کا رنگ دینے کا طریقہ بہت پ±رانا ہے جسے روکنے کے لئے معاشرہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ نہیں دیتا۔ مختصر عرصے میں خودک±شی یا غیرت کے نام پر قتل کے اِن اعداد و ش±مار کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ایک علماءپرور اور دینی ماحول پر مشتمل اس معاشرے میں غیر شرعی فعل کس قدر بڑھتا جارہاہے اس طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ ذمہ دار اداروں کو اِن واقعات میں اپنی زندگی کا چراغ گ±ل کرنے والے افراد کے اہل خانہ سے وجوہات معلوم کرتے ہوئے اس کے تدارک کی ضرورت ہے اس سلسلے میں ب±نیادی کردار ماں باپ کا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح معنوں میں تعلیم و تربیت دیں بچوں سے دوستانہ تعلقات ا±ستوار کرکے ا±ن کے مسائل س±نیں اور حل کریں دوسرے مرحلے میں اساتذہ کرام جنہیں روحانی ماں باپ کا درجہ حاصل ہے ا±نہیں بھی اپنے شاگردوں سے دوستانہ تعلقات ا±ستوار کرکے ا±ن کے روز مرہ کے معمولات اور مسائل دریافت کرسکتے ہیں اور ا±ن کی بہتر تربیت کر سکتے ہیں۔ معاشرے کا سب سے موثر طبقہ علمائے کرام کا ہے جو قرآن و س±نت اور تعلیمات اہلیبیت کی روشنی میں معاشرے کے ہر طبقے کی اچھی رہنمائی کرتے ہوئے اس غیر شرعی فعل سے معاشرے کے ہر طبقے کو روک سکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ حکومتی سطح پر خود ک±شی کے بڑھتے ہوئے ر±حجان کو روکنے کے لئے کوئی خاص حکمت عملی م±رتب نہیں کی جاسکی جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ ماضی قریب میں ضلع غذر میں خود ک±شی کے پے درپے واقعات کے پیشِ نظر ا±س وقت کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن کی ہدایت پر سابق وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال کی سربراہی میں گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے تحقیقات کے بعد اپنی سفارشات پیش کرنی تھی مگر وہ کمیٹی بھی کچھ کر دکھانے میں ناکام ثابت ہوئی۔ موجودہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدن وانی نے چارج سنبھالتے ہی اس اہم مسئلے پر نوٹس لیتے ہوئے اس پر کام شروع کیا ہے ا±مید ہے کہ وہ روایتی انداز سے ہٹ کر کوئی موثر حکمت عملی وضع کریں گے جس کے لئے وہ ہر شعبے کے ماہرین کی خدمات بھی حاصل کرتے ہوئے ہر واقعے کو خود ک±شی کا رنگ دے کر دبانے کے بجائے معاشرے کے ہر طبقے کو اعتماد میں لیتے ہوئے واقعات کی صاف شفاف طریقے سے تحقیقات کے ذریعے حقائق کو سامنے لاتے ہوئے خود کشیوں اور غیرت کے نام پہ قتل کے واقعات کو روکنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے میں کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ہم ہمیشہ ایک واقعے کے بعد کچھ دنوں کے لئے چہل پہل کرتے ہوئے ب±لند بانگ دعوے تو کرتے ہیں مگر ا±س کا مستقل حل تلاش کرنے کے لئے لائحہ عمل طے کرنے کی سعی نہیں کرتے۔ یاد رکھیں پچھلے پانچ سالوں کی صورت ِ حال سے آپ کو آگاہ کیا گیا مگر ا±ن پانچ سالوں کی نسبت رواں سال کے اِن پانچ چھ مہینوں کے واقعات پر نظر دوڑایا جائے تو صورتِ حال انتہائی گمبھیر ہے۔حکومت کو چاہئے کہ اس حساس مسئلے کو اہمیت دیتے ہوئے اس کے اسباب و عوامل معلوم کرنے اور اس تشویشناک صورتِ حال کو روکنے کے لئے ہنگامی ب±نیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے علمائے کرام ، دونوں جامعات (قراقرم انٹرنیشنل یونی ورسٹی اور بلتستان یونی ورسٹی) اور ماہرین نفسیات کی خدمات بھی لی جاسکتی ہے۔ فی الوقت حکومت کو پانی سر سے گ±زرنے سے پہلے تمام اضلاع کے ہسپتالوں میں ماہرین نفسیات تعینات کرنے ہوں گے جو معاشرے میں ذہنی پریشانیوں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ذہنی مریضوں کا مستقل علاج کریں اور خودک±شیوں کے سدباب کے لئے بھی اپنا کردار اداکریں۔۔ چونکہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور توجہ طلب ہے سو ہم نے اپنی شرعی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری ادا کرلی اب ذمہ داروں پر منحصر ہے کہ وہ اس پر غور و فکر کرتے ہوئے موثر حکمت عملی مرتب کرتے ہیں یا پھر حسب روایت صرف نظر کرتے ہیں۔ابھی یہ چند سطور اس اہم موضوع پر لکھ ہی رہاتھا کہ ضلع غذر میں نویں کلاس کی ایک طالبہ کے خود ک±شی کرنے اور ایک سنگل دل باپ کے اپنی ہی ڈیڑھ سالہ بچی کا گلہ کاٹ دئے جانے کی لرزہ خیز خبر نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گلگت بلتستان کے انتظامی سربراہ محی الدین وانی کو فوری طور اس مسئلے پر سخت اقدام ا±ٹھاتے ہوئے اس معاشرتی ناسور کے سدباب کے لئے وقت ضائع کئے بغیر کام کرنا ہوگا۔